شولا پور اور پوسد کے نو جوا نوں کے گرفتاریوں کا معاملہ سپریم کورٹ کا ریاستی حکومت کو نوٹس

ممبئی ۔12 ستمبر ( پریس ریلےز )دہشت گردی کے متعلق سخت ترین قوانین پر مبنی اہم ترین قانونی نکات جسے جمعیة علماءمہا راشٹر کی لےگل ٹےم نے سب سے پہلے اجاگر کےا تھا ،جن بنیادوں پر ملک بھر کی کم از کم اےک سو پچیس سے زائد مقدمات اثر انداز ہوئے ہیں ،سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں ۔اور سپریم کورٹ نے سخت نوٹ لےتے ہوئے حکومت مہا راشٹر اور حکومت مد ھیہ پر دیش کو نوٹس جاری کر دیا ہے ۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے بتایا کہ ےو ۔اے پی ۔ اے 1967 جوکہ ۰۳ دسمبر ۸۰۰۲ءکو تر میم کےا گیا تھا جو کہ ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے سب سے سخت ترین قا نون شمار کےا جا تا ہے ،اس کے عمل طریقہ کار پر ملک میں سب سے پہلے جمعیة علماءمہا راشٹر کے لےگل سکریٹری ایڈوکےٹ پٹھان تہور خان نے عدالت میں کئی اہم قانونی نکات زیر بحث لائے جن میں ریمانڈ ،مجسٹریٹ کورٹ کے اختیارات اور Cognizance اہم پہلو تھے ،جس پر قا نونی ماہرین اور عدلےہ نے اپنے اپنے طور پر رائے قائم کی۔ اس میں کےرل ہائی کورٹ نے حامی بھری ،تو بہار ہائی کورٹ نے استغاثہ کے نظریے سے فیصلہ سنایا الگ الگ رےاستی ہائی کورٹوں کی رائے متفق نہیں ہوئی اس بناءپر آخر کار معاملہ سپریم کورٹ پہونچ گیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعیة علماءمہا راشٹر کی لےگل ٹےم کی یہ اہم اور نا قابل فراموش کار کردگی ہے اس کی بنیاد پر نہ صرف بھو پال ،شو لاپور ،پوسد کے عبد الملک بلکہ ملک بھر کے تمام دہشت گردانہ کاررائیوں سے منسلک جھوٹے مقدمات کی بنیادیں ہل جائےںگی اور برسوں سے جےلوں میں قید بے گناہ نو جوانوں کو راحت ملے گی۔