• 425
    Shares

این سی بی کے ڈی جی کو کروز چھاپہ مار کیس میں ملوث تمام افسران کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے: سچن ساونت

این سی بی کی جانب سے کیس کو دبانے کی کوشش، قانون کی واضح خلاف ورزی

این سی بی اور بی جے پی کی ملی بھگت کی تحقیقات ہونی چاہیے

ممبئی:ممبئی میں ایک کروز پر چھاپہ مار کر منشیات کی ایک بڑی پارٹی کو بے نقاب کرنے میں این سی بی کی کارروائی مشکوک ہے۔ این سی بی کے افسران تسلی بخش جواب نہیں دے سکے کہ بی جے پی کے عہدیدار اور پرائیویٹ افراد اس آپریشن میں کس طرح سرگرم تھے اور ملزمان کو ان کے حوالے کیوں کیا گیا۔ این سی بی نے مبہم جوابات دے کر کیس کو دبانے کی کوشش کی ہے۔این سی بی کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ کارروائی شفاف ہے، قواعد و ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے پیشہ ورانہ انداز میں کیا گیا۔اس چھاپہ مار کارروائی میں شامل تمام افسران کے خلاف این سی بی کے ڈی جی فوری طور پر کارروائی کریں۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔

کانگریس کے دفتر گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سچن ساونت نے این سی بی کی کارروائی پر کئی سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی مندرا بندرگاہ پر منشیات کا بہت بڑا ذخیرہ ملنے پر نہ صرف کوئی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ میڈیا سے خبریں بھی غائب ہو گئیں۔ اب ممبئی میں کروڑ پر چھاپہ مارکر ’بڑی کارروائی‘کی آڑ میں مندر اپورٹ کیس سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی۔لیکن گزشتہ کل ہی ہماری اتحادی پارٹی کی جانب سے اس چھاپہ ماری کی قلعی اتار دی گئی جس سے کئی سنگین سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ کیا مرکزی تفتیشی ایجنسیاں مرکزمیں برسرِ اقتدار بی جے پی کے لیے کام کررہی ہیں؟ سچن ساونت نے کہا کہ این سی بی کی چھاپہ ماری پر اٹھنے والے سنگین سوالات کا جواب دینے کے لیے این سی بی نے کل پریس کانفرنس میں بنیادی سوالات کو نظرانداز کرتے ہوئے بہت مبہم جوابات دیئے ہیں۔

این سی بی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی قانون کے مطابق، انتہائی شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی اور اس میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے، لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ این سی بی کے ہینڈبک کے صفحہ نمبر70پراندراج کے مطابق اگر گرفتاری کے بعد ملزم کوکسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا ہوتو اس کے لیے سینئر افسر کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اور دستاویز پر اس سینئر افسر کے دستخط ہونے چاہئیں۔اس واضح ہدایت کے باوجود ملزم کو ایک پرائیویٹ شخص بی جے پی کے ایک عہدیدار کے حوالے کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب این سی بی نے نہیں دیا اور جواب دینے سے گریز کیا۔

این سی بی کی ہینڈ بک کے صفحہ 69 پر یہ بھی درج ہے کہ جس افسر نے ملزم کو گرفتار کیا ہے، وہی اسے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گا۔ملزم کے سیکورٹی کی ذمہ داری بھی اسی افسر کی ہوتی ہے۔اس ہدایت کے باوجودگرفتارملزم کے ساتھ سیلفی کس طرح لی جاسکتی ہے؟ این ڈی پی ایس قانون کے مطابق ملزم جس افسر کی کسٹڈی میں ہے وہ اگر ملزم کی مدد کرتا ہے، اس کے خلاف سازش کرتا ہے یا رول بک کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس افسر کو 10سال سے زائد قید کی سزا یا کم ازکم ایک لاکھ روپئے جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ این ڈی پی ایس قانون کے مطابق این سی بی کے افسران اس کارروائی میں ہدایات کی پاسداری کرتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں۔لہذا اس چھاپہ ماری میں جن لوگوں نے حصہ لیا این سی بی کے ان تمام افسران، وہ افسران جنہوں نے این سی بی کے افسران کو بچانے کی کوششیں کیں ان تمام کے خلاف این سی بی کے ڈی جی کو فوری طور پر کارروائی کرنی چاہئے، وگرنہ اس بات میں کوئی شک نہیں رہ جائے گا کہ این سی بی کی کاروائیوں کے پسِ پشت بی جے پی کا ایجنڈا کارفرما ہے۔

سچن ساونت نے کہا کہ این سی بی کی جانب سے دیئے گئے جوابات میں تضاد ہے۔این سی بی نے کہا ہے کہ بھانوشالی ایک آزاد گواہ ہے جبکہ بھانوشالی خود کہتا ہے کہ وہ صرف ایک مخبر ہے۔این سی بی اور بی جے پی کے درمیان کیا تعلق ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ یہ مہاراشٹر، ماوکاس اگھاڑی حکومت اور بالی ووڈ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ اس معاملے کی باریک بینی سے تحقیق کے بعد اس کے پردے سے مزید کئی چہرے سامنے آئیں گے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔