مرکزی حکومت صرف ہیڈلائن مینجمنٹ نہ کرے: نواب ملک

گورنرملک کے معیشت کی پیمائش نہیں کرپارہے ہیں تواس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے

ممبئی: مرکزی حکومت کی جانب سے ویکسین فراہمی کے بلندبانگ دعوے کے درمیان این سی پی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہیڈلائن مینجمنٹ کرنے کے بجائے ایک جامع پروگرام بناکر ملک کی عوام کے سامنے پیش کرے۔ پارٹی کے قومی ترجمان نواب ملک نے کہا ہے کہ ہیڈلائن مینجمنٹ سے ملک میں ویکسین کی قلت دور نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے حکومت کو ٹھوس پروگرام بنانا چاہیے۔ وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے دوران اپنی پوری توجہ بنگال انتخابات پرمبذول کرنے اوراس کے بعد منظرِ عام سے غائب ہوجانے کے بعد وزیراعظم کے بارے میں خبر یہ آرہی ہے کہ وہ میٹنگیں لے رہے ہیں جو اچھی بات ہے۔ لیکن میٹنگ میں یہ اعلان کہ اس ماہ میں 12کروڑ اور دسمبر تک 210 کروڑ ویکسین فراہم ہوگی یہ خالص ہیڈلائن مینجمنٹ معلوم ہوتا ہے کیونکہ کورونا کی صورت حال اور مرکزی حکومت کی سنجیدگی سے پورا ملک واقف ہے۔ ایسی صورت میں مرکزی حکومت سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ اگر وہ اس معاملے میں ذرا بھی سنجیدہ ہے تو اسے ہیڈلائن مینجمنٹ کی فکر کرنے کے بجائے کوئی ٹھوس پروگرام ترتیب دے کر ملک کی عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔

نواب ملک نے کہا کہ ایسی صورت حال میں جبکہ پورے ملک کورونا کی دوسری لہر سے جوجھ رہا ہے مرکزی حکومت ویکسین ویکسین کھیل رہی ہے۔ وزیراعظم نے اپنی میٹنگ میں یہ اعلان تو کردیا ہے کہ اس ماہ میں کتنی اور دسمبر تک کتنی ویکسین فراہم ہوگی، مگر اسی کے ساتھ مرکزی حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وہ ریاستوں کو ویکسین کس طرح فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ کہ مرکزی کتنی ویکسین خریدے گا، ریاستوں کو اس میں سے کتنا ملے گا نیز پرائیویٹ ادارے کس طرح خریدیں گے اور کس طرح استعمال کریں گے؟ اس کے بارے میں اس نے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ کبھی پرکاش جاؤڈیکر کچھ کہتے ہیں تو کبھی جے پی نڈا کچھ اور اعلان کرتے ہیں۔ اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف ہیڈلائن مینجمنٹ کے لیے اس طرح کے بیانات دیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جون تک 12کروڑ ویکسین کی فراہمی ہونے والی تھی، لیکن سوال یہ ہے کہ آج تک کتنی فراہم کی گئی؟ کل تک ویکسین سینٹر بند تھے جس کا اعتراف کرنا چاہیے اور اسی کے مطابق پرورگرام بنانا چاہیے۔

اس موقع پر نواب ملک نے ملک کی معیشت پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر گورنر ملک کے معیشت کی پیمائش کرنے میں اپنی معذوری کا اظہار کررہے ہیں تو یہ اچھی علامت نہیں ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ ملک کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت کی صورت حال یہ ہے کہ جی ڈی پی نفی 7.5میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریزوربینک کی جانب سے جو اندازہ لگایا گیا تھا وہ غلط تھا۔ ریزوربینک سے حکومت پیسے لیتی ہے اور وہ اسے دیدیتی ہے۔ اگر ریزوربینک ہی ملک کی معیشت کا اندازہ نہیں لگاپارہا ہے تو بھلا معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔