Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

وزیراعظم کے خطاب سے غریبوں کی امید پر پانی پھرگیا: مہاراشٹر کانگریس

IMG_20190630_195052.JPG

اعلان کردہ امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مانند، غریبوں کے اکاؤنٹ میں ہرماہ 7500روپئے جمع کیا جائے

ممبئی: وزیراعظم نریندرمودی کے قوم سے خطاب کو ریاستی کانگریس کے صدربالاصاحب تھورات نے نہایت مایوس کن قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیان سے غریبوں کی امیدوں پر پانی پھرگیا ہے۔ تھورات کے مطابق وزیراعظم کے خطاب سے قبل بی جے پی کے لیڈران نے جس طرح کا ماحول بنانے کی کوشش کی تھی اس کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وزیراعظم غریبوں، محنت کشوں، مزدوروں واسط طبقے کے لوگوں نیز لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے حکومت کے خزانے کا منہ کھول دیں گے، کورونا کے بڑھتے اثرات کو روکنے کے لیے مضبوط حکمت عملی کا اعلان کریں گے اور سرحد پر دراندازی کرنے والے چین کو لال آنکھیں دکھائیں گے لیکن ان کے خطاب سے نہ صرف غریبوں کی رہی سہی امید پر بھی پانی پھرگیابلکہ ملک کی عوام کو بھی سخت مایوسی ہوئی ہے۔

میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں بالاصاحب تھورات نے کہا ہے کہ کورونا کی مصیبت شروع ہونے کے بعد غریب طبقے کو ہرماہ پانچ کلو اناج مفت دینے کی اسکیم لاگو کی گئی تھی۔ چونکہ اپنے ملک میں کسانوں کی سخت محنت کی وجہ سے اناج کا بھرپور ذخیرہ موجود ہے، اس لیے کانگریس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی نے اس اسکیم کو ستمبر تک بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ پہلے سے جاری کسی اسکیم کی مدت میں اضافے کا اختیار چونکہ انتظامیہ کے تحت ہوتا ہے، اس لیے اس معاملے میں قوم سے خطاب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، لیکن چونکہ بہار کا الیکشن وزیراعظم کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہے، اس لیے انہوں نے اس اسکیم کی مدت میں اضافے کا خود اعلان کیا۔لیکن وزیراعظم کویہ معلوم ہونا چاہئے کہ غریبوں کی اناج کے علاوہ بھی بہت سی ضروریات ہوتی ہیں، ان کے بارے میں وزیراعظم نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

تھورات نے کہا کہ پانچ کلو گندم یا چاول و ایک کلو چنا ایک خاندان کے مہینے بھر کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مانند ہے۔ جو لوگ بیروزگار ہوئے ہیں ان کا گھر اس معمولی مدد سے مہینہ بھر نہیں چل سکتا۔ اگر غریبوں کا گھر چلانا ہے تو انہیں نقد رقم کی شکل میں مدد کرنا نہایت ضروری ہے۔ راہل گاندھی کے مطالبے کے مطابق اگر مرکزی حکومت غریبوں کے اکاؤنٹ میں 7500روپئے براہ راست دیتی ہے تو ہی ان کا گھرچل سکتا ہے۔ بالاصاحب تھورات نے مزید کہا کہ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے بالواسطہ اعتراف کیا ہے کہ کورونا کا بحران نومبر تک جاری رہے گا۔ اس لیے غریبوں، اوسط طبقے کے لوگوں، ملازمت کرنے والے نیز بیروزگاروں کی امیدوں پر پانی پھیردیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے یہ حیرت انگیز بات بھی کہی کہ کورونا کی روک تھام کے لیے حکومت موثراقدام کررہی ہے،جبکہ سچائی یہ ہے کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد کے حساب سے ہمارا ملک دنیا میں چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے وزیراعظم کے پاس کورونا کے بحران کو روکنے کے لیے کوئی بھی موثر حکمت عملی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی عوام کو یہ امید تھی کہ چین کے تعلق سے وزیراعظم کسی ٹھوس موقف کا ااعلان کریں گے، لیکن اس معاملے میں بھی ملک کی عوام کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔ گویا کہ وزیراعظم کا پورا خطاب ملک کو مایوسی کے دلدل میں ڈھکیلنے والا تھا۔ اس سے لوگوں کی رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھرگیا ہے۔