خود کو بچانے اور حکومت کو بدنام کرنے کے لیے پرمویر سنگھ نے الزام عائد کیا ہے

ممبئی: بی جے پی و دیوندر فڈنویس جب ممبران اسمبلی کو حکومت کے خلاف کرنے میں ناکام ہوگئے تو افسران کا استعمال کرتے ہوئے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بدنام کرنے میں جٹ گئے ہیں۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی وزیر نواب ملک نے بی جے پی وحزبِ مخالف لیڈر پر یہ سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیوندرفڈنویس نے آج پریس کانفرنس میں جو معلومات دی ہے وہ غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

واضح رہے کہ دیوندرفڈنویس نے آج ایک پریس کانفرنس میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو الزام عائد کیا جس کے فوراً بعد نواب ملک نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے فڈنویس پر سخت تنقید کی۔

نواب ملک نے کہا کہ دیوندرفڈنویس نے آج صبح ۱۱/بجے پریس کانفرنس میں جو معلومات دی ہے وہ غلط طریقے سے پیش کی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں جوپریس کانفرنس لی جاتی ہے اس میں ممکنہ طور پر مراٹھی میں بات کی جاتی ہے مگر فڈنویس نے میڈیا سے معافی مانگتے ہوئے ہندی میں بات شروع کی جس کا مقصد ہی کچھ اور ہے۔

اس پریس کانفرنس میں فڈنویس نے کہا کہ شردپوار صاحب جھوٹی معلومات دے رہے ہیں، لیکن اس بابت وزیرداخلہ اور میں نے بھی وضاحت کی ہے۔ اب وہ وزیرداخلہ کی کیفیت کے بارے میں پریس کانفرنس میں معلومات دیتے ہیں۔ گورنر، وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ ووزیرداخلہ کی کیفیت کے بارے میں پولیس ریکارڈ پیش کی۔ یہ ریکارڈ پیش کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ کر تذبذب پیدا کرتے ہیں کہ اس کے بارے میں وہ خود یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے۔ نواب ملک نے کہا کہ رشمی شکلا نامی افسر غیرقانونی طریقے سے فون ٹیپ کررہی تھی، اسی لیے سزا کے طور پر ان کا تبادلہ کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ افسر غیرقانونی طریقے سے فون ٹیپ کرتی تھی۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے قیام کے وقت بھی اسی رشمی شکلا نے تمام اہم لیڈران کے فون ٹیپ کرتی تھی۔

نواب ملک نے کہا کہ پرمویر سنگھ نے خود کو بچانے کے لیے الزامات عائد کیے ہیں۔ دوتین دن فڈنویس پریس کانفرنس لے کر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں جو آج پوری طرح سے واضح ہوگیا ہے۔ ہندی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے ذریعے فڈنویس سنسنی پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں وہ رشمی شکلا کی جس طرح حمایت کررہے تھے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس جو رپورٹ یا ریکارڈ اس کی کیا حقیقت ہے۔

فڈنویس جس رپورٹ کا حوالہ دے رہے تھے اس میں 80فیصد پولیس اہلکاروں کا تبادلہ نہیں ہوا ہے جس رپورٹ کی بات کررہے تھے کہ وزیرداخلہ پیسے لے رہے تھے لیکن وزیرداخلہ وہ نام فائنل نہیں کررہے تھے۔ آخری فیصلہ وزیراعلیٰ کرتے ہیں اور اے سی ایس ہوم، ڈی جی اور اس وقت کے سبودھ جیسوال اس کمیٹی میں تھے انہوں نے جس کی سفارش کی ان کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ نچلی سطح کے افسران کا تبادلہ کی سفارش پولیس اسٹبلشمنٹ بورڈ کے صدر جنہوں نے یہ نوٹ روانہ کیا ہے، وہ جب بورڈ کے صدر تھے اور انہوں نے جو نام بھیجے ان کا تبادلہ ہواہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ دیوندرفڈنویس کے مطابق جو رپورٹ میں ہے ان کا تبادلہ ہوا وہ سراسر جھوٹا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ فڈنویس اقتدار کے بغیر نہیں رہ پارہے ہیں۔