• 425
    Shares

ممبئی:یو پی اے حکومت کے دور میں پٹرول وڈیژل کی قیمتوں میں اگر ایک روپیہ کا اضافہ ہوتا تھا تو بی جے پی تانڈوکرنے لگتی تھی۔ آج جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پورے ملک میں ہاہاکار مچا ہوا ہے، بی جے پی خاموش کیو ں ہے؟ یہ سوال آج یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ریاستی ترجمان مہیش تپاسے نے کیا ہے۔ وہ یہاں میڈیا کے نمائندو ں سے خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں پٹرول، ڈیژل وکوکنگ گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی حکومت نے پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں ڈیڑھ سو فیصد کا اضافہ کیا ہے۔ مودی حکومت کو یہ یادرکھنا چاہئے کہ یو پی اے حکومت کے دور میں بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بہت زیادہ ہونے کے باوجود سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنی معاشی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے پٹرول،ڈیژل وگیس کی قیمتوں کو قابو میں رکھا تھا۔تپاسے نے کہا کہ مہاراشٹر میں اب گیس پر سبسڈی بند ہوگئی ہے۔ پٹرول وڈیژل کی قیمتوں نے عام آدمی پرزبردست بوجھ ڈال دیا ہے۔۶ مہینے میں تقریباً 190/روپئے کا اضافہ صرف گیس سیلنڈر پر ہوا ہے۔بی جے پی نے خود کی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر ملک میں سرمایہ دارانہ سیاست شروع کیا ہے جو اسے بہت مہنگا پڑے گا اور آنے والے انتخابات میں عوام اس کو اس کا جواب یقینا دے گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔