رافیل جنگی جہاز کی خریداری میں زبردست بدعنوانی کا فرانس کی انسداد بدعنوانی ایجنسی تفتیش میں انکشاف

ممبئی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے رافیل جنگی جہاز کی خریداری میں بہت بڑے گھوٹالے کا انکشاف کیا تھا، لیکن مسلسل جھوٹ بول کر اور جھوٹے دستاویزات دکھا کر مرکزی حکومت نے اس گھوٹالے پر پردہ ڈال دیا تھا۔ مگر اب اس معاملے میں فرانس میں ہوئی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ڈسالٹ کمپنی نے رافیل کی خریداری کے معاہدے کے بعد ہندوستانی ثالثی کو 10لاکھ یورو کی رشوت دی تھی۔ فرانس کی اس تفتیش سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ راہل گاندھی نے رافیل کی خریداری میں جس بدعنوانی کا انکشاف کیا تھا وہ بالکل سچ تھا اور چوکیدار ہی دراصل چور ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کی ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے مزید کہا کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان رافیل جنگی جہازکی خریداری کے تعلق سے 2016میں معاہدہ ہوا تھا۔ اس کے بد ڈسالٹ کمپنی نے ہندوستان کی جانب سے رابطہ کار کو 10لاکھ یورو کی رقم ادا کی۔ 2017میں ڈسالٹ گروپ کے بینک اکاؤنٹ سے ’گفٹ ٹو کلائنٹ‘ کے طور پر یہ رقم ٹرانسفر کی گئی تھی۔ یہ اہم انکشاف فرانس کی انسداد بدعنوانی ایجیسی اے ایف اے کے اس تفتیش کے بعد ہوا جس میں ایجنسی نے ڈسالٹ کے بینک اکاؤنٹ کا آڈیٹ کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رافیل کی خریداری میں زبردست بدعنوانی ہوئی ہے اور راہل گاندھی نے جس بدعنوانی کا الزام عائد کیا تھا وہ بالکل سچ تھا۔ اگر راہل گاندھی وکانگریس پارٹی کے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تفتیش کے مسلسل مطالبے کو تسلیم کرلیا جاتا اور اس کی تفتیش کی جاتی تو یہ بدعنوانی اجاگر ہوجاتی اور اصل چور بھی سامنے آجاتا۔ مگر مرکزی حکومت نے مسلسل جھوٹ بول کر اور عدالت میں جھوٹے دستاویزات دکھا کر اس زبردست بدعنوانی پر پردہ ڈال دیا۔