جس  وقت رافیل سودے پر بات چیت جاری تھی اسی وقت ریلائنس کر رہی تھی اس وقت کے فرانسیسی صدر کے پارٹنر کی مدد

0 14

نئی دہلی :(وائر اردو ڈاٹ کام سے) رافیل سودے کے بارے میں آئی نئی اطلاع مودی حکومت کی مشکلیں بڑھا سکتی ہیں ۔انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق فرانس کے اس وقت کے صدر فرانسوا اولاند نے جس دن وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ 36رافیل طیاروں کی خریداری سے جڑے معاہدے(ایم او یو)پر دستخط کیے تھے ،اس سے دو دن پہلے انل امبانی کی کمپنی ریلائنس انٹرٹین منٹ نے ان کی دوست اور اداکارہ جولی گائے کے ساتھ ایک فلم بنانے کا سمجھوتہ کیا تھا ۔ جولی اس وقت صدر کے سرکاری رہائش گاہ میں ان کے ساتھ رہتی تھیں۔

اسی سال بعد میں انل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس کو 59ہزار کروڑ روپے کا وہ ٹھیکہ ملا جو دونوں ملکوں کے بیچ ہوئے رافیل سودے کی شرطوں کا ایک حصہ تھا۔اس کے تحت ڈسالٹ ریلائنس ایرواسپیس(Dassault Reliance Aerospace Ltd)ڈی اے آر ایل نام کی ایک نئی کمپنی بنائی جانی تھی جس میں 51فیصدی حصہ ریلائنس ڈیفنس کا ہونا تھا اور باقی یعنی 49فیصد ی رافیل بنانے والی کمپنی ڈسالٹ کا ۔یہ سودے کے آفسیٹ کلاز کے تحت ہوا تھا ۔ اس کے مطابق فرانس کو اس قرار کی کل رقم کا تقریباً 50فیصدی ہندوستان میں دفاعی وسائل اور اس سے متعلق دوسری چیزوں میں سرمایہ کاری کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا رافیل سودا بی جے پی کا بوفورس ثابت ہوگا؟

رپورٹ کے مطابق 24جنوری 2016کو ریلائنس انٹرٹین منٹ نے اعلان کیا کہ وہ فرانسیسی صدر کی پارٹنر جولی گائے کے فرم روگ انٹرنیشنل کے ساتھ ایک قرار کر رہی ہے اور اس کے تحت دونوں مل کر ایک فرنچ فلم بنائیں گے ۔ اس کے بعد 26جنوری کو دونوں ملکوں نے 36رافیل طیاروں کی خرید اری کے سمجھوتے پر دستخط کیا ۔اس سودے پر اولاند کے دورے کے وقت ہی دستخط ہونے تھے لیکن کچھ مالی دقتوں کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا تھا۔ وہیں جس فلم کے پروڈکشن میں ریلائنس حصہ دار بنا تھا اس کو فرانسیسی اداکار اور فلمساز سیویز (Serge Hazanavicius)نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ ٹو لا ہوٹ (Tout La Haut)نام کی یہ فلم 20دسمبر2017 کو فرانس میں ریلیز ہوئی ۔

غور طلب ہے کہ اس سے 8ہفتے پہلے ڈسالٹ کے چیئر مین ایریک اور امبانی نے فرانسیسی وزیر دفاع فلورنس پرلی کی موجودگی میں ناگپور واقع ڈی آر اے ایل کی کسنٹرکشن یونٹ کا افتتاح کیا تھا۔اس موقع پر مرکزی وزیر نتن گڈکری اورمہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بھی موجود تھے ۔واضح ہو کہ رافیل سودے کا اعلان اولاند کے وقت میں ہوا تب وہ گائے کے ساتھ ہی رہ رہے تھے ۔ دونوں کا رشتہ جنوری 2014میں عوام کے سامنے آیا تھا۔دریں اثنا کانگریس اس سودے کو لے کر مودی حکومت پر مسلسل حملہ کر رہی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت نے یہ سودا یوپی اے حکومت کے مقابلے میں تین گنا زیادہ قیمت پر کیا ہے ۔