سمیرداؤد وانکھیڈے کی جعلسازی

شراب کاکاروبار کرتے ہوئے سرکاری قوانین کی خلاف ورزی

اعلان شدہ جائیداد کی معلومات چھپائی، رازفاش ہونے کے ڈر سے باراینڈ ریسٹورنٹ کرائے پر دکھایا

سمیرداؤد وانکھیڈنے 27/اپریل1993سے جعلسازی کی شروعات کی

ممبئی: نام تبدیلی کرنے میں جعلسازی، لائسنس حاصل کرنے میں جعلسازی، نوکری میں بھی جعلسازی، ذات کا سرٹیفکیٹ بنانے میں جعلسازی… یہ سب جعلی لوگ ہیں۔اس لئے سمیرداؤد وانکھیڈے کی ملازمت جائے گی اوروہ جیل کی ہوا کھائے گا۔ یہ باتیں میں نے پہلی بھی کہی تھیں اورآج بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں۔ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے ایک بار پھر پریس کانفرنس میں کہی ہیں۔انہوں نے آج پریس کانفرنس میں سمیر داؤد وانکھیڈے پر یہ سنسنی خیزالزام بھی لگایا کہ وہ شراب کاکاروبار کرتے ہیں اوریہ کاروبار کرتے ہوئے انہوں نے سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

نواب ملک نے کہاکہ اتنے ساری جعلسازیاں ہم نے ثبوتوں کے ساتھ پیش کئے ہیں اس لئے اب تو مرکزی حکومت اسے بچانے کی کوشش سے باز آجائے۔ جعلسازی کی حمایت میں اگر مرکزی حکومت کھڑی رہتی ہے تو اس کی شبیہ مزید دغدارہوسکتی ہے۔ اس سے پورا محکمہ بدنام ہوتا ہے اور ایسا ہوتے ہی بھی اگر اسے بچانے کی کوشش ہورہی ہے تو یہ واضح ہوجائے گا کہ مرکزی حکومت وبی جے پی اسے بچانے کی کوشش کررہی ہے۔نواب ملک نے کہا کہ سمیر وانکھیڈے کے والد نے ریاستی محکمہ ایکسائز میں کام کرتے ہوئے 1997-98 میں سمیر داؤد عرف گیان دیو وانکھیڈے کے نام پر جعلی لائسنس حاصل کیا۔ اس لائسنس کی 1997 سے سمیر وانکھیڈے کے نام پر تجدیدکاری ہوتی رہی۔وہ اب 2022تک 3 لاکھ 17 ہزار 650 روپے ادا کرکے رینیو کیا گیا ہے۔ اس وقت سمیر وانکھیڑے کی عمر 17 سال 10 ماہ اور 19 دن تھی۔ اس کے باوجود اس کے والد نے لائسنس حاصل کیا۔ جبکہ 18سال سے کم عمر کے کسی بھی شخص کو لائسنس نہیں دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود 1997سے آج تک سدگرو ریسٹورنٹ اینڈبار کا یہ کاروبار شروع ہے۔ 2017میں سمیر داؤد وانکھیڑے نے اپنے اثاثے ظاہر کئے تھے جس میں انہوں نے 1995 میں ایک کروڑ روپے کی مالیت بتائی تھی۔اس اثاثے کی نوعیت میں درج ہے کہ یہ انہیں ان کی والدہ کی جانب سے ملی تھی اور اس جائیداد سے انہیں سالانہ ۲لاکھ روپئے کرایہ حاصل ہوتا ہے۔2020میں بھی وہی قیمت اور اتنا ہی کرایہ انہوں نے دکھایا ہے جو کہ ایک جعلسازی ہے۔

مرکزی حکومت کے ملازمین کو ہر سال اپنے اثاثوں کا اعلان کرنا ہوتا ہے لیکن ملازمت ملتے ہی یعنی 2017 تک یہ معلومات پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ اس کے بعد معلومات دی گئی لیکن یہ بتایاگیا کہ اس سے صرف کرایہ حاصل ہوتا ہے۔ سمیر داؤد وانکھیڈے خالص شراب کا کاروبار چلا رہے ہیں جو گورنمنٹ رولز(سیکشن 1964) کے مطابق کوئی بھی مرکزی حکومت کاملازم ڈیوٹی کے دوران کاروبار نہیں کر سکتا، لیکن جس طریقے سے یہ سب چیزیں سامنے آرہی ہیں وہ صریح طو ر پر جعلسازی ہے۔ سمیر وانکھیڈے نے جان بوجھ کر اس معلومات کو چھپایا ہے کہ وہ شراب کا کاروبار کرتے ہوئے اسے کرایہ پر دیا ہوا ہے اور سرکاری قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے اسے ملازمت پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ نواب ملک نے یہ بھی واضح کیا کہ اگلے تین چار دنوں میں وہ ڈی ای پی ٹوودیگر ایجنسیوں سے اس کی شکایت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سمیر داؤد وانکھیڈے کے خلاف آرین خان معاملے میں وصولی کرنے کے بعدایک دلت کو اس کے حقوق سے محروم کرنے اور اب یہ معلومات چھپانے جیسے تین طرح کے الزامات اور ثبوت موجودتھے کہ اب شراب کا کاروبارچھپانے کا بھی معاملہ اس میں جڑ گیا ہے۔ ان تینوں معاملات میں ان کی ملازمت جانا یقینی ہے۔

سمیر داؤد وانکھیڈے نے 27 اپریل 1993 کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے سامنے حلف نامہ دے کر اپنا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ یہ حلف نامہ دو افراد نے دیا۔ ایک جیون جوگل ملنڈ، اوردوسرا ارون چودھری ساکن کلیان۔دونوں نے بی ایم سی میں حلف نامہ جمع کرایا جس میں کہا گیا کہ یہ داؤد وانکھیڈے نہیں بلکہ گیان دیودیو وانکھیڈے ہیں۔جو نہیں ہوسکتا تھا وہ انہوں نے اس وقت کے افسران کو مینج کرکے کیااور برتھ سرٹیفکٹ میں ایک کالم بناکر اس میں گیان دیو وانکھیڈے لکھا۔ اس کے بعد نیا برتھ سرٹیفکٹ تیار ہوا۔ نیا برتھ سرٹیفکٹ پر سینٹ پال ہائی سکول میں داخلہ لیا۔ ابتدائی نام تبدل کرکے سمیر گیان دیو وانکھیڈے کیا گیا۔ جعلسازی کے ذریعے ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ریکارڈتبدیل کیا گیا۔

1995 میں ممبئی کلکٹر کے پاس ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس وقت اس کے والد کا ذات کا سرٹیفکیٹ دکھایا گیا تھا اور پھر س کی بنیادپر وہ اور اس کی بہن نے جعلسازی کرکے شیڈول کاسٹ سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ اسی کی بنیاد پر آئی آر ایس کی نوکری ملی۔ یہ معاملہ ذات کی تصدیقک کرنے والی کمیٹی کے سامنے گیا ہے۔ جب اس کی جانچ پڑتال ہو گی تو بوگس دستاویزات کا یہ سارا کھیل سامنے آ جائے گا اور نوکری بھی چلی جائے گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔