اسرائیل اور غزہ میں تازہ ترین صورتحال : غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی: فلسطینی وزارت صحت

وائٹ ہاؤس نے اسرائیلی بچوں کے سر قلم کرنے سے متعلق صدر بائیڈن کا بیان واپس لے لیا: ’مصر نے حماس کے حملے سے چند دن پہلے اسرائیل کو خبردار کیا تھا‘
اسرائیل، فلسطین تنازع کے چھٹے روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2400 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے غزہ پر لگاتار حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں اسرائیل اور غزہ کے تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

خلاصہ

  1. حماس کے حملوں کے بعد غزہ پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ رات ہونے والے حملوں میں مزید 51 افراد ہلاک ہوئے ہیں
  2. اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ناکہ بندی کے دوران شہریوں تک خوراک، ایندھن اور پانی جیسی اشیائے ضروریہ پہنچانے کی اجازت دی جائے
  3. حماس کے حملوں میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے جبکہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں
  4. غزہ کشیدگی کے پس منظر میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے
  5. ایک تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں جنگ کے دوران اقوام متحدہ کے عملے کے 11 ارکان بھی ہلاک ہو چکے ہیں
  6. اسرائیلی فوج کے ترجمان میں لڑائی میں مزید شدت آنے کی تنبیہ کی ہے اور بتایا ہے کہ غزہ کی سرحد کے قریب پیادہ فوج، بکتر بند، توپ خانہ اور تین لاکھ ریزرو فوجی بھیج دیے گئے ہیں

 

غزہ میں حماس کا سرنگ نیٹ ورک فضائی حملوں کا نشانہ ہے: اسرائیلی دفاعی فورسز

غزہ میں حماس

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس کے تازہ ترین فضائی حملوں کا مقصد سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا ہے جو کئی دہائیوں سے حماس کے آپریشن سینٹر کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’غزہ کی پٹی کو شہریوں کی ایک پرت اور اس کے نیچے حماس کی ایک پرت سمجھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 2007 میں حماس کے غزہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے برسوں کے دوران تعمیر کی گئی یہ سرنگیں حماس کے لیے رسد منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کا ایک راستہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سرنگوں کی وسعت اور اہمیت کو اوپر زمین پر موجود گنجان آباد آبادیوں نے پوشیدہ رکھا ہے، جن میں سے بہت سی اب کھنڈرات بن چکی ہیں۔

’جو آنکھوں کو دکھائی دیتا ہے اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ اسرائیلی فضائیہ غزہ کے بہت سے علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ہم جو کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ حملوں میں تمام سطحوں پر کمانڈروں اور حماس کے سینئر رہنماؤں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔‘

’جو کچھ بھی حماس کا ہے، ہم اس پر حملہ کر رہے ہیں۔‘

اسرائیل اور غزہ میں تازہ ترین

  • امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے چند گھنٹوں میں اسرائیل پہنچیں گے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کریں گے۔ فلسطینی سیاسی قیادت مغربی کنارے میں محمود عباس کی فتح پارٹی اور غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والے اس کے اسلامی عسکریت پسند حماس مخالفین کے درمیان تقسیم ہے۔
  • وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں انھوں نے حماس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر دیکھی تھیں۔
  • غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے کیونکہ ہسپتال بجلی سے محروم ہو رہے ہیں جہاں ہزاروں زخمی اپنی زندگیوں کے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایندھن کی کمی کی وجہ سے انکلیو کے واحد بجلی گھر نے گذشتہ روز کام بند کر دیا تھا اور اسرائیل نے چند روز قبل غزہ کو ایندھن، پانی اور خوراک کی تمام فراہمی بند کر دی تھی۔
  • فلسطینی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 1200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حماس کے ہفتے کے اختتام پر ہونے والے حملے میں اسرائیل کی ہلاکتوں کی تعداد بھی 1200 ہے۔ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے غزہ میں کم از کم 150 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
  • اسرائیل نے بدھ کے روز حماس کے خلاف جنگ کی رہنمائی کے لیے حزب اختلاف کے رہنما بینی گینٹز پر مشتمل ایک جنگی صورتحال میں ہدایات جاری کرنے کے لیے خصوصی کابینہ تشکیل دی ہے۔ اس کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ حماس کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ اسرائیل نے ممکنہ زمینی حملے کے لیے غزہ کی سرحد کے قریب تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو جمع کر رکھا ہے۔
  • امریکہ اسرائیل، اقوام متحدہ اور مصر کے ساتھ غزہ میں امداد کی اجازت دینے اور کچھ رہائشیوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے پر بات چیت کر رہا ہے۔
غزہ

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز حماس کے عسکریت پسندوں کے تباہ کن حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے علاقے میں فضائی حملے شروع کیے جانے کے بعد سے اب تک 1200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دونوں اطراف سے ہلاکتوں کی تعداد اب تقریبا 2500 ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر حماس کے مسلح افراد نے 1200 اسرائیلیوں کا قتل عام کیا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading