گرانٹ دینے میں بھی مودی حکومت مہاراشٹر کے ساتھ سوتیلاسلوک کرتی ہے: سچن ساونت

ممبئی:مرکز کی مودی حکومت اپوزیشن حکومتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہوئے ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو مشکل میں ڈال رہی ہے۔آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی معلومات سے ہمارے اس شبہ کی تصدیق ہوتی ہے کہ مودی حکومت گرانٹ دینے میں بھی مہاراشٹر کے ساتھ سوتیلاسلوک کر رہی ہے۔یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری سچن ساونت نے کہی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ مہاراشرٹ کو ملنے والی ایک بڑی رقم کی ادائیگی کو مودی حکومت کے ذریعے مسلسل التواء میں رکھا جارہا ہے۔ اپریل 2020 سے مارچ 2021اور اپریل 2021سے جولائی 2021کے دوران گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ بقایا جات مہاراشٹر کے ہیں یا جب دوسری ریاستوں کو ان کے بقایا جات ادا کئے جاتے ہیں تو مہاراشٹرکی ادائیگی کو ہولڈ میں رکھا جاتا ہے۔ مہاراشٹر کے مرکزی حکومت پر ستمبر کے آخر تک 25,481 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ بقایا جات 2019 سے التواء میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں سے 13,782.30 کروڑ روپے قرض دیئے گئے ہیں جبکہ اکاؤنٹ پر صرف 11,111.15 کروڑ روپے دئے گئے ہیں۔سچن ساونت نے کہا کہ مرکزکی بی جے پی حکومت مہاراشٹر کو معاشی طور پرمشکلات میں ڈالنا چاہتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ مہاراشٹر کی دشمن ڈھونگی بی جے پی مودی حکومت سے معاشی مدد وبقایاجات وقت پر اداکرنے میں مدد کرنے کے بجائے مہاوکاس اگھاڑی حکومت سے ہی ٹیکس میں کمی کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔