نریندر مودی نے وزیر اعظم کی ساکھ کومٹی میں ملادیا: ناناپٹولے

دھولیہ ونندوربار کانگریس کے نظریات سے وابستہ علاقہ ہے

بی جے پی کے کئی لیڈران کانگریس میں آنے کے خواہشمند

شیرپور(دھولیہ): مرکز کی نریندرمودی حکومت جمہوریت منظور نہیں ہے۔ اس کا کام کاج آمرانہ طریقے سے چلتا ہے۔ ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر نے ملک کو آئین دیا اور کانگریس نے اس کا تحفظ کیا ِاسی لئے ایک چائے والا وزیراعظم بن سکا۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سے مودی نے تمام نظام کو درہم برہم کردیا۔ملک کے وزیراعظم کا عہدہ سب سے اعلیٰ اور معززہوتا ہے لیکن نریندرمودی نے اس عہدے کی ساکھ کو مٹی میں ملادیا۔ یہ سخت تنقید آج یہاں ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے نے کی ہے۔وہ شیرپور میں کانگریس کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نانا پٹولے نے مزید کہا کہ مودی سرکار نے کورونا بحران کے دوران ملک کی عوام کوبے یارومددگار چھوڑدیا۔ جب لوگ تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے تومودی مغربی بنگال میں انتخابی مہم میں مصروف تھے۔ ویکسی نیشن مہم کی ناکامی نے مودی کی بدانتظامی کو بے نقاب کردیا ہے۔ایسی صورت میں جبکہ ملک کی عوام کو ویکسین کی اشدضرورت تھی، مودی نے پاکستان جیسے دشمن ملک کو مفت ویکسین فراہم کیا اوراور ملک کی عوام کو ویکسین خریدنے پر مجبورکررہے ہیں۔ویکسی نیشن مہم ناکام ہوچکی ہے لیکن تشہیر کی ہوس کے عادی مودی نے ویکسی نیشن کا کریڈٹ لینے کے لئے کالجوں میں مودی کا شکریہ ادا کرنے والے پوسٹرز اور ہورڈنگ لگانے کا فرمان جاری کای ہے۔ جمہوریت میں فرمان کیسے جاری کیا جاسکتا ہے؟ مودی حکومت عام لوگوں، کسانوں، محنت کشوں کی حکومت نہیں ہے۔ عوام مہنگائی سے نبردآزما ہیں۔ ہمسایہ ملک سری لنکا، بھوٹان اور نیپال میں پٹرول کی قیمت 60 سے 65 روپے فی لیٹر ہے اورہمیں 100 روپے فی لیٹر ادا کرنا پڑرہا ہے۔ بھاری بھرکم ٹیکس کی شکل میں مودی حکومت عوام کی جیبوں ڈاکہ ڈال رہی ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ بی جے پی کے بہت سے موجودہ وسابق ایم ایل اے ولیڈران کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔سی بی آئی وای ڈی جیسے تفتیشی ایجنسیوں سے خوفزدہ کرکے بی جے پی نے جن لوگوں کو پارٹی میں شامل کیا تھا وہ دباؤ کے تحت بھلے ہی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہوں، مگر وہ ذہنی طور پر کانگریسی ہی ہیں۔ ان کے دل سے کانگریس نہیں نکل سکتی۔ ایسے کئی لوگ کانگریس میں آنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ دھولیہ ونندوربار کانگریس کے نظریات سے وابستہ لوگوں کو علاقہ ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے لئے کانگریس پارٹی کی تشہیری مہم کا آغاز اسی دھولیہ ونندروبار ضلع سے کیا جاتا ہے۔ کانگریس پارٹی آدیواسی،دلت، پچھڑے طبقات وعام لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے والی پارٹی ہے۔جس طرح تحریک آزادی شروع ہوئی تھی اسی طرح کی تحریک دوبارہ چلاتے ہوئے ہمیں کانگریس کو دوبارہ وہی مقام دلانا ہے۔شمالی مہاراشٹر کے دورے کے دوسرے دن ریاستی صدر نے شیرپور، شندکھیڑا، دونڈائیچامیں کانگریس کے کارکنان کی جائزہ میٹنگ لی۔ اس موقع پر کارکنان وکسانوں سے انہوں نے خطاب بھی کیا۔ کورونا بحران کے دوران اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دن رات لوگوں کی مدد کرنے والی آشا سیوکاؤں کو دونڈائیچا میں ناناپٹولے کے ہاتھوں اعزاز کیا گیا۔ اس اجلاس میں ریاستی کارگزارصدر ایم ایل اے پرنیتی شندے، ایم ایل اے کنال پاٹل، دھولیہ ضلع کانگریس کے صدر شیام سنیرے، کسان کانگریس کے قومی نائب صدر شیام پانڈے، ریاستی جنرل سکریٹری ونائک دیشمکھ، ریاستی ترجمان اتل لونڈھے، سابق ایم ایل اے شردپاٹل، ریاستی نائب صدر بھائی ناگرالے، جنرل سکریٹری پرکاش سوناؤنے، پرمود مورے وغیرہ موجود تھے۔