اوبی سیزکے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں: ناناپٹولے

ریزرویشن کے ساتھ ہی پبلک سیکٹر اداروں کو فروخت ہونے سے بچانے کے لئے بھی جدوجہد کریں: بھوپیش بگھیل

شیگاؤں میں اوبی سی سماجی حقوق کانفرنس کا انعقاد

شیگاؤں:او بی سی طبقے کے متعدد مطالبات مرکزی حکومت کے پاس زیر التوا ہیں لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت انہیں قصداً نظر انداز کر تے ہوئے او بی سی طبقے کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ آئین نے ہمیں حقوق دیئے ہیں لیکن مرکزی حکومت آئین کوبالائے طاق رکھ کرکام کر رہی ہے۔ او بی سی طبقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف اب اٹھ کھڑے ہونے کا وقت آگیا ہے۔یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔ وہ آج یہاں اوبی سی سماجی حقوق کانفرنس سے خطاب کررہے تھے،جس میں چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل بھی شریک ہوئے تھے۔

اس کانفرنس میں چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل، خواتین واطفال کے بہبود کی وزیر یشومتی ٹھاکور، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری ومعاون انچارج آشیش دووا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری وپنجاب کے معاون انچارج ہرش وردھن سپکال، آل انڈیا اوبی سی فیڈریشن کے ڈاکٹر ببن راؤ تائیواڈے،ایم ایل اے امیت جھنک، ایم ایل اے راجیش ایکڑے، ریاستی نائب صدرسنجے راٹھوڑ، ریاستی جنرل سکریٹری دیوانندپوار، کانگریس ضلع صدر وسابق ایم ایل اے راہل بوندرے، سابق ایم ایل اے دلیپ سانندا، ریاستی جنرل سکریٹری شیام امالکر، سواتی واکیکر، روی مہالے اور منگیش بھارساکھلے وغیرہ موجود تھے۔

اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نانا پٹولے نے مزید کہا کہ آج کی یہ کانفرنس مرکزی حکومت کو خبردار کرنے کے لیے ہے۔ او بی سی طبقے کو ان کا حق ملنا ہی چاہئے اور انہیں ان کا حق وانصاف دلانے کے لئے ہم کام کرتے رہیں گے۔مرکزی حکومت کے پاس اوبی سی ریزرویشن کے درکار ڈیٹا 98فیصد درست ہے لیکن وہ اسے فراہم نہیں کررہی ہے۔ اوبی سی ریزرویشن کی راہ میں قصداً رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ مہاراشٹر ایک ترقی پسند ریاست ہے، مہاتماپھولے اور ساوتری بائی نے ملک کوایک سمت دی لیکن گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے ان کی توہین کرنے کی جرات کی۔ مہاراشٹر یہ توہین ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔اوبی سی طبقے کے لئے میں مسلسل جدوجہد کرتے آیا ہوں اوراس طبقے کو ان حقوق دلانے کے لئے آئندہ بھی میری جدجہد جاری رہے گی۔ناناپٹولے نے یہ بھی کہا کہ میں او بی سی طبقے کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کرونگا اور ان کا حل تلاش کرنے کے لیے فالو اپ بھی کرونگا۔

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم او بی سی طبقے کے ریزرویشن کے لیے جدوجہدکررہے ہیں لیکن مرکز کی بی جے پی حکومت ریزرویشن مخالف ہے۔ریزرویشن کا فائدہ سرکاری ملازمتوں میں ہوتا ہے لیکن مرکزی حکومت نے سرکاری کمپنیوں کو فروخت کرنا شروع کردیا ہے۔ ریلوے، ہوائی اڈے اور ایئر انڈیا جیسی پبلک سیکٹر کے محکمے فروخت کئے جارہے ہیں۔ اگر یہ سرکاری ادارے نہیں رہے تو پھرریزرویشن کا فائدہ کیسے ملے گا؟انہوں نے کہا کہ ریزوریشن کا فائدہ نہ ملے اسی لئے بی جے پی حکومت سرکاری انڈر ٹیکنگ کو بیچ رہی ہے۔ ریزرویشن کو روکنے کے لیے ایک بڑی سازش رچی جا رہی ہے۔ اس لیے ریزرویشن کی لڑائی کے ساتھ ساتھ پبلک سیکٹر اداروں کے فروخت کے خلاف بھی ہمیں لڑائی لڑنی ہوگی۔بگھیل نے مزید کہا کہ اگر پبلک سیکٹر کی کمپنیاں فروخت کردی گئیں تو آپ کے ریزرویشن ختم ہوگئے۔ یہ آپ کو کمزور کرنے کی چال ہے۔ ’رام نام جپنا، پرایا مال اپنا‘ ہی بی جے پی کی پالیسی ہے۔ کانگریس ہمیشہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی طبقے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اورآئندہ بھی کھڑی رہے گی۔

اس کانفرنس سے خواتین واطفال کے بہبود کی وزیرایڈووکیٹ یشومتی ٹھاکر، کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری آشیش دووا اور او بی سی فیڈریشن کے ڈاکٹر ببن راؤ تائیواڑے نے بھی خطاب کیا۔