ترکی کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ ایران سے داغا گیا اور ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک میزائل کو نیٹو افواج نے مشرقی بحیرہ روم میں تباہ کر دیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ میزائل کے ٹکڑے غازیانتپ کے خالی کھیتوں میں گرے اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی خطرے کے خلاف ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
خلاصہ
ایرانی میڈیا کے مطابق علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ملک کے نئے رہبر اعلیٰ بن چکے ہیں اور ان کی قیادت میں اسرائیل پر نئے میزائل حملے کیے گئے ہیں
ترکی کی حدود میں ایرانی میزائل تباہ کر دیا گیا: ‘زمینی اور فضائی حدود کے خلاف ہر خطرے پر بلا جھجھک کارروائی کریں گے’
اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں
بحرین کی توانائی کی سرکاری کمپنی بابکو نے ‘غیر معمولی حالات’ کے باعث معاہدے معطل کر دیے
اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا پورا حق حاصل ہے: سعودی عرب کا ایرانی حملوں پر ردعمل
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے رہائشی علاقے میں ممنوعہ سفید فاسفورس کا استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ
جہاں ایک طرف ایران میں 1300 سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں تو وہیں امریکی فوج کے مطابق اب تک اس کے سات فوجی ہلاک ہو چکے ہیں
شیئر, قومی فریضہ سرانجام دیتے ہوئے مسلح افواج کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے: متحدہ عرب امارات
ترک فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائل کو تباہ کر دیا گیا: وزارت دفاع
ترکی کا کہنا ہے کہ نیٹو فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغا گیا دوسرا بیلسٹک میزائل مار گرایا، جو ترک فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی خطرے کے خلاف ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
وزارتِ قومی دفاع نے اعلان کیا کہ ایران سے داغا گیا اور ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک میزائل کو نیٹو افواج نے مشرقی بحیرہ روم میں تباہ کر دیا۔ وزارت نے کہا کہ میزائل کے ٹکڑے غازیانتپ کے خالی کھیتوں میں گرے اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ گذشتہ ہفتے کے دوران دوسرا ایرانی بیلسٹک میزائل ہے جس نے ترکی کے جنوب کو نشانہ بنایا۔ ترکی، جو نیٹو کا رکن اور ایران کا پڑوسی ہے، نے سنیچر کے روز ایران کو دوبارہ حملے سے باز رہنے کی وارننگ دی تھی، لیکن اس نے اتحادیوں سے مزید تحفظ کے لیے باضابطہ درخواست دینے کا عندیہ نہیں دیا۔
ترک وزارتِ دفاع نے کہا کہ ’ہم ایک بار پھر زور دیتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سرزمین اور فضائی حدود پر کسی بھی خطرے کے خلاف تمام ضروری اقدامات بلا جھجک اور فیصلہ کن انداز میں کیے جائیں گے۔‘
وزارت نے مزید بتایا کہ کچھ گولہ بارود کے ٹکڑے جنوب مشرقی صوبے غازی عینتاب میں گرے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ واضح نہیں کہ میزائل کہاں جا رہا تھا، اسے مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات نیٹو دفاعی نظام نے روک لیا۔
امریکی فضائیہ جنوبی ترکی کے انجرلیک بیس پر موجود ہے، جبکہ شمال مشرقی صوبہ ملاتیا میں نیٹو کا ریڈار بیس ہے جو اتحادیوں کے لیے اہم دفاع فراہم کرتا ہے۔ انقرہ نے کہا کہ میزائل کے ٹکڑے غازی عینتاب کے خالی کھیتوں میں گرے۔
ترک صدر طیب اردوان کے مواصلاتی ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے کہا کہ انقرہ تمام فریقوں، خصوصاً ایران، کو سختی سے خبردار کر رہا ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے کے استحکام اور شہریوں کو خطرے میں ڈالیں۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایران پر اسرائیل کے ساتھ مل کر کیے گئے فضائی حملوں میں انجرلیک بیس استعمال نہیں کیا، جس کے جواب میں تہران نے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ایران نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس نے بار بار کہا ہے کہ وہ خطے کے ممالک کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے اور ترکی کو براہِ راست نشانہ نہیں بنا رہا۔
ترکی، جو فضائی جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوشش کر رہا تھا، نے کہا ہے کہ فی الحال اس کا نیٹو کے آرٹیکل 4 کو استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جس کے تحت کسی رکن ملک کو خطرہ لاحق ہو تو اتحادی مشاورت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
یہ قدم آگے چل کر آرٹیکل 5 کے نفاذ کی طرف لے جا سکتا ہے، جس کے تحت نیٹو کو اپنے کسی رکن ملک کے دفاع کے لیے متحرک ہونا پڑتا ہے۔