دہلی پونے حیدرآباد 28 اگسٹ ۔ وزیراعظم نریندر مودی کو قتل کرنے کی مبینہ سازش کی تحقیقات کے ضمن میں پونے پولیس آج ملک کی کئی ریاستوں میں بیک وقت دھاوے کرتے ہوئے دو سرکردہ جہدکاروں ورا ورا راو¿ اور بدھا بھردواج کو گرفتار کرلیا۔ پونے پولیس کی ٹیم نے حیدرآباد میں سٹی پولیس کے تعاون سے آج 6 بجے صبح انقلابی قلمکار اور انقلابی تنظیم ویراسم کے بانی ورا ورا راو¿ کی قیامگاہ پر دھاوا کرتے ہوئے انھیں گرفتار کرلیا۔ تاہم پونے پولیس نے کہا ہے کہ راو¿ کو بھیما ۔ کوریگاو¿ں کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سال جون میں ان خفیہ اطلاعات کا انکشاف ہوا تھا کہ بائیں بازو کے انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی کو ان کے ایک روڈ شو کے دوران ہلاک کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ پونے پولیس نے عدالت میں انکشاف کیاکہ ایک مشتبہ ماو¿نواز کے قبضہ سے ضبط شدہ مکتوب سے اس سازش کا پتہ چلا تھا۔ ضبط شدہ تین کے منجملہ ایک مکتوب میں ورا ورا راو¿ کاک نام بھی پایا گیا تھا۔ مہاراشٹرا پولیس کے 20 اہلکار سادہ لباس میں آج صبح کی اولین ساعتوں کے دوران چکڑپلی پولیس اسٹیشن کے حدود میں آر ٹی سی چوراہا کے قریب جواہر نگر میں واقع ورا ورا راو¿ کی رہائش گاہ پہونچے اُس وقت گھر میں صرف راو¿ اور ان کی شریک حیات موجود تھیں۔ لیکن اطلاع ملتے ہی سرم شٹی ھیما سائی ہائیٹس اپارٹمنٹ پر ان کے حامیوں کی کثیر تعداد جمع ہوگئی جہاں وہ اور ان کی شریک حیات مقیم ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ راو¿ کی دو دختران انالہ اور پوانا کی رہائش گاہوں پر بھی دھاوے کئے گئے۔ ورا ورا راو¿ نے قبل ازیں ایسی کسی بھی سازش میں ملوث ہونے کے الزامات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔ ایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ حیدرآباد میں بائیں بازو کے جہدکار اور شاعر ورا ورا راو¿ کی رہائش گاہ کے علاوہ ممبئی میں ورنن گونز الویز اور ارون فریرا، فریدآباد اور چھتیس گڑھ میں سدھا بھردواج، دہلی میں شہری آزادی کے جہدکار گوتم نوالکھا کی رہائش گاہوں پر بھی دھاوے کئے گئے تھے۔ پونے پولیس نے دعویٰ کیاکہ 1818 کی بھیما ۔ کوریگاو¿ں جنگ کی 200 سالہ یاد کے ضمن میں گزشتہ سال 31 ڈسمبر کو منعقدہ الگار پریشد کے پرتشدد واقعات کے ضمن میں جون کے دوران گرفتار شدہ پانچ افراد کے منجملہ ایک شخص کے قبضہ سے برآمد مکتوب میں ورا ورا راو¿ کا نام پایا گیا تھا۔ پونے کے وشرام باغ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے بموجب جون میں ان پانچ افراد کو ضلع پونے کے بھیما کوریگاو¿ں موضع میں گزشتہ سال منعقدہ تقریب کے دوران مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کے بعد پھوٹ پڑنے والے تشدد کے ضمن میں ماو¿نوازوں سے قریبی تعلقات رکھنے کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ جون میں بیک وقت دھاوو¿ں کے دوران ایک دلت کارکن سدھیر دھاو¿لے کو ممبئی میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک وکیل سریندر گاو¿لنگ، سماجی کارکن مہیش راو¿ت اور شوما سین کو ناگپور سے اُٹھالیا گیا تھا۔ رونا ولسن کو دہلی کے علاقہ منیرکا میں واقع ایک فلیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس عہدیداروں نے کہاکہ ”الگار پریشد تقریب کے دوران اس ممنوعہ تنظیم کے ارکان کے بارے میں چند ثبوتوں کا پتہ چلا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے چھتیس گڑھ، ممبئی اور حیدرآباد میں یہ دھاوے کئے ہیں۔ پولیس نے کہاکہ ماو¿نوازوں سے قریبی تعلق رکھنے اور قبل ازیں گرفتار شدہ پانچ افراد سے راست یا بالواسطہ تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں پر آج دھاوے کئے گئے تھے۔ اس دوران چند قابل اعتراض دستاویزات برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ پونے کے سبکدوش ہونے والے جوائنٹ کمشنر رویندر کدم نے 2 اگسٹ کو کہا تھا کہ کوریگاو¿ں ۔ بھیما تشدد میں ماو¿نوازوں کے کسی ربط کا پتہ نہیں چلا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کے لئے تشکیل شدہ مخالف فاشسٹ فرنٹ الگار پریشد واقعہ کے پس پردہ کارفرما تھا۔


اپنی رائے یہاں لکھیں