مرکزی حکومت کی جانب سے ویکسین کی ذمہ داری قبول کرنے پر نواب ملک کا طنز

کہا:’دیر آید درست آید‘ لیکن ٹال مٹول کے رویے کودیکھتے ہوئے امید کم

ممبئی:مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں کو ویکسین فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے پر راشٹروادی کانگریس پارٹی نے طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیر آید درست آید لیکن اس بات کی امید کم ہے کہ مودی حکومت اپنی ذمہ داری کو ادا کرے گی۔ پارٹی کے قومی ترجمان اور اقلیتی امور کے وزیر نواب نے کہا کہ بالآخر مرکزی حکومت کو ذمہ داری قبول کرنی پڑی، ہمیں امید ہے کہ اب ریاستوں کو ان کے مطالبات کے مطابق ویکسین ملے گی۔ نواب ملک پارٹی کے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی روایت برخلاف وزیراعظم رات ۸ بجے سے قبل ہی عوام سے خطاب کرنے کے لیے ٹی وی اسکرین پر نمودار ہوگئے۔ اس سے لوگوں کو حیرت ہے۔ پھر بھی ہم وزیراعظم کے ذریعے ویکسین کی ذمہ داری قبول کرنے کا استقبال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل مرکزی حکومت نے 18 سے44سال کے لوگوں کو ویکسین دینے کی ذمہ داری ریاستوں پر ڈال دی تھی۔اس کے علاوہ جو 25فیصد ویکسین دستیاب تھی اس کی فراہمی بھی مرکز کی جانب سے نہیں ہورہی تھی۔ ریاستو ں کو 300روپئے سے 400روپئے کی قیمت سے ویکسین خریدنے کے لیے کہا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کو وقت پر ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات پیدا ہورہی تھیں۔ خاص طور پرسپریم کورٹ نے ریاست اور مرکزکی ویکسی نیشن کی شرحوں میں فرق پر سوال اٹھایا تھا اور مرکزی حکومت سے ایک حلف نامہ پیش کرنے کے لئے کہا تھا جس میں یہ پوچھا گیا تھا کہ 35 ہزار کروڑ روپے کی فراہمی کے باوجود رقم کیوں خرچ نہیں کی جارہی ہے۔مرکزی حکومت کی شبیہ وفیصلے پر سپریم کورٹ کی انگشت نمائی کی وجہ سے حکومت کی ناکامی پرپردہ ڈالنے اور شبیہ سدھارنے کے لیے آج وزیراعظم نے تمام ذمہ داری مرکزی حکومت کی جانب سے اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔نواب ملک نے کہا کہ ہم مستقل طور پرمرکزی حکومت کے موقف اور فیصلے پر سوال کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو متوجہ کررہے تھے۔ اب ابتداء سے مرکزی حکومت نے ذمہ داری قبول کی ہے، امید ہے کہ اب سب کچھ وقت پر فراہم ہوگا۔

جہاں جہاں بی جے پی ہے، وہاں وہاں پر اموت کی پردہ پوشی کی جارہی ہے: نواب ملک

ممبئی:ملک میں جن جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، ان تمام ریاستوں میں کورونا سے ہونے والی اموت کی پردہ پوشی کا کھیل جاری ہے۔ہمارا کام کاج صاف وشفاف ہے، ہم بی جے پی کی طرح تعداد نہیں چھپاتے ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں کوورنا سے ہونے والی اموات کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے جس پر بی جے پی مہاوکاس اگھاڑی پر الزام عائد کررہی ہے کہ یہ حکومت کا پاپ ہے۔ لیکن بی جے پی کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم بی جے پی کی ریاستوں کی طرح تعداد کی پردہ پوشی نہیں کرتے بلکہ ہمارا کام کاج نہایت شفاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے کورونا کے پہلے دن سے ہی مرکزی حکومت کے قواعد کے مطابق کورونا کے مریضوں کے اندراج میں شفافیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مہاراشٹرا ملک کی واحد ریاست ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد کو شفاف انداز میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ہم نے تعداد کی کبھی کوئی پردہ پوشی نہیں کی۔ریاست کی جوصورت حال ہے وہ ہم نے عوام کے سامنے واضح طور پر رکھ دی ہے۔ جب ریاست میں یومیہ 70ہزار تک کیسیس آرہے تھے اس وقت بھی اس طرح کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی کہ آکسیجن نہیں ہے یا اسپتال میں جگہ نہیں ہے۔ اسی لیے کورونا پر قابو پانے کے معاملے میں مہاراشٹر وممبئی ماڈل کا دنیا بھر میں شہرہ ہوا اور اس کی تعریف کی گئی۔ نواب ملک نے کہا کہ ملک میں ۴ لاکھ اموت کا سرکاری طور پر اعلان کیا جارہا ہے جبکہ سچائی یہ ہے صحافیوں وماہرین کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تعداددس گنا زیادہ یعنی کہ 40لاکھ سے زائد ہے۔ صرف اترپردیش میں ہی 5 سے 6 لاکھ افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کچھ کی لاشوں کو دریا میں پھینک دیا گیا جبکہ کچھ جگہوں پر یہ لاشیں ندی کے کنارے بھگوا کپڑوں میں لپٹی ہوئی پائی گئیں۔ گجرات اور بہار میں بھی اموات کی تعداد کو چھپانے کا معاملہ سامنے آچکا ہے۔نواب ملک نے کہا کہ بی جے پی کو بولنے کا حق ہے لیکن اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری حکومت بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں کی طرح اموات کی تعداد کی پردہ پوشی نہیں کی ہے۔