syed matin photo
اورنگ آباد: (جمیل شیخ):گذشتہ ۲روز قبل شام ۴ تا ساڑھے پانچ بجے ممبئی ہائیکورٹ میں ایڈوائزری بورڈ کے کارگذار جج دھرم ادھیکاری ریٹائرڈ جج پنڈت اور جسٹس ہرداس کے روبرو سماعت مکمل ہوئی۔ جس میںسید عبدالمتین کی جانب سے ایڈوکیٹ خضرپٹیل نے پیروی کی۔سید عبدالمتین کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے کہا کہ سید متین پر MPDAقانون کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ پولس نے سید عبدالمتین پر زیر دفعات ۵۹۳،۷۰۳، کا جھوٹا مقدمہ دائر کیا ہے۔ نیز سید عبدالمتین پر عائد کئے گئے دفعات میں یہ دونوں دفعات جھوٹے ہیں۔ ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے اپنی پیروی میں عدالت کو کہا اور بتایا کہ گزشتہ سال ۷۱۰۲ میں ایم آئی ایم ورکرس کی جانب سے چیلی پورہ علاقہ میں شراب کی دکان میں توڑ پھوڑ کے الزام میںسید عبدالمتین پر ۵۹۳ کاجھوٹا کیس دائر کیا گیا تھا۔ اسی طرح مئی ۸۱۰۲ میں اورنگ آباد فساد معاملے میںسید عبدالمتین پر دفعہ ۷۰۳ کا اطلاق کیا گیا ہے جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ کیونکہ ۱۱ مئی کو فساد کے وقت سید عبدالمتین ممبئی میں تھے۔ اس لئے سید عبدالمتین فساد کے کسی بھی معاملےہ میں ملوث نہیں پایاجاسکتا۔ ۲۲ مئی کی رات سید عبدالمتین کو پولس نے دوسرے معاملے میں گرفتار کیا۔ اس لئے سید عبدالمتین ۲۲ تا ۶۲ مئی پولس حراست میں تھا جو کہ ایک معموملی واقعہ تھا جس میں سید عبدالمتین کو ۶۲ مئی کو ضمانت ہوگئی تھی۔ خضر پٹیل نے عدالت سے کہا کہ جو ملزم ۷۱۰۲ سے ۵۹۳ کا ملزم اور بعد میں ۷۰۳ کا ملز م ہے تو پھر پولس اسے ضمانت ملنے کے بعد دوبارہ گرفتار کیوں نہیں کرتی۔ جب پولس نے اسے خطرناک مجرم قرار دے رہی ہے تو اسے گرفتار کیوں نہیں کیا جس پر عدالت نے پولس سے جواب طلب کیا ہے جس پر پولس کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ دریں اثناءعدالت نے پٹیشن پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے سماعت کے بعدسید عبدالمتین کے وکیل کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتہ کورٹ اپنا فیصلہ صادر کرے گی اور توقع کی جارہی ہے کہ سید عبدالمتین پر عائد کیا گیا قانون ایم پی ڈی اے منسوخ کیا جاسکتا ہے جس سید عبدالمتین کی رہائی ممکن ہوسکے۔ سماعت کے دوران پولس انسپکٹر شگارے، کرائم برانچ کے ساونت اور بھانگے استغاثہ کی جانب سے موجود تھے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں