ٹی ای ٹی کے خلاف مراٹھواڑہ اسو سی ایشن آف اردو ایجوکیشن سوسائٹیز کی عاجلانہ کاروائی

ناندیڑ:9ستمبر(راست) حکومت ہند کی جانب سے لازمی مفت تعلیم قانون2009 کے نفاذ کے بعد اقلیتی طبقے کے بنیادی حقوق میں مداخلت ہونے کی وجہ سے ملک گیر سطح پر مختلف تنظیموں کی جانب سے اس ایکٹ کے خلاف کاروائیاں کی گئی تھیں۔ جس میں پارامتی ایجو کیشن ٹرسٹ و دیگر بنام یونین آف انڈیا و دیگر کے مقدمے میں عدالت عظمیٰ نے (WRIT PETITION (C) No. 416 OF 2012 )میں واضح اور حتمی طور پر اپنے فیصلے میں رائٹ ٹو ایجوکیشن ۲۰۰۹ کو اقلیتوں کی حد تک غیر دستوری قرار دیا تھا۔باوجود اس کے حکومت مہاراشٹر نے مختلف جی آر اور مختلف احکامات اقلیتوں کے حقوق کو متاثر کرتے ہوئے جاری کیے گئے ہیں جیسے کہ انجمن اشاعت تعلیم اورنگ آباد کے تقرر کردہ ٹیچر کو منظوری دینے سے محض اس لیے انکار کیا گیا تھا کہ وہ حکومت کے منعقدہ ٹی ای ٹی امتحان میں کامیاب نہ تھا۔محکمہ تعلیمات کے اس فیصلے کو انجمن اشاعت تعلیم اورنگ آباد نے رٹ پیٹشن نمبر 1164/2015داخل کی تھی۔ جس کا فیصلہ جسٹس شندے اور پی آربورا ججس کی ڈیویژن بینچ نے ۸ مئی ۲۰۱۵ کو سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہو ئے محکمہ تعلیمات کے احکا مات کو کالعدم قرار دیا۔ اسی طرح آشرم اسکول چھپا نیر تعلقہ کنڑ ضلع اورنگ آباد (اقلیتی ادارے کے امیدوار)نیورتی رام کشن‘ شکشن سیوک کو اس لیے منظوری نہیں دی گئی تھی کہ وہ ٹی ای ٹی امتحان کامیاب نہیں تھا۔ اس لیے اس کی داخل کردہ رٹ پٹیشن نمبر1251/2016 میں فیصلہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے 17 جنوری 2018 کو مذکورہ سپریم کورٹ کی نظری کے مطابقت میں متعلقہ محکمہ کے احکامات کو رد قرار دیا۔ آزاد ایجوکیشن سوسائٹی میرج نے حکومت مہاراشٹرا کے جی آر مورخہ23 اگست2013 جس میں ٹیچر کے تقرر کے لیے ٹی ای ٹی ٹیسٹ شرط اول اور لازمی قرار دی گئی ہے۔ جس کے خلاف آزاد ایجوکیشن سوسائٹی میرج نے ذریعہ رٹ پیٹیشن نمبر 4640/16داخل کی۔ جس کا فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس بی آر گوئی اور بی ٹی قلابہ والا ججس نے مورخہ12 دسمبر2017 کو فیصلہ دیتے ہوئے انجمن اشاعت تعلیم کی رٹ نمبر 1164/15کے پیراگراف نمبر 8 میں حوالہ تو دیا ہے لیکن اس کی روح کے خلاف رٹ پیٹیشن کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مہاراشٹر کے جی آر مورخہ23 اگست 2013میں کسی قسم کا سقم نہیں ہے۔۔جس کے بعد حکومت مہاراشٹرا نے24 اگست2018 کو اپنے احکامات کی بنیاد آزاد ایجوکیشن سو سائٹی کے فیصلے کو بنا کر احکامات جاری کیے ہیں کہ ٹی ای ٹی کا لزوم اقلیتی اداروں پر بھی ہوگا۔ جس کی وجہ سے مہاراشٹر کے اردو اقلیتی اداروں میں بے چینی پھیل گئی تھی۔حالانکہ آزاد ایجوکیشن سو سائٹی میرج نے مورخہ12دسمبر2017 کو دیے گئے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں specia leave to appeal(C9S/2408/2018) داخل کی گئی ہے جس میں عدالت عظمیٰ نے حکومت مہاراشٹر و دیگر کو نوٹسیس اجراء کیے ہیں جس کی ابتدائی سماعت ۲۰ ستمبر ۲۰۱۸ کو ہونے کی اطلاع ملی ہے۔حال ہی میں پیدا شدہ اقلیتی اداروں کی بے چینی کی بنا پر مراٹھواڑہ اسوسی ایشن آف اردو ایجوکیشن سوسائٹیز کی عاملہ کا اجلاس 8ستمبر 2018 کو اقراءہائی اسکول اورنگ آباد میں عبدالرشید صاحب انج¿نیر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ناندیڑ ‘ بیڑ‘ جالنہ ‘ پربھنی‘ عثمان آباد ‘ لاتور کی اردو ایجوکیشن سو سائٹیز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس اجلاس میں جلگاوں کے ماہر تعلیم عبدالکریم سالار نے شرکت کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کے پس منظراور عدلیہ کے احکامات کی مختلف نظائر کے بارے میں معلومات دی اور فوری طور پر اجلاس کے دوران ہی پونہ کے ماہر تعلیم پی اے انعام دار سے ربط پیدا کرتے ہوئے ان کی مشاورت کے بعد دلی کے ماہر دستور قانون داں سے ربط پیدا کرتے ہوئے20 ستمبر سے قبل آزادا یجوکیشن سوسائٹی کی کاروائی میں اسو سی ایشن کو بطور Intervenor رجوع ہونے کے فیصلے کو منظوری دی گئی۔جس کی بنا پر صدر اسو سی ایشن عبدالرشید انجینیر ‘ سیکریٹری سراج الدین دیشمکھ سابق ایم ایل اے کے علاوہ مینجنگ کمیٹی مدرسہ مدینة العلوم ناندیڑ کے سیکریٹری ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین 13 ستمبر2018 کوصبح5.30 بجے دہلی روانہ ہوکر ماہر قانون کے مشورے کے بعد بطورIntervenor اسو سی ایشن کی جانب سے کاراوئی داخل کریں گے۔