ذخیرہ اندوزوں کو بچانے کے لیے بی جے پی ہرجگہ پہونچ رہی ہے

بی جے پی کی کوشش ہے کہ ریاست کو ریمیڈیسیورانجکشن نہ ملے: نواب ملک

ممبئی: اگر ایک ذخیرہ اندوز کو بچانے کے لیے رات کے وقت پولیس اسٹیشن میں دو حزبِ مخالف لیڈر اور دو ایم ایل اے جاتے ہیں تو اس کا مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کی کوشش ہے کہ ریاست کو ریمیڈیسیورانجکشن نہ ملے۔ یہ باتیں آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی سے اس کی وضاحت بھی طلب کی ہے کہ ریمیڈیسیور انجکشن کا ذخیرہ کرنے والے بروکس فارما کمپنی کے مالک راجیش ڈوکانیا کو جب بی کے سی پولیس اسٹیشن میں تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تو بی جے پی کیوں خوف زدہ ہوگئی اور کیوں بی جے پی کے لیڈران مذکورہ ذخیرہ اندوز کی وکالت کرنے لگے ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ ملک وریاست میں ریمیڈیسیورانجکشن کی قلت کی وجہ سے اس کے برآمد پر مرکزی حکومت نے پابندی عائد کردی ہے۔ ملک میں ۷ کمپنیوں کو ملک کے اندر فروخت کرنے نیز دو کمپنیوں کو ملک کے باہر فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے برعکس 17کمپنیوں کو برآمد کرنے کی اجازت دہے۔ یہ کمپنیاں بیرونِ ممالک میں فروخت کرنے والی دو کمپنیوں کو ریمیڈیسیور فروخت کرتی ہیں۔ برآمد پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے بروکس فارما کمپنی کے مالک راجیش ڈوکانیا نے ریاستی حکومت سے رابطہ قائم کیا اور آگاہ کیا کہ چونکہ ہمارے پاس ریمیڈیسیور کا ذخیرہ ہے، اس لیے اسے فروخت کرنے کی ہمیں اجازت دی جائے۔ ریاست کے فوڈ وڈرگس کے وزیر ڈاکٹر راجندر شنگنے نے قانون سازکونسل کے حزبِ مخالف لیڈر پروین دریکر کے ساتھ راجیش ڈوکانیا سے ملاقات کی تھی۔ نواب ملک کے مطابق پولیس کو برآمد کرنے والی کمپنی سے اس ذخیرہ اندوزی کی خبر ملی تھی جس کی بنیاد پر راجیش ڈوکانیا کو پولیس نے تفتیش کے لیے بی کے سی پولیس اسٹیشن میں طلب کیا تھا۔ ابھی اس سے تفتیش جاری ہی تھی کہ رات سواگیارہ بجے اسمبلی میں حزبِ مخالف لیڈر دیوندرفڈنویس، قانون ساز کونسل کے حزبِ مخالف لیڈر پروین دریکر، ایم ایل اے پرساد لاڈ، ایم ایل اے پراگ الوانی پولیس اسٹیشن پہونچے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈوکانیا کو بچانے کے لیے ریاست کے دو حزبِ مخالف لیڈر اور دو ایم ایل اے کیوں پہونچ گئے؟

نواب ملک نے کہا کہ پولیس محکمہ عوام کے لیے کام کرتا ہے، ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے کام کرتا ہے اس لیے پولیس کی کوشش ہے کہ ذخیرو کو ضبط کرکے عوام کے استعمال کے لیے دیا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ راجیش ڈوکانیا کو جب پولیس نے تفتیش کے لیے طلب کیا تو ریاستی بی جے پی لیڈران کے اندر اتنی گھبراہٹ کیوں پھیل گئی کہ اس کے حزبِ مخالف لیڈر اپنے وکیل ہونے کی حیثیت سے وکالت نامہ لے کر پہونچ گئے اور ان کے ساتھ ایک اورحزبِ مخالف لیڈر ودو ایم ایل اے تھے؟ ریاست کی پولیس اور ایف ڈی اے انتظامیہ ریاست کے مفاد کے لیے کام کرتا ہے۔ پھر اگر دوگھنٹے کے لیے پولیس نے ایک ذخیرہ اندوز کو تفتیش کے لیے بلایا تو بی جے پی کے اہم لیڈران اس قدر گھبرا کیوں گئے؟ اس کی وضاحت بی جے پی کو کرنی چاہیے۔ حزبِ مخالف لیڈر فون پر معلومات حاصل کرسکتا ہے یا تفتیش کرنے والے پولیس افسر کے سینئر سے بات کرسکتا ہے،لیکن اس طرح بذات خود پولیس اسٹیشن میں جاکر وکالت کرنے کے پیچے کی سیاست واضح طور پر نظر آرہی ہے۔