ناندیڑ میں ریاست کے پہلے اردو گھر کا اشوک چوہان کے ہاتھوں افتتاح

ناندیڑ: ریاست میں اردو کی ترقی اورمراٹھی واردو کے مابین تخلیقی نظریات کے فروغ کے لئے محکمہ اقلیتی ترقیاتی امور کے ذریعہ تعمیر کردہ ریاست کے پہلے اردوگھر کا آج یہاں وزیربرائے تعمیراتِ عامہ اشوک چوہان کے ہاتھوں ایک شاندار تقریب کے دورانافتتاح ہو۔ اس تقریب کی صدارت ریاست کے اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کی جبکہ سابق اقلیتی امور کے وزیر نسیم خان مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجودتھے۔افتتاح کے فوراً بعد نسیم خان نے اس اردو گھر کو شہنشاہِ جذبات دلیپ کمار کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز پیش کی جس کی اشوک چوہان نے تائید کی اور جسے نواب ملک نے اسے فوراً ہی منظوری دیدی۔ واضح ہو کہ سابقہ کانگریس واین سی پی کی حکومت نے ریاست میں اردو کے فروغ کے لئے ریاست بھر میں ۶/اردوگھرتعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعدیہ فیصلہ التواء کا شکار ہوگیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس فیصلے پر تیزی سے عمل درآمد کرتے ہوئے آج پہلے اردو گھر کا افتتاح کردیا۔

اردو گھر کا افتتاح کرتے ہوئے وزیربرائے تعمیراتِ عامہ اشوک چوہان نے کہا کہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اردوہماری ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی زبان ہے تو غلط نہ ہوگا۔ میرے والدِ محترم نہ صرف اردو سے واقف تھے بلکہ ان کی تعلیم بھی اردو سے ہوئی تھی۔انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کی تھی۔انہوں نے مہاراشٹر میں اردو اکیڈمی کی بنیاد ڈالی۔ میرے پورے گھر کا ماحول اردو ہی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ میں اردو سے خود کو بہت قریب محسوس کرتا ہوں۔

اشوک چوہان نے کہا کہ ریاست میں جب کانگریس واین سی پی کی حکومت تھی تو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ریاست بھر میں اردو گھر تعمیر کئے جائیں جس کے لئے ہم نے ۵ مقامات کا انتخاب کیا تھا۔ آج مجھے خوشی ہورہی ہے کہ جو خواب ہم نے ۷ سال قبل کیا تھا اس کی پہلی تعبیر کا ہم افتتاح کررہے ہیں۔ اشوک چوہان نے اردو گھر کی تعمیر کے لئے سابق اقلیتی امور کے وزیر نسیم خان اور موجودہ اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تعمیر میں بھی بہت سی دشواریاں پیش آئیں لیکن جس طرح متعلقہ وزارت نے اسے حل کیا وہ اس کی اردو سے محبت کی مثال ہے۔

اس موقع پر اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہا کہ اردو نہ صرف برصغیر بلکہ پوری دنیا میں رابطے کی ایک بڑی زبان ہے، لیکن ہمارے ریاست کی زبان مراٹھی ہے۔اس لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ اردو کا فروغ ہو تو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ مراٹھی زبان کے تخلیقی نظریات سے اردو داں طبقہ استفادہ کرے۔ انہیں مقاصد کے تحت حکومت نے ریاست بھر میں اردوگھروں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ ناندیڑ میں اردو گھر کی تعمیر کے لئے8.16کروڑروپئے کا فنڈ منظور کیا گیا تھااورآج اس کا افتتاح عمل میں آرہا ہے۔

شولاپور میں اردو گھر کی تعمیرآخری مرحلے میں ہے جس کے لئے اب تک 6.82کروڑ روپئے کافنڈ جاری کیا جاچکا ہے۔ مالیگاؤں کے اردوگھر کا تعمیری کام مکمل ہوچکا ہے اوراس کو شروع کرنے کی کارروائی آخری مرحلے میں ہے۔ ممبئی میں ممبئی یونیورسٹی کالینہ کے کیمس میں اردو گھر تعمیر کرنے کی تجویز ہے جس کی رپورٹ جلد ہی یونیورسٹی کی جانب سے حکومت کو پیش کی جائے گی۔ ناگپورمیں اسلامک کلچرل سینٹر کی عمارت کو اردو گھر کے طور پرتیار کیا جارہا ہے، جس کے لئے 50لاکھ روپئے کا فنڈ جاری کیا جارہا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ ان اردوگھروں کے تعمیری کاموں کو جلد ازجلد مکمل کرتے ہوئے انہیں اردوزبان کے فروغ کے لئے شروع کرنے کے لئے محکمہ اقلیتی امور کی جانب سے تیزی سے کام کیا جارہا ہے۔مجھے یقین ہے کہ اردو زبان کو فروغ دینے کے ساتھ مراٹھی اور اردو کے مابین نظریاتی تبادلے کو بڑھاکر ریاست میں ثقافتی تحریک کو مزید مضبوط کرنے میں یہ اردو گھر اہم کردار ادا کریں گے۔

سابق اقلیتی امور کے وزیر وریاستی کانگریس کے کارگزارصدر محمدعارف نسیم خان نے اس موقع پر لوگوں کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے لئے ہم نے جو فیصلہ ۷ سال قبل کیا تھا، آج اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے اور ریاست کے پہلے اردوگھر کا افتتاح ہورہا ہے۔ یہ نہ اردوداں طبقہ کے لئے بلکہ پورے ناندیڑ شہر کے لئے خوشی کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ خوشی ہمیں ہے کہ ہم نے 2014میں جس اردو گھر کا سنگِ بنیاد رکھا تھا اس کا آج افتتاح ہورہا ہے۔بھلے اس کام میں کچھ دیر ہوئی ہو لیکن دیر آید درست آید۔مراٹھواڑہ کے لوگوں کا خواب تھا، اردو زبان سے محبت کرنے والے ہندو مسلم سکھ عیسائی کی مانگ تھی کہ اردو تہذیب کو آگے بڑھانے کے لئے ناندیڑ جیسے شہر میں جہاں ہمارے سکھ بھائی بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں، جو اردوبولتے ہیں پڑھتے ہیں، جہاں اقلیتی طبقے کے لوگ بڑی تعداد میں رہتے ہیں،ان سب کی بہت پرانی مانگ تھی کہ اردوگھر بنایا جائے اور آج اس کا افتتاح ہورہا ہے۔

میں اس کا پورا کریڈیٹ اشوک راؤ چوہان کو دیناچاہتا ہوں، کیونکہ جب وہ وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے اقلیتی محکمہ کو بھرپور مدد اور تعاون کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مجھے یاد ہے کہ جب میں اقلیتی امور کا وزیر تھا تو انہوں نے کہا کہ نسیم بھائی پوری ریاست میں اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے الگ الگ اسکیمیں شروع کرو تاکہ مہاراشٹر کی اقلیتوں کو بھی بھی برابر کا مان وسمان اوردرجہ دیا جاسکے۔ ان کو بھی ساری سہولت سے آراستہ کیا جاسکے۔ اور ہمیں خوشی ہے کہ اس وقت محکمہ اقلیتی ترقیاتی امور نے جو اسکیمیں شروع کیں اس میں سے بہت ساری اسکیموں کا فائدہ ناندیڑ کے رہنے والے لوگوں کو ملا ہے۔ یہ عظیم الشان اردو گھر جس کانام سننے پر لوگوں کولگتا ہوگا کہ چھوٹا سا گھر ہوگا لیکن یہاں آنے کے بعدلوگ دیکھیں گے کہ اس میں آڈیٹوریم بھی ہے، یہاں پر ورلڈکلاس لائبریری بھی ہے۔ یہاں پر بچوں کے لئے کلاس روم بھی ہے۔ اسٹڈی سینٹر ہے۔ اورسبھی سہولت سے آراستہ اردوگھر کا جو لوگوں کو خواب تھا اسے پورا کیا گیا ہے۔

واضح ہو کہ یہ اردو گھر ناندیڑ میں مدینہ نگر میں تعمیر ہوا ہے جس کی تعمیر کے لئے ۸کروڑ16/لاکھ روپئے کا فنڈمنظور کیا گیا تھا۔ ڈیڑھ ایکڑ کے رقبے پر محیط اس اردو گھر میں 550نشستوں پر مشتمل کانفرنس ہال، جدید ترین لائبریری، 2دارالمطالعہ (ریڈنگ روم)اوراردو کے صحافیوں، مصنفین،شعراء و ادباء کے قیام کے لئے تمام ترسہولیات سے مزین مہمان خانے بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حفاظتی چہاردیواری، پارکنگ شیڈ، درمیانی راستے، پمپ ہاؤسیشن ٹرٹمنٹ بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔

محکمہ اقلیتی امور نے ریاست کے جن دیگر شہروں میں اردو گھرکی تعمیر فیصلہ کیا تھا ان میں شولاپور، اورنگ آباد، مالیگاؤں وممبئی بھی شامل ہیں۔ ناندیڑ اورممبئی میں اردوگھر کے تعمیری کام کا افتتاح 2014میں ہی ہوگیا تھا، لیکن حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے ہی اس کا تعمیری کام التواء کا شکار ہوگیا تھا۔ لیکن موجودہ حکومت نے اپنے سابقہ فیصلے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس کو اولین ترجیح میں مکمل کرنے کا اعلان کیاتھا جس کے تحت ناندیڑ کے اردو گھر کا افتتاح ہوا اوردیگر مقامات پر تعمیری کام اپنے آخری مرحلے میں ہے۔اس افتتاحی تقریب میں ریاستی وزیرڈاکٹر ویشواجیت کدم، امرناتھ راجورکر، ڈی پی ساونت، مادھوراؤ جولگاؤنکر، میئر موہنی یونکر، امولگیکر تائی، محترمہ جئے شری مکھرجی واقلیتی محکمہ چیف سکریٹی وغیرہ جیسی کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔