شندے-فڈنویس کی حکومت دو پہیوں والی اسکوٹر لیکن ہینڈل پیچھے بیٹھے ہوئے شخص کے ہاتھ میں

13

ممبئی: جب ریاست میں تین پارٹیوں کی مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت آئی تو اسے تین پہیوں والی آٹورکشا حکومت قرار دیا گیا۔ لیکن کل مہاراشٹر میں نئی حکومت وجود میں آئی۔یہ دو پہیوں والا سکوٹر ہے۔ اس حکومت میں سامنے بیٹھے شخص کے پاس اسکوٹر کا ہینڈل نہیں ہے بلکہ پیچھے بیٹھے شخص کے ہاتھ میں ہے، وہ جہاں چاہے گا اسکوٹر لے جائے گا۔یہ تنقید آج یہاں این سی پی کے ریاستی ترجمان مہیش تپاسے نے ایک پریس کانفرنس میں کی ہے۔

این سی پی کے ریاستی دفتر میں مہیش تپاسے نے پریس کانفرنس میں مختلف مسائل پر پارٹی کا موقف پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ شیوسینا کے باغی ارکانِ اسمبلی جو چاہے کہیں،کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، ادھوٹھاکرے صاحب کی ہی اصل شیوسینا ہے۔ باغی ارکان اسمبلی کو ماتوشری میں جاکر ادھوٹھاکرے سے معافی مانگنی چاہئے۔ شرد پوارصاحب کو محکمہ انکم ٹیکس کی طرف سے نوٹس موصول ہوا ہے۔

مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت جاتے ہی شیوسینا لیڈر سنجے راؤت اور انل پرب کو ای ڈی کی طرف سے نوٹس موصول ہوئے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ سیاسی سازش ہے یا پھر معمول کی کارروائی۔ملکی سطح پر جو بھی اپوزیشن پارٹی بی جے پی کے خلاف آواز اٹھاتی ہے ان تمام کو مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے نوٹس بھجی جارہی ہے۔ پھر چاہے وہ ممتا بنرجی ہوں، کیجریوال یا پھر راہل گاندھی ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ پوار اصاحب انکم ٹیکس کی نوٹس کا معقول جواب دیں گے۔

تپاسے نے کہا کہ نئی حکومت کی پہلی کابینہ نے میٹرو کار شیڈ اور جل یوکت شیوار سے متعلق فیصلہ کیا۔ ٹھاکرے حکومت میٹرو کار شیڈ کو کانجورمارگ لے گئی تھی۔ اسے دوبارہ آرے میں لانے کا حکم فڈنویس کے ذریعہ ایڈوکیٹ جنرل کو جاری کیا گیا ہے۔آرے کے جنگلات کاٹنے کی ماحولیات سے محبت کرنے والے اورممبئی کے لوگوں کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ممبئی کے آکسیجن بچانے کے لیے ادھوٹھاکرے حکومت نے بہترین فیصلے کیے تھے۔جل یوکت شیوار کے تعلق سے کل احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ سی اے جی نے اس پروجیکٹ پر بار ہا تنقید کی ہے۔

اس کے باوجود ذاتی مفاد کے تحت یہ پروجیکٹ دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ تپاسے نے کہا کہ نوپور شرما کے معاملے میں سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ خوش آئند ہے اور پوری بی جے پی کو ملک سے معافی مانگنی چاہئے۔اس پریس کانفرنس میں ریاستی ترجمان سنجے تٹکرے، کلائیڈ کرسٹو، مہیش چوہان وغیرہ موجود تھے۔