ممبئی: بی جے پی کی پشت پناہی سے امراؤتی میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر وسابق وزیرنسیم خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جو لوگ بھی اس تشدد میں ملوث ہیں اور جن لوگوں نے بھی اس کی پشت پناہی کی ہے ان سب کے خلاف فوری طور پرسخت کارروائی کی جائے۔واضح رہے کہ تریپورہ میں حالیہ دنو ں میں رونماہونے والے واقعات کے خلاف جمعہ کو مسلمانوں نے ریاست کے مختلف مقامات پر بند کا اہتمام کیا تھا لیکن کچھ شرپسند عناصر نے کچھ مقامات پر تشدد برپاکردیا۔ جس کے جواب میں امراؤتی میں بی جے پی کی پشت پناہی سے دوسرے روز یعنی سنیچر کو جبراً بند کا اعلان کیا گیا اورسنگ باری وآتش زنی کی گئی جس میں کئی دوکانوں ومکانات کو نقصان پہونچا ہے۔

امراؤتی میں پرتشددواقعات کی خبرملتے ہی نسیم خان نے ریاست کے وزیرداخلہ دلیپ ولسے پاٹل سے بات کرتے ہوئے تشدد پر قابوپانے کے لئے کہا جس کے بعد وزیرداخلہ نے ریاست کے ای ڈی جی کو حالات پر قابوپانے کے لئے فوری طو رپر امراؤتی روانہ کردیا۔ نسیم خان نے کہا کہ تریپورہ کے واقعات کے خلاف بند میں کچھ مقامات پر تشدد کے جوواقعات رونما ہوئے ہیں ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، لیکن اس کا بہانا بناکر جن لوگوں نے امراؤتی میں پولیس کی موجودگی میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے کی کوشش کی ہے وہ بھی کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ امراؤتی کے تشدد میں واضح طور بی جے پی کی حمایت یافتہ لوگ شامل ہیں جو ریاست بھر میں فرقہ وارانہ ماحول بگاڑکرسیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی مختلف تنظیموں کی جانب سے جو بند کا اعلان کیا گیا تھا وہ رضاکارانہ اور پرامن تھا لیکن کچھ شرپسند عناصر نے اس میں تشدد برپاکردیا۔ ہم یقینی طور پر اس تشدد کی بھی مذمت کرتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ امراؤ تی جبرا دوکانوں کو بندکرانے کے دوران جس تشددکا مظاہرہ کیا گیا اسے بھی کسی طور جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔نسیم خان نے اس موقع پر عوام سے بھی اپیل کی وہ امن وامان کو برقراررکھیں اور کسی بھی افواہ پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت فساد برپاکرنے والوں کو کسی طور نہیں بخشے گی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔