پرنب دا کی موت ہندوستانی سیات میں ایک عہد کے خاتمے کی علامت ہے: بالاصاحب تھورات

3

ممبئی: سابق صدر جمہوریہ، بھارت رتن پرنب مکھرجی ہندوستانی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت کے حامل شخص تھے۔ اپنے طویل سیاسی سفرکے دوران انہوں نے مختلف ذمہ داریوں کو نہایت کامیابی کے ساتھ نبھایا اور جس عہدے پربھی فائز ہوئے اس کے وقار میں اضافہ کیا۔ سابق صدرجمہوریہ کی وفات پرتعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یہ باتیں آج یہاں ریاستی کانگریس کے صدرووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کہیں۔

پرنب مکھرجی 1969میں راجیہ سبھا کے ممبر بنے اوربعد میں انہوں نے اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، پی وی نرسمہا راؤ اورڈاکٹر منموہن سنگھ کی کابینہ میں مالیات، خارجہ امور اوردفاع جیسے عہدوں پر کام کرکے کامیابی کا نشان ثبت کیا۔ پرنب مکھرجی راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے طویل عرصے تک ممبر رہے۔ انہوں نے مختلف پارلیمانی کمیٹیوں کی بھی نگرانی کی۔پرنب مکھرجی گوکہ کانگریس کے لیڈر تھے، لیکن تمام پارٹیوں کے لیڈران ان کا احترام کرتے تھے۔ کسی بھی تنازعے میں پرنب دا نہایت کامیابی کے ساتھثالثی کا کردار نبھاتے تھے۔ انہوں نے کانگریس کے نظریات کو ہمیشہ فروغ دینے کی کوشش کی۔

ملک کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ہند نے انہیں بھارت رتن کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔ ان کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جس کے بھرنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی اس دکھ کی کھڑی میں پرنب دا کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہے۔