• 425
    Shares

مہاراشٹر میں کانگریس کو نمبرون کی پارٹی بناکر اس کی عظمتِ رفتہ واپس لائیں گے: ناناپٹولے

ریاستی کانگریس کے نومنتخب عہدیداران کا اجلاس

زرعی قوانین مہنگائی، بیروزگاری ومزدومخالف پالیسی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

ممبئی:ریاست میں کانگریس پارٹی کو نمبرون کی پارٹی بنانے اور اس کی سابقہ عظمت کی بازیابی کے لئے کانگریس پارٹی کے نومنتخب عہدیدارن کے اجلاس میں متفقہ قرارداد امنظور کی گئی۔ یہ قرارداد ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے نے پیش کی جسے تمام شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ یہ اجلاس ریاستی کانگریس کے دفتر تلک بھون میں منعقدہوا جس میں میں مذکورہ بالا قرارداد کے علاوہ مرکزی حکومت کے بنائے ہوئے تینوں زرعی قوانین، مہنگائی، بیروزگاری ومرکزی حکومت کی مزدورمخالف پالیسی کے خلاف مذمتی قراردادبھی منظور کئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ریاستی صدرناناپٹولے نے کہا کہ ایگزیکٹو باڈی کی اس میٹنگ میں مرکزی حکومت کی کئی پالیسیوں کے خلاف متفقہ طور پر قراردادیں منظور کی ہیں۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت نے اپنے صنعتکار دوستوں کے فائدے کے لیے جوزرعی قوانین بنائی ہے اس سے ملک کی زراعت وکسان برباد ہوجائیں گے۔ اس قوانین کی وجہ سے مرکز کی مودی حکومت کی کسانوں کو بڑے صنعت کاروں کا غلام بنانے کی سازش ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی ان زرعی قوانین کے خلاف ہے اوران کی منسوخی تک احتجاج کرتے رہنے کی قرارداد منظور کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزکی نریندر مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی آسمان کو چھو گئی ہے۔ ایندھن کی قیمتیں 100 روپے فی لیٹر سے پار ہوچکی ہیں۔ خوردنی تیل کی قیمت 200روپئے کلو جبکہ کوکنک گیس کا سیلنڈر900 روپے سے زائد ہوچکا ہے۔ بے روزگاری گزشتہ 45 سالوں میں سب سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنادیا ہے جبکہ بیروزگاری نے ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کردیا ہے۔ مجلسِ عاملہ کی اس میٹنگ میں اس کے خلاف بھی مذمتی قرارداد منظور کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ خواتین کے تحفظ کے لیے جس طر ح آندھراپردیش میں شکتی قانون بنایا گیا ہے،، اسی طرز پر مہاراشٹر میں بھی قانون بنانے کے لیے بھی متفقہ طور پرتجویزمنظور کی گئی ہے۔مرکزی حکومت او بی سی اور مراٹھا ریزرویشن کی قاتل ہے۔ او بی سی مردم شماری کا ڈیٹا مرکزی حکومت نے فراہم نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے او بی سی کا سیاسی ریزرویشن منسوخ کر دیا گیا۔ مرکزی حکومت نے 50 فیصد ریزرویشن کی حد ختم نہیں کی جس کی وجہ سے مراٹھا برادری ریزرویشن سے محروم ہے۔ اوبی سی ومراٹھاریزرویشن کی قاتل ولیبرقوانین میں تبدیلی کرکے مزدوروں کو تباہ کرنے والی مرکزی حکومت کی مذمت کی قرارداد بھی اس موقع پر منظور کی گئی ہے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ حالیہ شدید بارش نے مراٹھواڑہ سمیت ریاست کے مختلف حصوں میں کسانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سیلاب زدہ علاقوں میں کسانوں کو فوری طور پرمدد فراہم کرے۔ اس کے علاوہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں تین رکنی وارڈ سسٹم کا فیصلہ ریاستی کابینہ میں کیا گیا ہے، لیکن کانگریس کے عہدیداروں اور کارکنوں کی اکثریت نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس لیے کانگریس کا موقف ہے تین کے بجائے دو رکنی وارڈ ہونا ہے۔ اس ضمن میں بھی ایک قرارداد ایگزیکٹو نے متفقہ طور پر منظور کی ہے۔

ریاستی صدر نانا پٹولے کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں ریاستی کارگزار صدر نسیم خان، چندرکانت ہنڈورے، پرنیتی شندے، نائب صدر حسین دلوائی، موہن جوشی، شیریش چودھری، سنجے راٹھوڑ، رمیش باگوے، ڈاکٹر پرگیہ راجیو ساتو، ایم ایل اے امر راجورکر، ایم ایل اے دھیرج دیشمکھ، بھائی ناگرالے، رامہاری روپانور، وشال پاٹل، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکرٹری اور ریاست کے کو انچارج آشیش دووا، شعبہ خواتین کی ریاستی صدر سندھیا تائی سوالاکھے، این ایس یو آئی کے ریاستی صدر امیر شیخ، کسان کانگریس کے شیام پانڈے، ریاستی جنرل سکریٹری دیوانند پوارسمیت تمام مجلسِ عاملہ کے تمام نونامزد عہدیداران موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔