مہاراشٹر این سی پی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما پر کارروائی سے مطمئن نہیں

ممبئی: پیغمبرِ اسلام کی توہین کے معاملے میں بی جے پی کی ترجمان نوپورشرما کے خلاف بی جے پی کے ذریعے کی گئی کارروائی ناکافی ہے، نوپورشرماسمیت بی جے پی کے قومی صدرجے پی نڈا علانیہ طور پر معافی مانگیں۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر این سی پی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کےترجمان مذہبی منافرت کا ہی کام کرتے ہیں ، لیکن چونکہ اس باران کی منافرت کی سیاست پر بین الاقوامی سطح پرسخت احتجاج ہوا جس کی بنا پر بی جے پی نے نوپورشرما کو معطل کردیا اور بی جے پی دہلی اکائی کے میڈیا انچارج کو پارٹی سے برخاست کردیا ۔لیکن انہوں نے جو ذلیل حرکت کی ہے اس کے لئے یہ کارروائی کسی طور کافی نہیں ہے، اس کے لئے بی جے پی کے قومی صدر کو معافی مانگنی چاہئے۔ تپاسے نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام کے تعلق سے جو نازیبا باتیں نوپورشرما نے کی ہیں اس سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ ملک کے سیکولرطبقے کو حددرجہ تکلیف پہنچی ہے۔ نوپورشرما کا بیان لوگوں کے جذبات کومجروح کرنے والا تھا ۔ میں بی جے پی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ وہ اپنے ترجمانوں کو اسی طرح دوسرےمذاہب کے لوگوں کی جذبات مجروح کرنے کی ٹریننگ دیتی ہے؟

مہیش تپاسے نے مزید کہا کہ نوپورشرماکے قابلِ اعتراض بیان پر بین الاقوامی سطح پر ملک کے سیکولر حیثیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اس انتہائی مذموم بیان کے بعد کچھ عرب ممالک نے ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جبکہ کچھ لوگوں نے پی ایم مودی کی تصویر کو کوڑے دان کے ڈبے پرلگادیا ۔ مہیش تپاسے نے وزیرخارجہ ایس جئے شنکر سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے سفارتی تعلقات کو بروئے کارلاتے ہوئے ملک کے پی ایم کی جس طرح مذمت کی جارہی ہے، اس کو فوری طور پرروکیں۔ اسی کے ساتھ ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کے معاملے کو بھی سلجھائیں۔

مہیش تپاسے نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو تمام مذاہب کے لوگوں کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے اور اس پورے معاملے میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کو اپنے ترجمانوں کے ذریعے کی گئی مذموم حرکتوں پر پورے عالم اسلام سے ذاتی طور پر معافی مانگنی چاہئے۔