مختصر تعارف سلسلئہ عیدروسیہ

0 42
KT sir
محمد کمال الدین صدیقی ساجد، وساوا نگر، ناندیڑ۔
11ستمبر 2018ئ بروز منگل بعد نما ز عصر زیر نگرانی حضرت حبیب مجتبیٰ بن جعفر العیدروس حفظہ اللہ، بڑی درگاہ، گاڑی پورہ، ناندیڑ میں سید نامر شدنا سید شرف الدین حسنؒ (حبیب حسنؒ ) بن حبیب عید روسؒ کا 118واں عرس شریف منایا جارہا ہے۔ حضرت حبیب مجتبیٰ بن جعفر العیدروس ؒ کے ۶۳ ویں دادا حضرت علی ؓ ہیں۔ حضرت سید شرف الدین حسن ؒ (حبیب حسن ؒ) حبیب مجتبیٰ دامت برکاتہم کے والد حبیب جعفر العیدروس ؒکے چچا ہیں۔حضرت حبیب عید روس ؒ کا وصال 13 ربیع الثانی ۶۴۳۱ہجری کو حیدر آباد میں ہوا۔ درگاہ شریف خطئہ صالحین نامپلی حیدرآباد میں ہے۔ ہر سال 13تا 15 ربیع الثانی آپ کا عرس شریف منایا جاتا ہے۔ سلسلہ عیدروسیہ کا مختصر تعارف پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔سلسلہ عید روسیہ کی ابتدا سے متعلق حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے کتاب انتباہ میں تاریخی واقعہ لکھا ہے۔اسی واقعہ کو مصطفی خاں شیفتہ نے اپنی کتاب سلوک السالکین میں بھی درج کیا ہے۔ واقعہ یو ں ہے کہ قدیم زمانہ میں ملک عرب میں ایک بزرگ مرتبہ¿ قطبیت پر فائز تھے۔ اُن کو لڑکا نہیں تھا۔ وہ کسی صاحب باطن کو اپنا جانشین بنانا چاہتے تھے۔انھوں نے اپنے زمانے کے صوفیاو مشائخین کو ایک مجلس میں دعوت طعام کے لئے مدعو کیا۔ ایک بزرگ نما شخصیت کو مسند پر بٹھایا۔ باہر سے ایک کم عمر لڑکا بغل میں جوتیاں دبائے آگیا۔ اور مسند پر بیٹھی ہوئی بزرگ نما شخصیت کو جوتوں سے بہت مارا۔ مارکھا تا ہو بزرگ نما مجسمہ مسند سے غائب ہو گیا۔ داعی مجلس اس واقعہ پر مسکراتے رہے۔ حاضرین نے جب داعئی مجلس سے معاملہ دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ لڑکے سے ہی پوچھ لیا جائے، لڑکے سے دریافت کرنے پر لڑکے نے جواب دیا بزرگوں کی محفل میں شیطان کو مسند پر دیکھ کر غصہ آیا اور اس کو بے ادبی کی سزا دی گئی۔ داعئی مجلس قطب صاحب نے حاضرین سے کہا کہ میں نے اپنے جانشین کے انتخاب کے سلسلہ میں آپ کو زحمت دی تھی۔ خدا کے فضل سے میرا جانشین مجھے مل گیا۔ یہ کم عمر صاحبزادے عفیف الدین شیخ عبداللہ بن ابی بکربا نی سلسلہ عید روسیہ ہیں۔ان ہی کو شیخ الکبیر اور عیدروس اکبر بھی کہا جاتا ہے عربی میں عیدروس شیر کو کہتے ہیں بہادری اور شیردلی کی وجہ سے آپ کو عیدروس کا لقب دیا گیا۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ اُنھیں سلسلہ عیدروسیہ میں بھی بیعت حاصل تھی۔حضرت حبیب عید روس رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد حضرت حبیب حسین بن احمد ؒ کو بشارتیں ہوئیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکا عطا کریگا۔ اور اس لڑکے کا نام عیدروس ہوگا۔ بشارت کے مطابق ۷۱ ربیع الثانی ۰۲۲۱ئ ہجری میں آپ کی ولادت ہوئی، آپ کا وطن ملک حضر موت میں مقام حوطتہ الحز م(یمن)ہے وہیں آپ کی ولادت ہوئی۔ ولادت کے ساتویں روز عقیقہ ہوا۔ اس تقریب میں رشتہ دار دوست احباب مشائخین اور علماءکرام نے شرکت کی، اور بشارت کے مطابق آپ کا نام عیدروس رکھا گیا۔ جس وقت آپ دودھ پیتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بات چیت کرنے کی قوت عطا کی تھی۔ آپ آسانی سے بسم اللہ باللہ من اللہ الیٰ اللہ علی اللہ پڑھتے تھے۔ جب آپ ۵ سال کے ہوئے تو آپ کی باقاعدہ تعلیم شروع ہوئی۔ آٹھ مہینے میں لکھنے پڑھنے میں مہارت حاصل کی ۔ ایک سال چار مہینے میں قرآن مجید کا پہلا دور تجوید کے ساتھ مکمل ہوا۔ آپ کی ذہانت سے سب حیران تھے۔ آپ کی والدحضرت حبیب حسن ؒ کی آنکھوں کی روشنی ضعیفی کی وجہ سے کم ہوئی تھی۔ آپ کی تمام خدمات حضرت عیدروسؒ انجام دیتے تھے۔ اس کے باوجود رات کے آخر ی حصہ میں اپنے بچپن سے ہی والد کے ساتھ نماز تہجد ادا فرماتے۔ فجر والد کے ساتھ مسجد میں باجماعت پڑھتے۔ آپ کی ظاہری و باطنی تعلیم و روحانی ترقی کی بڑی تفصیل ہے۔ ۰۱ شعبان ۱۸۲۱ ہجری کو پہلی مرتبہ حیدرآباد تشریف لائے۔ اس وقت ایشیاءکے مشہور بزرگ سعداللہ صاحب نقشبندیؒ جن کی درگاہ گھانسی بازار میں ہے۔ بقید حیات تھے اُنھیں خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بشارت دی تھی کہ میرا فرزند حیدر آباد آرہا ہے۔ اس کا خیال رکھنا حبیب عید روسؒ حیدآباد تشریف لائے۔ اور حضرت سعد اللہ ؒ سے ملے۔ اُنھوں نے کہا کہ آپ کی آمد کی اطلاع خواب میں پہلے ہی ملی ہے۔ انھوں نے سلسلہ نقشبندیہ کی خلافت حضرت عیدروسؒ کو عطا کی۔ حضرت عیدروسؒ نے خاندان آصفیہ کے چار بادشاہوں کو دیکھا۔ (۱) ناصر الدولہ (۲) افضل الدولہ (۳) محبوب علی خان (۴) عثمان علی خان آپ کے چھٹے سفر حیدرآباد کے موقع پر آپ ناندیڑ تشریف لے گئے۔ وہاں اوتاد وقت حضرت حسین شاہ صاحب مجذوب المعروف برہنہ شاہ صاحبؒ سے ملاقات کی، آپ کی آمد پر مجذوب صاحب نے کپڑے پہنے کبھی فرمایا شریعت آرہی ہے کبھی فرمایا عربوں کا سیّد آرہا ہے ۔ میر عثمان علی خان بادشاہ وقت نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ؒحیدرآباد میں رہیں، اس لیے آپ ؒنے حیدر آباد میں سکونت اختیار کی، ۳۱ ربیع الثانی ۶۴۳۱ھ کو آپ کا وصال ہوا۔ مزار مبارک خطہ صالحین نامپلی میں ہے ہر سال ۳۱ تا ۵۱ ربیع الثانی کو بڑے اہتمام سے آپ کا عرس شریف منایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ۳۹ سال سے جاری ہے۔ آپ نے بہت سی دینی کتابوں کی تصیح،تصنیف و تالیف فرمائی ہے۔ آپ کے ایک فرزند حضرت سید شرف الدین حسنؒ(حبیب حسن ) کا مزار مبارک بڑی درگاہ گاڑی پورہ، ناندیڑ میں ہے ، ہر سال یکم محرم کو آپ کا عرس شریف منایا جاتا ہے۔یہ سلسلہ تقریباً ۸۱۱ سال سے جاری ہے۔آپ کے فرزند حضرت حبیب مرتضیٰؒ کا مزار مکھیڑ ضلع ناندیڑ میں ہے۔ سلسلہ عیدروسیہ کے بزرگان دین اورنگ آباد ،سورت، احمد آباد، کولکتہ، ممبئی، وغیرہ، میں بھی آرام فرما ہیں، حبیب عیدروسؒ کے وصال کے بعد آپ کے فرزندحضرت حبیب احمد ؒجانشین ہوئے، ۱۱ شعبان ۴۵۳۱ھ میں آپ کا وصال ہوا۔ مزار مبارک خطہ صالحین میں ہے۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت حبیب جعفرؒ گدی نشین ہوئے، آپ پیدائشی ولی تھے۔ آپ کی دعاﺅں سے لوگوں کو بہت فائدہ ہوتا تھا۔ میر عثمان علی خان صاحب آپ کا بہت ادب کرتے تھے۔ اُن کی وصیت کے مطابق اُن کی نماز جنازہ حضرت حبیب جعفر صاحبؒ نے پڑھائی۔ ۶۱ جمادی الاول ۵۹۳۱ئ ہجری میں آپ کا وصال ہوا، آپ کا مزار مبارک بھی خطہ صالحین میں ہی ہے۔آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت حبیب مجتنیٰ صاحب قبلہ دامت فیو ضھم مسند نشین ہوئے۔آپ کے مریدین آندھرا پردیش ،مہاراشٹر، کرناٹک، تامل ناڈو، اور دیگر ممالک وغیرہ میں ہیں۔ آپ کے پاس ہر جمعرات کو حلقہ شریف مقررہے۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھائی ، سکھ بھائی،وغیرہ بھی شریک ہوتے ہیں، اور حضرت قبلہ کی دعاﺅں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، آپ کے مکان پر ہونے والی مجلس اور خطہ صالحین کی مجالس فیضان اولیا اللہ اور قومی یکجہتی کا منظر پیش کرتی ہیں۔حضرت حبیب عیدروسؒ سب کے ساتھ مساوی سلوک کرتے۔ ہر ملنے والا یہ سمجھتا کہ حضر ت مجھ کو ہی زیادہ چاہتے ہیں۔ دعا مانگنے والوں کو حلال کمائی کی نصیحت فرماتے اور توکل کی عادت ڈالنے کو کہتے آپ غریبوں کی مدد کرتے،آپ نے مسجدیں،مدرسے، کنویں بنوائے جب کوئی کہتا کہ آپ کی دعا سے کامیابی صاصل ہوئی تو فرماتے کہو کہ اللہ کے فضل سے ہوئی، دعاﺅں کا سننے والا، نعمتوں کا دینے والا اللہ ہے، شیخ یا مرشد واسطہ ہے۔حضرت حبیب عیدروس ؒکی مطبوعہ وصیت سے کچھ باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی، قرآن کی تلاوت کی نصیحت فرمائی، یہ بھی فرمایا کہ قرآن کی آیتوں پر غور و فکر کرنا چاہے¿۔آپ فرماتے ہیں حضور صل اللہ علیہ و سلم کے طریقے کی جستجو کرتے رہو، ناپسندیدہ بدعتوں سے بچتے رہو۔ دینا کو اپنا غم نہ بنا ﺅ، اللہ تعالیٰ کی عبادت پر جمے رہو، اپنے تمام معاملات کو اسی پر سونپ دو۔ اسی پر بھروسہ کرو، اپنی نمازوں کی حفاظت کرو۔ محبوب چیزوں سے صدقہ دو۔ روزہ کو نفسانی خواہشات کے لئے لگام اور جہنم کی آگ کے لیے ڈھال بناﺅ۔ سب مسلمانوں کے ساتھ اپنی نیتیں پاک رکھو۔ سب کے ساتھ سچائی کا برتاﺅ کرو۔ دیکھو حسد نہ کرنا۔ کینہ عیب جوئی اور کسی کی برائیوں کی تفتیش نہ کرنا۔ نیک گمانی سے کام لو۔ کسی کو بُرے القاب سے نہ پکارو۔ تم میں بعض بعض کی گردنیں نہ مارے۔خدا کے بندو بھائی بھائی بن کر رہو، بہترین اخلاق اختیار کرو۔ جس کی تعلیم کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے، موت کو اکثر یاد کرتے رہو، اور سوچتے رہو کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔ جھگڑوں کی باتوں سے ہمیشہ علحدہ رہو۔میری باتوں سے درگذر کریں۔ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں، جہاں تک ہو سکے قرآن پڑھ کر ثواب پہنچائیں ۔
ہم سب یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالےٰ حضرت حبیب مجتبیٰ صاحب قبلہ کی عمر دراز کرے اُنھیں صحت و تندرستی عطا کرے اور اُن کی دعاﺅں سے سب کو فائدہ پنہچتا رہے (آمین)
پیش کش:فخری کتب خانہ
مسجد تراب الدین‘وساوا نگر،(روبر آئی ٹی آئی) ناندیڑ