سمیرداؤد وانکھیڈے کی ماں کی موت پر بھی جعل سازی

آخری رسومات کے لئے مسلم اور ڈیتھ سرٹیفکٹ ہندو کے طور لیا: نواب ملک

ممبئی:این سی پی کے چیف قومی ترجمان اور اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے سمیروانکھیڈے پر ایک اور الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمیرداؤد وانکھیڈے نے اپنی ماں کی وفات پر بھی جعل سازی سے باز نہیں آئے، آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے انہوں نے اپنی ماں کا مذہب مسلم بتایا جبکہ اگلے ہی دن ڈیتھ سرٹیفکٹ حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اپنی ماں کا مذہب ہندو لکھوایا۔ اپنے اس الزام کے ثبوت میں نواب ملک نے شمشان بھومی سے ملنے والی رسید اور ڈیتھ سرٹیفکٹ پیش کیا ہے جس میں مسلم اور ہندو صاف طور پر تحریر کیا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔

این سی پی کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب ملک نے کہا کہ سمیر داؤد وانکھیڈے نے 16 اپریل 2015 کو اوشیواراکے مسلم قبرستان میں اپنی والدہ کی آخری رسومات اداکرنے کے لئے مسلم ہونے کا سرٹیفکٹ استعمال کیا اور اس کے بعد دوسرے دن یعنی 17اپریل2015کو ممبئی میونسپل کارپوریشن سے ان ہندوکے طور پر ان کا ڈیتھ سرٹیفکٹ حاصل کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ خاندان مسلم ہوتے ہے کس طرح دوہری شناخت دکھارہا ہے؟نواب ملک نے کہا کہ ایک تو جعل سازی کرتے ہوئے انہوں نے ایس سی کا سرٹیفکٹ حاصل کرکے ملازمت حاصل کی اور اس پر یہ کہ انہوں نے اپنی ماں کی موت کے معاملے میں جعل سازی کی۔نواب ملک نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ ہم جو سرٹیفکیٹ پیش کر رہے ہیں وہ بی ایم سی سے باضابطہ طو رپرتصدیق کے بعد پیش کررہے ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ ۶ اکتوبرسے میں سمیر داؤد وانکھیڑے کی جعلسازیوں کو بے نقاب کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ آرین خان کو منشیات معاملے میں کس طرح اغوا کیا گیا؟ 25 کروڑ کی ڈیل کو18 کروڑ میں ہونے کا انکشاف ہوا۔ ترمیم شدہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ، اسکول کا سرٹیفکیٹ، بوگس سرٹیفکیٹ کے ذریعے نوکری حاصل کی۔18سال سے کم عمرہونے کے باوجود سمیرداؤد وانکھیڈے کے والد نے سمیروانکھیڈے کے نام پر پرمٹ روم کا لائسنس حاصل کیا۔ اب اس کے بعد یہ ان کا نئی جعل سازی ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو اسے گزٹ کے ذریعے ظاہر کرنا ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں ایسا بالکل نہیں کیا گیا۔

انل دیشمکھ بے قصور ہیں،عدالت میں ثابت ہوجائے گا: نواب ملک

پرم ویر سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ انیل دیشمکھ نے انہیں 100 کروڑ روپے کی وصولی کا ٹارگیٹ دیا تھا۔ اس الزام کے بعد انل دیشمکھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔یہ معاملہ چاندیوال کمیٹی کے سامنے گیا۔ سی بی آئی اور ای ڈی نے انل دیشمکھ کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔لیکن ابھی تک عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ یہ تمام الزامات سیاسی انتقام کی بنیاد پر عائد کئے گئے ہیں۔انل دیشمکھ عدالتی لڑائی لڑرہے ہیں اور ہم ثابت کردیں گے کہ وہ بے قصور ہیں۔یہ باتیں پریس کانفرنس کے دوران نواب ملک کہیں ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ پرم ویر سنگھ مئی مہینے سے مفرور تھے۔ ممبئی پولیس کی جانب سے مفرور قرار دیے جانے کے بعد وہ سپریم کورٹ گئے اور کہا کہ گرفتاری سے انہیں بچایا جائے نیز انہوں نے عدالت سے یہ بھی کہاکہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔لیکن ممبئی کا پولیس کمشنر رہ چکے پرم ویر سنگھ جو کہہ رہے ہیں اسے کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔نواب ملک نے کہا کہ پرم ویر سنگھ کے خلاف پانچ مقدمات درج ہیں۔وہ روپوش ہوگئے تھے، اب وہ آگئے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہوتا۔نواب ملک نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کل دو فیصلوں کا اعلان کیاہے۔ مرکزی حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا۔ کابینہ نے بھی اس کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم غریبوں کی بہبود اسکیم کی مدت میں توسیع کردی ہے۔ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد انہوں نے اس کا نوٹس لیا ہے۔انتخابات کے پیشِ نظر ہی یہ فیصلے کئے گئے ہیں۔ لیکن وزیراعظم چاہے جتنا فیصلہ کرلیں، ملک کو معلوم ہوچکا ہے کہ مرکزی حکومت کسان مخالف ہے اور اس کا خمیازہ بی جے پی کو آنے والے پانچ ریاستوں کے انتخابات میں بھگتنا پڑے گا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔