Moiz Hashmi
معزہاشمیٗ منظور پورہ ،اورنگ آباد۔ ۴۳۱۰۰۱ (مہاراشٹر
موبائل  :  +91 9372696300۔email : mhmypleasure@gmail.com
ہمارے شہر اورنگ آباد میں طلسم ہو شرباسے سے زیادہ مشہور ومقبول داستان نان وقلیہ صدیوں سے کھانے والوں کی پسند یدہ تصا نیف میں شمار ہوتی ہے ۔معرکہ نان و قلیہ طویل مدتی محاصرہ کے بعد یلغار کی شکل میں میدان کا رزار میں وقوع پذیر ہوتا ہے دونوں جانب سے صفیں مستعد ہوجاتی ہیں اوردیکھتے ہی دیکھتے وہ لمحہ آتا ہے جب دونوں جانب کی صفیں وقتل عام مچاتی ہیں کہ میدان کا رزار مہلو کین اورزخمیوں سے بھر جاتا ہے بیرونی رسد کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور مورخ ایک نئی تاریخ لکھتا جاتا ہے پہلا حملہ کا میابی سے ہواہی تھا کہ دوسرا تا زہ دم جتھہ مورچہ سنبھا ل لیتا ہے باوجو دنا کہ بندی مورچہ بندی اورصفوں کی صف بند یاں دوبارہ ہونے لگتی ہیں اوراسی کے ساتھ میدان جنگ سے بگل بجتا ہے اورمحاصرہ کی ہوئی فوج ایک بار پھر یلغار کرتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تا زہ دم میدان سرکرلیتے ہیں ۔مسلسل اورجارحانہ حملوں نے نان وقلیہ کے ملے جلے زخموںسے میدان کارزار کو لالہ زار کردیا ۔کبھی آتے ہوئے سامان رسد کی کمک ہرجان لیواحملوں سے جوافراتفری مچی اس سے بھی میدان جنگ کی زمین رستے لہوں کی شہادت پیش کرتا رہا اورپھر وہ وقت آتا ہے جب سالارمیدان شکست کے اعتراف میں سرخم تسلیم کرتے ہیں اورسفید علم بلند کردیتا ہے۔ بالآخر یہ معر کہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اورہم وہ مرد مجاہدی ہیں جومیدان کا رزارسے سالم وغانم بن کر لو ٹتے ہیں اوراس مال غنیمت کو جلد ٹھکانے کی خاطرا حباب کی ساتھ وسائل ہضم کی جانب چل پڑتے ہیں ۔اسی طرح وہ تمام بندے جواس معرکہ میں ہمارے ساتھ کا ندھے سے کاندھا ملاکر اپنی جو انمر وی کے جوہر دکھا چکے وہ بھی جشن فتح مناتے ہوئے اپنی کمین گاہوں کی جانب چل پڑتے ہیں ۔
یہ معر کہ نان وقلیہ صدیوں سے جاری ہے اورآئندہ بھی جاری رہے گا اوراسی طرح میدان کا رزاراس عظیم معرکہ کے مجاہد ین کو دعوت مبارزت دیتا رہے گا ۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میدان جنگ کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے اورمجاہدین جو معرکہ نان وقلیہ کی آس میں اپنے قدم میدان کارزار کی طرف بڑھا تے ہیں اچانک انھیں پتہ چلتا ہے کہ یہاں معرکہ بریانی بپاہونے جارہاہے تووہ اپنے ہتھیارڈال دیتے ہیں اور شکست خوردہ فوج کی طرح میدان جنگ کواپنی پیٹھ دکھا دیتے ہیں کئی ایک تواس معرکہ میں شرکت کو کسر شان سمجھتے ہیں اورکمزورحریف جان کر پروانہ معافی کے اندازمیں اپنی تلوار یں میان میں رکھ دیتے ہیں ۔ صدیاں بیت گئی میدان جنگ کے اصول بدل گئے گھوڑوں ، ہاتھیوں اورتیغ و تلوار کی جگہ بندوقیں ،بم اورٹینکوں نے لے لیں لیکن نان وقلیہ کی جنگ کے اصول نہیں بدلے۔ بعض افرادنے اس میں جدت لانے کی کوشش کی مثلاً صف بندی کی جگہ میز کرسی پر بیٹھ کرنان وقلیہ کی بساط سجائی لیکن انھیں ناکامی کی صورت زدہ بکتر پر گرکر صاف نظر آئی ۔ہمارے غازی نان و قلیہ کے مجاہد جنھوں نے اپنی ساری زندگی اس عظیم معرکہ سے بر پیکا ررہ کراپنی جانیں واحد لاشریک کو سپردکیں انہوں نے بھی ان جنگی اصولوں کو کبھی نہیں توڑا،اسی وجہ سے وہ کامیابیوں کے پرچم لہر اگئے اورکئی عظیم الشان فتوحات سے سرفراز ہوئے اورتاریخ کے صفحات پرروشن ستارے بن کر چمکے ۔
نان وقلیہ کی جنگ دوعام اصولوں پرلڑی جاتی ہے ایک قلعہ بند ہو کر اوردوسری کھلے میدانوں میں۔ قلعہ بند جنگ میںمحا صرہ کی مدت طویل ہوتی ہے اندراتنی رسد ہوتی ہے کہ بیرونی رسد کی نہ پہنچنے کی مشکل میں بھی اندرونی آبادی اچھی طرح شکم سیر ہوجاتی ہے ۔لیکن جب فاتح افراد قلعہ کا دروازہ کھول کر بیرونی دنیامیں قدم رکھتے ہیں توباہرکے محاصرہ کو توڑ کر انھیں نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ایک واقعہ نگارکے مطابق ایسا نظر آتا ہے جیسے اندرونی اوربیرونی مجاہد ین آپس میںبر سر پیکا رہیں اوروہ دھکم پیل ہوتی ہے کہ کون فاتح ہے وہ اورکون مفتوح اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ شکم سیری اورخالی شکم کے بیچ یہ ازلی دشمنی ہے جو ایسے مواقع پرکھل کر سامنے آجاتی ہے ۔ قلعہ بند جنگ میں یہی سب کچھ ہوتاہے ۔ دوسری لڑائی کھلے میدانوں میں لڑی جاتی ہے اس میں ہرکوئی مورچہ سنبھا لنے کے لیے سارے میدان میںاپنے گھوڑے دوڑ اتا پھر تا ہے اورجہاں کوئی مناسب جگہ ملی اپنی کمند ڈال دیتا ہے ۔صفیں یہاں بھی بنتی ہیں لیکن اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ رسد بر موقع نہیں پہو نچ پاتی جو مجاہد رسد گاہ کے قریب صف باندھے ہوتے ہیں وہ بڑے مزے میں اورآسانی سے جنگ شروع کردیتے ہیں اورجو دوری پر مورچہ سنبھا لیں بیٹھے ہیں وہ رسدکی راہ دیکھتے اورساتھ ہی ہراول دستوں پرللچائی نظروں سے تکتے رہتے ہیں کہ کب گولہ باردو اورسیال مادوں کی شکل میں رسدان تک پہو نچے گی اور وہ میدان جنگ میں اپنی جوانمردی کے جوہر دکھلا ئیں گے ۔بہرحال کسی نہ کسی طرح رسدان تک پہنچ ہی جاتی ہے اوروہ شیر کی طرح اپنے اس ازلی اور پسندیدہ شکار پر ٹوٹ پڑتے ہیں پھر وہ ہڑبونگ مچتی کہ ایک چشم دید جواس جنگ میںبذات خودشر یک تھے ان کے بیان کے مطابق نان کب قلیہ میں غوطہ زن ہوئی اورکب وہ مردمجاہد کے شکم میں پہنچی ،نان ٹوکروں میں اورقلیہ بادیوں میں میدان جنگ میں پہنچتا رہتا ہے ۔یہ وہ مناظر ہوتے ہیں جواس میدان کی جنگ میں رسد پہنچا نے والوں کی تری تری میںمل کر اس لڑائی کو اوربھی تقویت بخشتی ہے اورہر کوئی یہ عزم لئے ہوتا ہے کہ کسی طرح وہ یہ جنگ جیت جائے اورتاریخ میں اپنی شکم سیری کو رقم کریں ۔علاقہ وار یت کی اس جنگ کو بیرونی مندوبین بڑی تعجب کی نظروں سے دیکھتے ہیں بڑی کوشش کے بعدانھیں یہ لڑائی لڑنی پڑتی تووہ ہمارے علاقے کے شکم سیروں کی فوج کا مقابلہ نہیںکر پاتے اوربہت جلد ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
بہر حال نان وقلیہ کی یہ جنگ شادی بیاہ کی تقریبات تک محد ودنہیں رہی بلکہ عقیقہ ، تسمیہ خوانی ، سالگرہ اوررسموں جیسے خوشی کے مواقع کو پھاند کر دسواں ،چہلم اوربرسی جیسے موقعوں پربھی اس جنگ کا آغاز ہو چلاہے آج کل تویہ روایا ت بھی اس جنگ کا باعث بننے لگیں کہ کسی کا لخت جگر دسویں اوربارہویں میں کئی بار نامراد ہو کربا لآخر کا میابی کی سیڑھی چڑھ ہی گیا کہ اہل خانہ نے نان وقلیہ کی جنگ کا ہتمام کرڈالا ۔ہمارے چشم دید گواہ کے مطابق ان مواقع پر بھی چھاپہ ماردستوں نے وہی روایتی جنگ کا آغاز کردیا جو مدتوں سے چلاآرہاہے ۔دنیا بھر میں کئی بڑی بڑی عالمی جنگیں ہوئیں۔ پہلی ،دوسری عالمگیر جنگیں برپاہو ئیں لیکن ان تمام جنگوں کے مقابلے میںنان وقلیہ کی جنگ تاریخ میں اپنا ایک منفر د مقام رکھتی ہے۔
مورخ جب بھی عظیم جنگوں کا ذکرکرے گاہمارے علاقے کی نان وقلیہ کی جنگ عظیم کے بغیراس کا تذکرہ نا قص وادھورہ کہلائے گا ۔
٭٭٭