ممبئی: ملک میں آج کل کورونا کے متاثرین کی تعداد یومیہ ۴لاکھ تک پہونچ رہی ہے۔ متاثرین کی تعداد میں یہ اضافہ اس لیے ہے کہ کورونا کی صورت حال کو سنبھالنے میں مودی سرکار نہ صرف مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے بلکہ بے بس بھی ہوچکی ہے۔ یہ الزام آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے عائد کی ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ وہائی کورٹ نے کورونا کی صورت حال میں اپنے احکامات کے ذریعے مرکزی حکومت کو ذمہ داری کا احساس کرایا لیکن مرکزی حکومت مکمل طور پر بے بس نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے لیے آکسیجن کا کوٹہ متعین کیے جانے کے باوجود نہیں دیا جارہا ہے۔ دو دن قبل ہی کرناٹک کے پلانٹ سے آنے والا پچاس ٹینکوں کا کوٹہ ابھی تک نہیں آسکا ہے۔

اسی طرح ریمیڈیسیور کا کوٹہ طئے کرنے کے باوجود ریاستوں کو وقت پر تقسیم نہیں کیا جاپارہا ہے۔ ٹیکہ کاری کا پروگرام ٹھپ پڑ گیا ہے۔ پہلا ڈوز لیے ہوئے ساڑھے چار لاکھ لوگ ہیں جنہیں دوسرا ڈوز دیا جانا چاہیے لیکن انہیں نہیں دیا جاپارہا ہے۔ ریاستی حکومت نے ویکسی نیشن کا اپنا پروگرام ونظام ترتیب تو دیا ہے مگر ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے پاس ویکسین نہیں ہے۔

نواب ملک نے کہاکہ مودی حکومت صرف بھاشن بازی اور اعلانات کرنے میں وقت برباد کررہی ہے۔ ہمیں آکسیجن نہیں مل رہا ہے، وقت پر ریمیڈیسیور فراہم نہیں کیا جارہا ہے اور اب ساڑھے چار لاکھ لوگوں کو ویکسین کا دوسرا ڈوز نہیں دیا جاپارہا ہے۔

کیا مرکزی حکومت قصداً ناانصافی کررہی ہے یا پھراس قدر بے بس ہوچکی ہے کہ وہ کام ہی نہیں کرپارہی ہے؟ نواب ملک نے مطالبہ کیا کہ جلد ازجلد ویکسین فراہم کی جائے، 50ٹن آکسیجن کوٹہ ہے، اسے فورا دیا جائے نیز ریمیڈیسویر کا ذخیرہ فوری طور پر فراہم کیا جائے۔