معاشرے کی اصلاح کیلئے قرآن سے لگاﺅ پیدا کرنے کی ضرورت

حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی کا خطاب
ناندیڑ: 31اگست ( شیخ اکرم) قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ دنیا و آخرت کی کامیابی کے لئے قرآن میں رہنمائی کی گئی ہے۔ جو انسان قرآن کو پڑھ کر اس پر عمل کرے گا وہ دنیا میں بھی باعزت اور سرخرو رہے گا اور آخرت میں بھی۔ قرآن کو ترک کرنا مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم ہے۔ جس کی وجہ سے اُن کے اعمال میں بگاڑ پیدا ہوگیا۔ اور وہ دیگر اقوام کی نظروں میں مغبوض اور بے حیثیت ہوکر رہ گئے۔ مسلمانوں کی اصلاح کے لئے سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انہیں قرآن سے وابستہ کیا جائے۔ قرآن کو پڑھنے، سمجھنے، سیکھنے اور سکھانے کے لئے حتی المقدور کوشش کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز و محترم عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل کیا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے معاشرے کی اصلاح کے لئے سب سے زیادہ توجہ قرآن کو روزانہ پڑھنے پر دینے کی ضرورت ہے۔ جب تک روزانہ ہر عام و خاص مسلمان قرآن نہیں پڑھے گا تب تک قوم کی حالت بدلنا ممکن نہیں۔ آج مسلمانوں کے پاس ہر چیز کے لئے ٹائم ہے۔ اخبار پڑھنے، موبائیل کھیلنے، ٹی وی دیکھنے اور دنیا بھر کی معلومات اکٹھا کرنے کے لئے ٹائم ہے لیکن قرآن پڑھنے کے لئے ٹائم نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے بے شمار مسائل مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اور ان مسائل سے مسلمان پریشان ہیں۔ گھروں میں جھگڑے، نوجوان لڑکیوں کی شادی کے مسئلے، بیوہ عورتوں کے مسائل اور دیگر بہت سارے مسائل عام ہوگئے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ہم ہر طرف ذہن لگارہے ہیں لیکن قرآن کی طرف ہمارا ذہن نہیں جارہا ہے۔ حدیث میں دو چیزوں میں جلدی کرنے کے لئے کہا گیا ہے ( ۱) لڑکی کا نکاح جب وہ شادی کے قابل ہوجائے، (۲) میت کو دفنانے میں جلدی۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار لڑکیاں اپنی عمر پوری کررہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی شادی نہیں ہوپائی۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ لڑکی کے والدین ایک خواب دیکھتے ہیں۔ اس خواب میں وہ اپنے داماد کو ہر اعتبار سے بھرپور دیکھتے ہیں۔ اور حقیقت میں انہیں ایسا لڑکا کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ جو رشتے آتے ہیں اُس میں لڑکے کی کچھ نہ کچھ کمی دیکھ کر رشتے کو ٹھکرا دیتے ہیں جس کی وجہ سے لڑکیوں کی شادی نہیں ہوتی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کچھ نہ کچھ خواب دیکھتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انسان کے ساتھ اُس کی تقدیر جڑی ہوتی ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ حقیقت پسند بنیں۔ لڑکے کی شرافت بہت بڑی چیز ہے۔ اگر کسی شریف لڑکے کا رشتہ آئے تو والدین کو ایسے رشتے کو ترجیح دینی چاہئے۔ اسلام نے بیوہ عورتوں سے یا عمر میں اپنے سے بڑی لڑکی سے بھی شادی کرنے کی ترغیب دی ہے۔ لیکن مسلمان قرآن سے دور ہوجانے کی وجہ سے اسے معیوب سمجھتے ہیں۔ مجموعی اعتبار سے قرآن سے دوری کی بناءپر مسلمان عملی و نظریاتی اعتبار سے حقیقی اسلام سے بہت دور ہوگئے۔ آخر میں مفتی صاحب نے کیرالا کے متاثرین کے لئے حسب استطاعت کام آنے کی اپیل کی۔