• 425
    Shares

چین اور ہندوستان کے درمیان پیداہوئی تشویشناک صورت حال پرتمام پارٹیوں کومتحدہونا چاہئے

لکھیم پور کھیری تشددوقتل معاملہ میں وزیرداخلہ برائے مملکت فوری طور پراستعفی دیں

کیا این سی بی صرف مرکز کو معلومات دینے کے لئے کچھ ضبطیاں کررہی ہے؟

این سی پی کے سربراہ شردپوار کی پریس کانفرنس، بی جے پی واین سی بی پرسخت تنقید

ممبئی: ملک کی سرحدوں کے مجھے تھوڑی بہت معلومات ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے چین کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے۔کل دونوں ملکوں کے درمیان 13 ویں بار بات چیت ہوئی جس کے ناکام ہوجانے کی خبر ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ بات چیت ناکام ہو رہی ہے تو دوسری جانب پونچھ میں رد عمل سامنے آرہا ہے۔مسلسل وقوع پذیر ہونے والے یہ واقعات باعث تشویش ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں سیاست سے بالاتر ہوکر ایک ساتھ آکر متحدہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے قومی صدرشردپوار نے کہی ہیں۔ وہ یہاں پارٹی کے صدر دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

اس پریس کانفرنس میں شرد پوار نے نہ صرف این سی بی، ای ڈی، محکمہ انکم ٹیکس پر تبصرہ کیا بلکہ لکھیم پور تشدد معاملے میں یوپی حکومت کو بھی نشانہ بنایا جبکہ مہاراشٹربند میں تعاون کرنے پر ریاست کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ کل کے واقعے سے آئندہ کا لائحہ عمل طئے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس معاملے میں کس طرح کلیکٹیو لائن اختیار کی جائے اور ملک کے عام لوگوں کو خبردار کیا جائے؟ اس کی کوشش کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے تحت کی تمام ایجنسیوں کے غلط استعمال کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ سی بی آئی، محکمہ انکم ٹیکس، ای ڈی، این سی بی جیسی ایجنسیوں کااستعمال سیاسی مقاصد کے تحت کیا جارہا ہے۔اگر کچھ مثالیں دینی ہوں تو مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کی مثال دی جاسکتی ہے جن پر ممبئی کے سابق پولیس کمشنر نے کچھ الزامات عائد کئے۔اس سے ایک ماحول بنایا گیا۔ جنہوں نے الزام عائد کیا وہ آج کہیں نظر نہیں آرہے ہیں۔ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا کہ ایک ذمہ دار اتھارٹی کا افسر اس طرح سے بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہو۔ انیل دیشمکھ نے الزامات کے فوری بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا مناسب سمجھا۔ دوسری طرف پرم ویر سنگھ پر اب الزامات کا تسلسل شروع ہے۔یہ الزامات عائد ہوتے ہوئے پرم ویر سنگھ غائب نظرآرہے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ انیل دیشمکھ کے گھر پر کل پانچویں بار چھاپہ مارا گیا ہے۔ پانچ پانچ بار ایک ہی شخص کے گھر پر چھاپہ پڑنے کا مطلب یہ ہے کہ سی بی آئی ایک ریکارڈبناناچاہتی ہے۔

شردپوار نے کہا کہ اتر پردیش کے لکھیم پورکھیری میں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں معلومات سامنے آئی ہیں۔ خوش قسمتی سے اس کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔ کچھ لوگوں نے پرامن کسانوں کو اپنی گاڑیوں سے روند کر مارا جس کی وجہ سے تشدد ہوا اور بدقسمتی سے تین یا چار افراد مارے گئے۔ اس واقعہ کے وقت وہاں موجود کسانوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ کے صاحبزادے اس گاڑی میں موجود تھے۔ تاہم اتر پردیش حکومت نے اس دعوے کو مسترد کردیا۔ اگر حکمراں جماعت کے وزیر الزامات لگے ہیں تو حکمراں جماعت کو اس معاملے میں کوئی واضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت تھی، لیکن حزبِ اقتدار نے خاموش رہنا زیادہ مناسب سمجھا۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ خاطیوں کے خلاف کارروائی کی اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کو اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے،انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدینا چاہئے۔

شردپوار نے کہا کہ مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے کچھ لوگوں کو بدنام کیا جارہا ہے۔ نواب ملک نے کچھ باتیں میڈیا کے سامنے پیش کی ہیں۔ میں نے بھی کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ میں اپنے طویل پارلیمانی تجربے کی بنیاپر انتظامیہ کی بھی کچھ معلومات رکھتا ہوں۔ اقتدار واپوزیشن میں کام کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ ہمارے بہتر تعلقات رہتا ہے۔ ہم کبھی بھی اقتدار کے نشے میں نہیں رہتے ہیں۔ نواب ملک نے سمیر وانکھیڈے پر الزام لگائے۔اس سے قبل وہ ائیرپورٹ پر کام کررہے تھے، وہاں پر بھی ان کی کچھ کہانیاں مجھ تک پہنچی ہیں لیکن میں ابھی اس پرکوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔این سی بی نے گزشتہ چندسالوں میں جو نشیلی اشیاء ضبط کی ہیں ان کی مقدار بہت کم ہے۔ اس کے برعکس مہاراشٹر اینٹی نارکوٹکس اسکواڈ نے کہیں زیادہ مقدار میں نشیلی اشیاء ضبط کی ہیں۔ اس لئے یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مرکزی ایجنسی صرف مرکز کو معلومات دینے کے لئے ہی ضبطیوں کی کچھ کارروائی کررہی ہے؟اس کے علاوہ گوسوامی نامی ایک شخص کو این سی بی نے پنچ کے طور پر لیا ہے۔انتظامیہ کو اپنی کارروائی کو حق بہ جانب بتانے کے لئے اچھے کردار کے لوگوں کوپنچ کے طور لینے کی روایت ہے۔ لیکن این سی بی نے جس گوسوامی کو پنچ بنایا ہے وہ ایک مفرور شخص ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پنچ کی شمولیت مشکوک ہے۔ اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ جن افسران نے گوسوامی جیسے لوگوں کو پنچ بنایا ہے ان افسران کا بی جے پی سے ایک خاص تعلق نظرآتا ہے۔ اسی لئے جب اس ایجنسی پر الزام عائد ہوتا ہے تو اس ایجنسی سے قبل ہی بی جے پی کے لوگ اس کا بچاؤ کرنے کے لئے میدان میں اترآتے ہیں۔ یہ سبھی کے لئے ایک نیا تجربہ ہے اورملک کے لئے نہایت تشویشناک ہے۔

اس پریس کانفرنس میں این سی پی کے ریاستی ووزیرآبپاشی جینت پاٹل، قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک، این سی پی کے خزانچی ہیمنت ٹکلے، ریاستی جنرل سکریٹری شیواجی گرجے، ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے وسابق ایم ایل اے ودھاتائی چوہان موجود تھیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔