ممبئی: نبئی آخرالزماں سرکاردوعالم صلی اللہ وتعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے یتی نرسمہانند سرسوتی کے خلاف مسلمانوں میں غم وغصہ بڑھتا جارہا ہے۔ دہلی وممبئی سمیت کئی شہروں میں اس کے خلاف احتجاجات ہورہے ہیں اور ایف آئی آر درج کرائی جارہی ہیں، مگر ملعون

نرسمہانند سرسوتی ہنوز آزاد ہے۔ ایسے میں مہاراشٹر کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نرسمہانندکے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے رسولِ اقدس کی شان میں گستاخی کرنے و مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے جرم میں اسے فوری طور پر گرفتار کرے۔ واضح رہے کہ نرسمہانند سرسوتی نے کچھ روز قبل دہلی کے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں پیغمبرِ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سخت نازیباباتیں کہی تھیں، جس کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ملک وبیرونِ ملک مسلمانوں میں شدیدغم وغصہ پایا جارہا ہے۔

نسیم خان نے کہا ہے کہ پیغمبرِ اسلام ومسلمانوں کے بارے میں گستاخانہ ونازبیا بیانوں کا اب ایک سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس کی پشت پناہی کسی نہ کسی طور پر مرکز کی مودی حکومت کررہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا توآئین ودستور کے خلاف کسی کے مذہبی جذبات کے مجروح کرنے پر کارروائی کی جاتے اور نرسمہانند جیسا ناہنجار پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی کرنے اور مسلمانوں کے بارے میں نازیبا باتیں کہہ کر فرقہ واریت پھیلانے کی جرأت کبھی نہ کرتا۔ نسیم خان نے مزید کہا کہ کچھ روز قبل ملعون وسیم رضوی نے قرآن مقدس کی کچھ آیات کے بارے میں پٹیشن داخل کرکے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کا مرتکب ہوا تھااور اب نرسمہانند سرسوتی نے بھی

پیغمبرِ اسلام ومسلمانوں کے بارے میں نازیبا باتیں کہہ کر اسی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنا نہ صرف آئین ودستور کی پاسداری ہوگی بلکہ یہ ملک میں امن وامان کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس لیے مرکزکی مودی حکومت ودہلی کی کیجریوال حکومت سے ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ وہ اس بدبخت وبدزبان ملعون نرسمہانند کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے فوری طور پر گرفتار کرے۔