مودی حکومت میں چار مہینوں کے اندر مالیاتی خسارہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

443

ایم وی اے حکومت کی وارڈکی تشکیل نوکا فیصلہ تبدیل کرنے کی شندے حکومت کو کوئی ضرورت نہیں تھی

ممبئی: این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ مودی حکومت کی غلط معاشی پالیسی کی وجہ سے گزشتہ چار مہینوں میں درآمدات برآمدات میں مالیاتی خسارہ بڑھ کر 100 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ملک میں بڑھتی بیروزگاری اور مہنگائی اوراس پرڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث عام لوگوں اور ماہرین کویہ خدشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں اس کا ہماری معیشت پر برے اثرات تو نہیں پڑیں گے۔تپاسے نے کہا کہ موجودہ حالات معیشت کے لیے اچھے نہیں ہیں اس لیے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوں گے۔ ملک کی وزیرخزانہ سے ہماری درخواست ہے کہ موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں کے تجربہ کار لوگوں کی رہنمائی لی جائے اور مثبت رویہ اپنائیں تاکہ اس معاشی بحران پر قابو پایا جاسکے۔

دریں اثناء مہیش تپاسے نے ریاستی حکومت پر بھی تنقید کی اورکہا کہ بڑھتی آبادی کے پیش نظر مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی طرف سے وارڈ کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا گیا تھا جسے تبدیل کرنے کی شندے حکومت کوئی ضرورت نہیں تھی۔تپاسے نے کہا کہ شندے حکومت کی دورکنی کابینہ یک نکاتی پرورگرام بس صرف یہ ہے کہ ایم ای اے حکومت کے فیصلوں کوتبدیل کیا جائے۔تپاسے نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی کابینہ میں میونسپلٹی اور ضلع پریشد وارڈوں کی تشکیل کے بارے میں لیے گئے فیصلوں کوتبدیل کرنے پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی حکومت نے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے تمام فیصلوں کو تبدیل کرنے اور منسوخ کرنے کا یک نکاتی پروگرام شروع کیا ہے۔ ریاست میں بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھتے ہوئے مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے میونسپل کارپوریشن اور ضلع پریشد وارڈوں کے ڈھانچے میں تبدیلی اور ممبران کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت ایکناتھ شندے شہری ترقیات کے وزیر تھے۔ایسالگتا ہے کہ انہوں نے اس وقت جوفیصلہ کیا تھا وہ انہیں منظور نہیں ہے اسی لیے وہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے فیصلوں کوتبدیل کررہے ہیں۔