لاتور:30اگست (محمدمسلم کبیر)عثمان آباد میں31اگست کو مہاراشٹر ریاستی مسلم تحفظات کانفرنس منعقد کی جارہی ہے. اس کانفرنس میں دو اجلاس منعقد ہونگے جس میں صبح کے اجلاس کی صدارت کانگریس کے راجیہ سبھا رکن حسین دلوائی کریں گے اور مہمانان خصوصی کی حیثیت سے راجیہ سبھا رکن ماجد میمن, ایم ایل سی بابا جانی درانی , ایم ایل اے سید امتیاز جلیل,ایم ایل اے اسلم شیخ, مناف حکیم, جماعت اسلامی کے توفیق اسلم خاں, عزیز پٹھان, اور یوسف ابراھانی کے علاوہ کانگریس کے ایم ایل اے مدھوکر راو¿ چوہان, شیوسینا ممبر پارلیمنٹ رویندر گائیکواڑ, بی جے پی کے ایم ایل سی سجیت سنگھ ٹھاکور, راشٹروادی کے ایم ایل اے راہول موٹے, شیوسینا کے گیانراج چوگلے, ایم ایل سی وکرم کاڑے اور مکرند نمبالکر موجود رہیں گے.دوسرے اجلاس کی صدارت راشٹروادی کانگریس کے نواب ملک کریں گے. اور مہمانان خصوصی کی حیثیت سے ایم ایل اے عارف نسیم خاں, ابو عاصم اعظمی, شیخ عبدالستار , ایڈوکیٹ وارث پٹھان, حسن مشرف, امین پٹیل, مولانا ندیم , ایڈوکیٹ خواجہ بیگ, ایم ایل سی ڈاکٹر وجاہت مرزا کے علاوہ سابقہ وزیر فوزیہ خاں, غفار ملک, عزیز محی االدین اور جبار قاضی بھیونڈی موجود رہیں گے.اس کانفرنس کے صدر استقبالیہ ایم ایل اے رانا جگجیت سنگھ پاٹل ہیں. گذشتہ چند سال سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومتوں نے مختلف وعدے کئے مگر عمل نہ دارد. اب عثمان آباد میں منعقد ہورہے اس کانفرنس میں شیوسینا, بی جے پی سمیت مجلس اتحادالمسلمین, راشٹروادی کانگریس, انڈین نیشنل کانگریس, سماجوادی پارٹی اور دیگر تمام سیاسی سماجی و سیاسی پارٹیوں کے قائدین کی شرکت متوقع ہے. اب عام مسلم نوجوان کا سوال یہ ہے کہ یہ ساری پارٹیاں جب مسلمانوں کے حقوق کے لئے کاربند ہیں اور تمام شعبہ حیات میں تحفظات کے حامی ہیں تو پھر عمل آوری میں رکاوٹ کون اور کہاں کررہا ہے.
اقلیت بالخصوص مسلمانوں کی سماجی,اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لئے مرکز میں برسر اقتدار حکومتوں نے اپنے اپنے دور میں مختلف کمیشنس اور کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا. ان میں سے 2004 میں برسر اقتدار ہونے کے ایک برس بعد کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے ملک میں آزادی کے بعد سےاب تک مسلمانوں کی سماجی،اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کا پتہ لگانے کے لیے 2005 میں سچر کمیٹی کی تشکیل کی،جس نے اپنی رپورٹ وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ حکومت کو 17 نومبر، 2006 کو سونپ بھی دی۔دریں اثنائ 2004 کے اواخر میں لسانی و مذہبی اقلیتوں سے متعلق متعدد ایشوز کی تحقیق کے لیے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنگناتھ مشرا کی سربراہی میں’قومی کمیشن برائے مذہبی و لسانی اقلیت‘ کا قیام عمل میں لایا.جس نے مئی 2007 کو اپنی رپورٹ حکومت کو سپرد کی.جسٹس سچر کمیشن نے اقلیتوں کے موجودہ حالات کا مفصل جائزہ معہ سفارشات حکومت کو پیش کیا. اس پر مرکز کے دونوں ایوانوں میں کافی بحث مباحثہ بھی ہوتارہا بالآخر اس وقت کی کانگریس حکومت نے جسٹس سچر کمیشن کی اس رپورٹ اور سفارشوں کو قبول کرلیا اور اس کے نفاذ کا اعلان بھی کیا تاہم اس پر مکمل طور پر سنجیدگی سے عمل ندارد. محض چند اسکالرشپس کا جاری کرنا اور اس کے حصول کے لئے بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے. اقتصادی اور سماجی معاملات کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا.جسٹس سچر کمیٹی نے اپنی سفارشات میں اس بات پر زور دیا تھا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو اگر دور کرنا ہے،تو ان کے لیے بنیادی تعلیم کا انتظام ان کی مادری زبان،یعنی اردو میں کرنا ہوگا، لیکن یو پی اے حکومت نے نہ تو اردو میڈیم کے سرکاری پرائمری اسکول کہیں پر کھولے ہیں اور نہ ہی ملک بھر کے ان پرائیویٹ اسکولوں کو ترجیحی بنیاد پر کوئی خاص سہولت عطا کی ہے،جہاں پر اردو میڈیم کے ذریعے تعلیم کا نظم و نسق ہے۔
اس وقت کی حکومت مہاراشٹر نے جسٹس سچر کمیشن کی سفارشات پر عمل آوری کے لئے مزید ایک کمیٹی محمود الرحمن کمیٹی قائم کی اور مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں اقلیتوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے اور اس کی مفصل رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا.جس نے اپنی سفارشات ریاستی حکومت کے سپرد کرتے ہوئے اقلیت بالخصوص مسلمانوں کی پسماندگی کاجائزہ اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کی ہمہ جہت پسماندگی کے اسباب اورحل کو پیش کیا ہے.اپنے آپ کو اقلیتوں کے ہمدرد کہنے والے کانگریس اور راشٹروادی کانگریس نے اپنے دور حکومت کے آخری لمحات میں ریاست مہاراشٹر میں مسلمانوں کو تعلیمی شعبہ جات میں 5 فیصد تحفظات فراہم کیا.لیکن عدالت نے یہ 5 فیصد تحفظات سوائے تعلیمی شعبے کے کہیں اور قبول نہیں کیا.چونکہ حکومت کی جانب سے اپنے اس ادعا پر عدالت میں ناقص پیروی اور اثبات کی عدم پیشی سے اقلیتوں کے لئے فراہم کئے گئے تحفظات معلق رہ گئے.لیکن تعلیمی شعبے کے لئے ان تحفظات کو برقرار رکھنے میں موجودہ زعفرانی حکومت نے اپنا متعصابانہ اورفرقہ پرست نظریہ کے مدنظر اقلیتوں کی جانب سے نکالے گئے جلوس و اجلاس کی طرف قطعا توجہ نہیں دی بلکہ ان کی طرف قطعی نظر انداز کیا.افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے کہ کانگریس کے دور حکومت میں بی جے پی کے کسان قائد اور سابق ایم ایل سی سید پاشاہ پٹیل نے ریاست بھر جلسوں کا انعقاد کرکے سچر کمیشن کی سفارشات کے نفاذ کے لئے تمام مسلمانوں کو ورغلایا اور اپنی سیاسی ساخت کو قائم رکھنے کی کوشش کی لیکن جب ان کی پارٹی کی حکومت برسر اقتدار آئی تو سید پاشاہ پٹیل اپنے بھائیوں کو ان کا اپنا حق دلانے سے مکر کرمسلم آرکشن مورچوں سے کافور ہوگئے.اب تو وہ مسلمانوں کے حقوق کی بات بھی نہیں کرتےاور نہ ہی اس مسئلے پر اپنا موجودہ موقف ظاہر کرتے ہیں.اسی طرح مسلمانوں کے نام نہاد ھمدرد سیاسی پارٹیوں کے غیر مسلم قائدین سے تو امید نہیں لیکن مسلم قائدین بھی اس معاملے میں بے رخی کا مظاہرہ کرتے نظر آرہے ہیں. ریاست کے مسلم اقلیت کےمطالبات ہیں کہ جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن‘جسٹس راجندر سنگھ سچر کمیٹی اور محمود الرحمن کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ریاستی حکومت مسلمانوں کو 15 فیصد تحفظات تمام شعبہ حیات میں فراہم کرے اور مسلم پرسنل لائ , شرعی معاملات میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہ کی جائے’وقف جائیدادوں کی بازیابی عمل میں لائی جائے اور جن بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر سزائیں اور اذیتیں پہنچائیں گئی انہیں معاوضہ ادا کیاجائے.بے قصورمسلم نوجوانوں کی گرفتاری نہ کی جائے.ان مطالبات پر آج بھی مسلمانوں کے تمام طبقات متفق اور کسی بھی وقت احتجاج کے لئے تیار ہیں.مگر یہ بات مسلم قائدین کی قوت ارادی پر منحصر ہے کہ اپنی قوم کے تئیں اپنی انا, پارٹی,جماعت اور تنظیم سے ماوری ہو کر متفقہ طور پر انتہائی کوشش کریں اور حکومت سے اپنی بات منوالیں اور اپنے قوم کو صرف وو¿ٹوں کی سیاسی جال میں پھنسا کر اپنی دکانیں بچانیں کے بجائے ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں معاون بنیں اور قوم کو صحیح رخ دیں.ورنہ مسلم تحفظات کانفرنس کے نام پر تمام سیاسی پارٹیاں اپنی قبل از انتخابات اپنی اپنی روٹیاں سیکھنے کا حربہ نہ بن جائیں.

#Urdu News


اپنی رائے یہاں لکھیں