Sabikul Nahar poses for a photo with a kid at a refugee camp in Cox's Bazar, Bangladesh on December 19, 2017تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
روہنگیا میانمار میں ایک نسلی اقلیت ہیں

اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کے سبکدوش ہونے والے سربراہ نے کہا ہے کہ میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کو فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف پرتشدد مہم چلانے پر مستعفی ہو جانا چاہیےتھا۔

زید رعد الحسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے نوبیل انعام حاصل کرنے والی سوچی نے وہاں بہانے بنائے جہاں مذمت کی جانی چاہیے تھی۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج پر قتلِ عام کا مقدمہ چلنا چاہیے۔

میانمار نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جاتی۔

بودھ اکثریتی ملک کی فوج پر منظم نسل کشی کا الزام ہے۔ میانمار کی فوج کہہ چکی ہے کہ اس نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا۔

پیر کو سامنے آنے والی اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک طوریل عرصے سے جمہوریت کے لیے مہم چلانے والی آنگ سان سوچی اس تشدد کو روکنے میں ناکام رہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زید رعد الحسین کا کہنا تھا کہ ’وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں تھیں۔ وہ خاموش رہ سکتی تھیں یا اس سے بھی بہتر کہ وہ مستفی ہو جاتیں۔‘

’انہیں برما کی فوج کے ترجمان کے طور پر بولنے کی ضرورت نہیں تھی۔ انہیں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ یہ سب درحقیقت جو ہو رہا ہے اس کی محض معمولی غلط معلومات ہیں۔ اور یہ کہ یہ سب من گھڑت ہے۔‘

Myanmar"s Commander-in-Chief Min Aung Hlaing (L) shakes hands with National League for Democracy (NLD) party leader Aung San Suu Kyiتصویر کے کاپی رائٹREUTERS
میانمار سنہ 2015 میں کمانڈر ان چیف من انگ کے ہمراہ

’وہ یہ کہہ سکتی تھی کہ میں ایک نارمل رہنما بننے کے لیے تیار ہوں لیکن ایسے حالات میں نہیں۔‘

نوبیل انعام کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی کو سنہ 1991 میں دیا کے امن کا نوبل انعام واپس نہیں لیا جا سکتا۔

سوچی نے کہا کیا تھا؟

ایسے میں جب یہ واضح تھا کہ 73 سالہ رہنما فوج کو کنٹرول نہیں کر سکتی ان پر فوج کے مبینہ مظالم کی مذمت کے لیے دباؤ تھا۔ ایک دہائی تک انسانی حقوق کے برادری میں ان کی بطور ہیروئین پذیرائی ہوتی رہی بطور خاص جب وہ 16 سال تک فوجی آمریت کے دنوں میں گھر پر نظر بند رہیں۔ سب سنہ 2012 میں نسلی فسادات شروع ہوئے تو اس وقت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آنگ سان سوچی نے کہا ’مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تو بودھوں کو بھی تشدد کا شکار کیا گیا۔ یہ خوف ہی ہے جس نے مشکلات پیدا کی ہیں۔‘

’یہ سب حکومت کا کام ہے کہ وہ تشدد ختم کرے۔ اور یہ سب ہماری مشکلات اور آمر حکومت کی وجہ سے ہے۔‘

سنہ 2015 میں ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کی انتخابات میں بڑی جیت کے بعد وہ ملک کی رہنما بنیں لیکن اس کے باوجود روہنگیا بحران جاری رہا۔

اس وقت سوچی کے اس پر بیان نے یہ تاثر دیا کہ علاقے میں تشدد کی شدت کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے۔

آخری بار اپریل سنہ 2017 میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میرا نہیں خیال کہ وہاں نسلی کشی ہورہی ہے۔ میرا خیال ہے جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے نسل کشی سخت لفظ ہے۔‘

اگست سنہ 2017 میں تشدد شروع ہونے کے بعد آنگ سان سوچی نے عوامی سطح پر اس حوالے سے بات کرنے کے کئی مواقع ضائع کیے جن میں گذشتہ برس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی تھا۔

جس کے بعد انھوں نے کہا کہ اس بحران کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور یہ ’اصل صورتحال سے متعلق بہت کم اور غلط معلومات ہیں۔‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تنازع کے باعث لوگوں کی مشکلات کی وجہ سے فکر مند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میانمار ریاست میں موجود تمام برادیوں کے لیے مستقل حل کے لیے پر عزم ہے۔‘

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کے باعث اگست 2017 سے اب تک سات لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد مارے گئے۔