نئی دہلی:29 اگست(ای میل)پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سیکریٹریٹ کے اجلاس نے پونے پولیس کے ذریعہ ملک کے مختلف حصوں میں حقوق انسانی کے نامور کارکنان و دانشوران کے گھروں پر سلسلہ وار چھاپے ماری اور گرفتاریوں کی سخت مذمت کی ہے۔ اجلاس نے کہا کہ یہ نیا قدم اس بات کی ایک اور واضح مثال ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرکے ملک کے عوام پر غیراعلانیہ ایمرجنسی تھوپ رہی ہیں۔ اس کاروائی کا نشانہ ان وکلائ، دانشوران اورسماجی کارکنان کو بنایا جا رہا ہے جنہیں عوام سماج کے سب سے زیادہ مظلوم طبقات کے بیچ ان کی حقوق انسانی کی سرگرمیوں اور ان کے علمی کارناموں کی وجہ سے بے حد عزیز اور محترم رکھتے ہیں۔ ان کا کسی ایسی بات سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں پایا گیا ہے جو دستور کی روح کے خلاف جاتی ہو۔جس طرح سے پولیس نے گرفتاریوں اور چھاپہ ماریوں کو انجام دیا ہے وہ یقینا اقتدار کے غلط استعمال کا شاہد ہے۔ کچھ افراد سے مبینہ طور پر ان کے طلبہ و متعلقین کے سامنے بڑے تحقیر آمیز انداز میں پوچھ تاچھ کی گئی۔ ان پر لگائے الزامات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ انہیں بہت دور سے کھینچ تان کر لایا گیا ہے جنہیں عوام پہلی ہی نظر میں رد کر دیں گے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مخالفین کو خوفزدہ اور خاموش کرنے کے لیے اقتدار کا اس طرح غلط استعمال بہت ہی خطرناک ہے، جو ایمرجنسی کے سخت ایام کی یاد تازہ کرتا ہے۔ پاپولر فرنٹ کی مرکزی سیکریٹریٹ کا اجلاس سپریم کورٹ سے اس کھلی بدانتظامی کو روکنے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اجلاس حزب اختلاف کی پارٹیوں سے بھی اقتدار کے مراکز کے سامنے بہ آواز بلند حق بات کہنے کی اپیل کرتا ہے۔چیئرمین ای ابوبکر نے اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایم محمد علی جناح، ای ایم عبدالرحمن، کے ایم شریف ، او ایم اے سلام اور عبدالواحد سیٹھ شریک رہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں