• 425
    Shares

اوبی سی ریزرویشن کے معاملے میں مرکز نے خالص دھوکہ دیا ہے: شردپوار

پارلیمنٹ میں خواتین اراکین کے ساتھ بدسلوکی ہندوستان کی پارلیمانی کا تاریخ کا پہلا واقعہ، یہ جمہوریت پر حملہ ہے

ممبئی: دو سال پہلے مرکزی حکومت نے ریاستوں سے ان کے اختیارات چھین لیے۔ اب پارلیمنٹ میں آئین میں ترمیم کرکے ریاستوں کو او بی سی سے متعلق فہرستیں بنانے کا حق دیا ہے، جس سے بہتوں نے یہ سمجھا کہ مرکزی حکومت نے اوبی سیز سے متعلق کوئی بہت اہم قدم اٹھایا ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ اوبی سی ریزرویشن کے معاملے میں مرکزی حکومت نے خالص دوھوکہ دیا ہے۔یہ سنگین الزام آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی سربراہ شردپوار نے پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عائد کیا ہے۔

شردپوار نے کہا کہ 1992 میں ۹ ججوں کی بینچ نے اندراساہنی بمقابلہ حکومت ہند کے مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا۔ اسی دوران اس میں 10 فیصد اضافہ کرنے کے لیے آئین میں ایک اور ترمیم کی گئی۔اس میں کہا گیا کہ ریاستی حکومتیں فہرست بناکر اوبی سیز کو ریزرویشن دے سکتی ہیں۔ لیکن درحقیقت اس ترمیم کاکوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ آج ملک میں تقریبا 90فیصد ریاستوں میں 50فیصد سے زائدریزرویشن ہے۔مدھیہ پردیش، تامل ناڈو، ہریانہ، راجستھان، لکش دیپ، ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، اروناچل پردیش، مہاراشٹر، تلنگانہ، تریپورہ، جھارکھنڈ، اتر پردیش،ہماچل پردیش، گجرات اورکرناٹک وغیرہ میں ریزرویشن کی شرح 50فیصد سے زائد ہے۔ اس لیے ریاستوں کو اختیار دیا گیا، اس میں سچائی نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے مکمل او بی سی طبقے کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے لوگوں کے سامنے لائیں۔راشٹروادی کی کوشش ہے کہ مرکزنے جودھوکہ کیا ہے اس معاملے میں تمام اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جب یہ موضوع زیربحث آیا تو اس وقت لوک سبھا میں سپریا سولے نے پارٹی کا موقف پیش کیا۔ اس میں انہوں نے 50فیصد کااختیارواپس لینے کے لیے کہاتھا۔دوسری جانب چھگن بھجبل کئی دنوں سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ایمریکل ڈاٹا دیا جائے۔ ایمریکل ڈاٹا کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری ہونی چاہئے۔ اس سے انتظامیہ میں نچلی ذات کے لوگوں کو کتنی نمائندگی ملی ہے یہ معلوم ہوگا۔ جب تک یہ تینوں مطالبات منظور نہیں ہوتے تب تک اوبی سی طبقے کے ساتھ انصاف نہیں ہوسکے گا۔ اس موقع پر شردپوار نے یہ بھی کہا کہ این سی پی ریاست کے مختلف حصوں میں میٹنگز کرے گی تاکہ مرکزی حکومت کی دھوکہ دہی کو عوام کے سامنے اجاگر کیا جاسکے اور مرکزی حکومت کے خلاف رائے عامہ تیار ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جب یہ معاملہ پیش ہوا تو ہمارے ارکان نے اس پر مناسب موقف پیش کیا لیکن وزیرمحترم کی جانب سے اس پر کوئی مناسب جواب نہیں دیا گیا۔

شردپوار نے کہا کہ پارلیمنٹ میں خواتین ارکان کے ساتھ جس طرح سے بدسلوکی کی گئی وہ ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے۔اس سے قبل کئی بار حکمراں جماعت اور اپوزیشن میں ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوئی لیکن کبھی اس طرح کی حرکت نہیں ہوئی۔ جب 19 جولائی کو کنونشن شروع ہوا تو اپوزیشن نے تین مطالبات کیے تھے۔ اس میں پیگاسس کو زرعی قانون سازی پر بحث کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کے لیے کہا گیا جبکہ پٹرول-ڈیزل کے بڑھتے ہوئے نرخوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ایک اہم بل اورآئین میں ایک ترمیم ہے، اس کے بعد ہم تفصیل سے بات کریں گے۔ لیکن چونکہ اپوزیشن کے مطالبات کو اس کے بعد بھی نظر انداز کیا گیا اس لیے اپوزیشن نے اپنے مطالبات پارلیمانی بحث کے مندرجات میں شامل کرنے کے لیے کہا۔ لیکن حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ حکمران جماعت نے 11 اگست کو ایک اہم انشورنس بل پیش کیا۔ اپوزیشن نے جلدبازی میں یہ بل پیش نہ کرنے کے لیے کہا، لیکن حکومت نے اسے بھی تسلیم نہیں کیا۔ اس وقت اپوزیشن نے جارحانہ موقف اختیار کیا اور کچھ ارکان پارلیمنٹ ویل میں اترے۔ جو کچھ وہاں ہوا، میرے سامنے ہوا۔میں نے اپنی پارلیمانی مدت کار میں پہلی بار دیکھا کہ 40مارشل باہر سے لائے گئے جنہوں نے احتجاج کررہے تمام ارکان کو جسمانی طور پر پکڑ کر باہر نکالنے کی کوشش کی۔ اس میں ایک خاتون رکن پارلیمنٹ نیچے گرگئی۔ پارلیمنٹ میں سیکوریٹی دستوں کی فوج اتارنے کا واقعہ پہلی بار ہوا ہے۔یہ جمہوریت پر حملہ ہے۔ اس پریس کانفرنس میں این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک، وزیرتعمیرات جیتندراوہاڈ بھی موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔