ممبئی:احتجاج کرنا ہرکسی کا بنیادی حق ہے لیکن اگر یہ احتجاج تشدد کا راستہ اختیار کرلے تو یہ کسی طور مناسب نہیں ہے۔ لوگوں کو امن وامان برقراررکھنا چاہئے۔ جو لوگ اس تشدد کے ذمہ دار ہونگے ان کے خلاف کارروائی تو کی ہی جائے گی لیکن اسی کے ساتھ وسیم رضوی جس کی وجہ سے ملک کا ماحول خراب ہورہا ہے، اس پر بھی فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ یہ باتیں آج یہاں این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہی ہیں۔

نواب ملک نے کہا وسیم رضوی بی جے پی کے اشارے پر ملک کا فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے کی مسلسل کوشش کرتا ہے، مرکزی حکومت کو اس بات کی خیال رکھنا چاہئے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کرے جس سے ماحول خراب ہو۔ انہوں نے کہا کہ تریپورہ میں جو تشدد ہوااور وسیم رضوی نے جو کتاب لکھی ہے اس کے خلاف بعض تنظیموں نے بند کا اعلان کیا تھا۔اس بند کے دوران ناندیڑ ودیگر مقامات پر پرتشدد واقعات رونما ہوئے جس کی میں سخت مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ احتجاج ومذمت کرنا عوام کا حق ہے لیکن پرتشدد واقعات میں ملوث ہونا کسی طور مناسب نہیں ہے۔احتجاج وبند کا اعلان کرنے والوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں کوئی تشدد نہ ہو۔ کل کے واقعے میں جولوگ ملوث ہوئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ عوام کو چاہئے کہ وہ امن وامان برقرار رکھیں۔

نواب ملک نے کہا کہ وسیم رضوی گزشتہ دو چار سالوں سے اس ملک کا امن وامان کو خراب کرنے کے لئے مختلف بیانات دیتا رہتا ہے۔ لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لئے کتابیں لکھ رہا ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہورہی ہے۔ وہ ایک سازش کے تحت ملک کا ماحول بگاڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی جب شیعہ وقف بورڈ کا چیئرمین تھا تو اس نے بورڈ میں کئی

بدعنوانیاں کی تھیں۔ 2016-17میں اس کے خلاف پولیس میں شکایت درج ہوئی تھی اور شیعہ برداری کے لوگوں نے اس کے خلاف وزیراعظم نریندرمودی ووزیردفاع راج ناتھ سنگھ سے بھی شکایت کی تھی۔ اس کے بعد اس کی تفتیش سی بی آئی کے سپرد کردی گئی تھی لیکن سی بی آئی نے یہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا اور وسیم رضوی کو اپنے متنازعہ بیانات کے ذریعے ملک کا ماحول خراب کرنے کی کھلی چھوٹ دیدی۔ آج وسیم رضوی کی وجہ سے ملک کا ماحول خراب ہورہا ہے اس لئے مرکزی حکومت سے میرا مطالبہ ہے کہ وہ وسیم رضوی کے خلاف فوری کارروائی کرے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔