ریمیڈیسیورکی کالابازاری کرنے والے بی جے پی لیڈران کے کارنامے مع ثبوت میڈیا کے سامنے پیش کیے

ممبئی: بی جے پی کی جانب سے استعفیٰ کے مطالبے اور پولیس میں شکایات درج کرائے جانے پر راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیرنواب ملک نے سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا ملک میں کوئی نیامودی ایکٹ بناہواہے جس کو لاگو کرنے کی ذمہ داری گورنر کو دی گئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی معلومات دی جائے۔ وہ یہاں منترالیہ میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔

نواب ملک نے اس پریس کانفرنس میں بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کے ذریعے ریمیڈیسیور انجکشن کی کالابازاری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بولنے کا حق ہے اور میں بولتا رہونگا نیز آئندہ بھی میں بی جے پی لیڈران کے کرتوتوں کو اجاگر کرتا رہونگا۔ انہوں نے اس موقع پر کچھ دستاویزات اور ویڈیو بھی جاری کیا۔ نواب ملک نے کہا کہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے دوران ریمیڈیسیورانجکشن کی قلت پیدا ہوگئی۔ اسی دوران گجرات میں بی جے پی کے سورت کے دفتر سے ریمیڈیسیور انجکشن کی تقسیم کی گئی جس پر ہم نے سوال کیا تھا۔ جس کے بعد گجرات کے وزیراعلیٰ نے یہ وضاحت کی کہ ریمیڈیسیورانجکشن کا ذخیرہ کرنے یا تقسیم کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی ہے۔ اس دن کے بعد سے بی جے پی کے کچھ لیڈران نے 50 ہزار انجکشن لانے کادعویٰ کیے۔ نواب ملک نے الزام لگایا کہ اپریل کے

پہلے ہفتے میں بی جے پی کے ذریعے ریمیڈیسیور انجکشن کا ذخیرہ ان کے گوداموں میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے املنیر کے سابق ایم ایل اے وہیراگروپ کے ڈائریکٹر نے نندوربار میں ہیرا ایکزیکیٹیو ہوٹل میں ریمیڈیسیورانجکشن کا ذخیرہ کیا تھا۔ سابق ایم ایل اے نے خود ہی اس کی تصویر شیئر کی تھی۔ اس تصویر میں گروپ فارما کو ’اونلی فار ایکسپورٹ‘ لکھا ہوا ریمیڈیسیورانجکشن ۸ /اپریل کو چودھری برادران کے ذریعے لوگوں کی قطاریں

لگاکر تقسیم کیا گیا۔ اس کے بعد دو دن لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے تقسیم روکنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ 12/اپریل کو دوبارہ تقسیم کیا جائے گا۔ تقریباً 7سے8سو انجکشن اس دوران تقسیم کیا گیا لیکن ہماری معلومات کے مطابق بروک فارما کے ذریعے 20ہزار سے زائد ریمیڈیسیور انجکشن لاکر ذخیرہ کیا گیا تھا۔ اس میں سات سے آٹھ سو انجکشن نندروربار، جلگاؤں و دھولیہ ضلع میں کالابازاری کے تحت تقسیم کیا گیا۔ نواب ملک نے سوال کیا ہے کہ کیا ہیراگروپ کے شریش چودھری کے پاس ایف ڈی اے کی منظوری تھی؟ کیا مہاراشٹر ایف ڈی اے نے اس کی منظوری دی تھی؟ یا دمن کے ایف ڈی اے نے اس کی منظوری دی تھی؟ اس کا جواب بی جے پی کو دینا چاہیے۔

نواب ملک نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کیے جانے پر ہم نے جو سوال کیا ہے اس کا جواب ملنا چاہیے۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن جو لوگ ذخیرہ اندوزی اور کالابازاری کررہے ہیں بی جے پی کے لیڈران انہیں بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہمیں سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر یہی صورت حال رہی تو ہم ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مزید ثبوت وشواہد عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ نواب ملک نے کہا کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے یہ صورت حال نہایت سنگین ہوچکی ہے۔ اسی کے ساتھ پورے ملک میں آکسیجن، ریمیڈیسیور کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ایسی صورت میں بی جے پی کے کچھ لوگوں کو سیاست کرنے کے علاوہ کچھ سوجھ نہیں رہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کے لوگ اقتدار کے بغیر بالکل ایسے تڑپ رہے ہیں جیسے پانی کے بغیر مچھلی۔ گزشتہ پانچ دنوں سے بی جے پی کے لوگ یہ اعلان کرتے گھوم رہے ہیں کہ سرکار کوئی کام نہیں کررہی ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ ریاستی حکومت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہے مگر بی جے پی کے لوگ ذخیرہ اندوزی وکالابازاری کے ذریعے صورت حال مزید خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

BDR.pdf

Bruck.pdf

Shrish Chudhari.pdf

Nandurbar Letter(2).pdf