راہل گاندھی کا مہاراشٹر کی عوام کے لیے پیغام

525

مہاراشٹر میں بھارت جوڑو یاتراکی شروعات دیگلور میں چھترپتی شیواجی مہاراج کو خراجِ عقیدت پیش کرکے ہوااورشیواجی کی جائے پیدائش کے ضلع بلڈھانہ سے یہ مدھیہ پردیش میں داخل ہورہی ہے۔ مہاراشٹر کے چھترپتی شاہو مہاراج، مہاتما جیوتی با پھلے، ساوتری بائی پھلے، اہلیہ بائی ہولکر، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، سائی بابا اور تمام صوفی سنتوں کے افکار سے تحریک لیتے ہوئے ہم اپناسفرجاری رکھیں گے۔ ان صوفی سنتوں کے افکار نے یہ ریاست سیکڑوں سال سے مساوات، سماجی برابری اور بھائی چارہ کا فیض حاصل کررہی ہے۔ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے تیار کردہ آئین اور ساتھ ہی بھارت جوڑو یاتراکا یہی پیغام ہے اور انہیں کے نقشِ قدم پر چل کر ہم عاجزی کے ساتھ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

مہاراشٹر کے لوگوں نے اس یاترا کی زبردست پذیرائی کی اور بھرپور پیاردیا۔ ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلے، لاکھوں کی تعداد میں ناندیڑ اور شیگاؤں کے جلسوں میں شرکت کی۔ان ساتھ دینے والے نوجوانوں، بوڑھوں،خواتین اوربچوں کی محبتوں سے ہمارے دل لبریزہیں۔

مہاراشٹر میں ہمیں ہندوستان کا بھرپور تنوع دیکھنے کو ملا۔اس سفر کے دوران، ہم بہت سے تاریخی مذہبی مقامات کی زیارت کیے اور وارکری، بدھ بھکشوؤں اور صوفی برادری کے لوگوں کے ساتھ چلنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ ہم نے ملک کے دیگر قبائلی بھائیوں کی طرح برسا منڈا کی 157ویں یوم پیدائش منائی۔آنجہانی اندرا گاندھی کی یوم پیدائش کے موقع پرخواتین کے ساتھ شکتی مارچ نکال کر خواتین کے عزت واحترام کا پیغام دیا نیز ہزاروں قبائلی خواتین کے ساتھ بات چیت کی اور 10 ہزارسے خواتین کے اجتماع سے خطاب کیا۔اسے ہم ہماری خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔

پورے مہاراشٹر میں ہم ایسے لوگوں کی سنے جو سخت محنت کرتے ہیں لیکن انہیں ان کی تپسیا کا پھل نہیں ملتا ہے۔ مہاراشٹر میں کسانوں کے سنگین مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ زرعی سازوسامان کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، زرعی پیداوار کی قیمتوں میں بے قاعدگیوں اور فصلوں کی بیمہ اسکیم نے کسان کو غربت کے منحوس دائرے میں دھکیل دیا ہے۔ بہت سے بے روزگار نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود کام نہ ہونے کی وجہ سے مایوس ہو چکے ہیں، ان کے خواب چکنا چور ہوچکے ہیں۔آدیواسی برادری کے لوگ اس ملک کے اصل باشندہ ہیں اور ان کے حقوق پر حملے ہورہے ہیں۔ہم نے یہ بھی دیکھا کہ فارسٹ ایکٹ قانون 2006کی کس طرح خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ ان تمام مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم نے یہ محسوس کیا کہ بی جے پی کے کچھ لوگوں ہاتھوں میں اقتدار اور دولت کو محدود کرنے کی پالیسی ہی اس کی وجہ ہے۔ایک طبقے کو دوسرے طبقے کے خلاف ثقافت، مذہب، ذات اورزبان کا استعمال کرتے ہوئے کھڑا کرنے تنازعہ پیدا کرنے کی بی جے پی کی پالیسی کی وجہ سے صورت حال بہت سنگین ہوچکی ہے۔

مہاراشٹر کی ترقی پسند سوچ ہمیشہ شاہو، پھلے، امبیڈکر، تکڈوجی مہاراج، گاڈگے مہاراج کے افکار کے ساتھ رہی ہے اوران کی روشن سوچ نے ہمیشہ ملک کی رہنمائی کی ہے۔ان افکار ونظریات کوقائم رکھنے کے لیے بہت سی سول سوسائٹیاں، ترقی پسند مفکرین، مصنفین، ادیب، ثقافتی شعبے کوشش کر رہے ہیں اور میں ان کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔ انہوں نے ہمیں جو تعاون دیا ہے، اس کے لیے میں ہمیشہ ان کا مقروض رہونگا۔اس سفر میں نیوز چینلز اور پرنٹ میڈیا کے اہلکاروں کے تعاون پر بھی میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہونگا۔

چھترپتی شیواجی مہاراج کی سرزمین مہاراشٹر سے مدھیہ پردیش جاتے ہوئے ہم مہاراشٹر کی عوام کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان عظیم شخصیات، سنتوں وصوفیوں کے افکار ونظریات کو پورے ملک میں لے کر جائیں گے۔ آپ نے ہمیں جو محبت دی، جوزبردست تعاون اور مہمان نوازی کی اس نے ہمیں ایک نئی توانائی بخشی ہے۔

شکریہ!

راہول گاندھی(ممبرپارلیمنٹ)

کسانوں کو فصل بیمہ معاوضہ دلانے کے لیے کانگریس پارٹی جدوجہد کرے گی: ناناپٹولے

ریاست کے تمام ضلع اور تعلقہ کانگریس کمیٹی کے دفاتر میں فصل بیمہ ہیلپ ڈیسک قائم کیا جائے گا

بھگت سنگھ کوشیاری گورنر کے عہدے کے اہل نہیں ہیں

شیگاؤں (ضلع بلڈھانہ):ریاست میں کسان بڑے بحران سے گزر رہے ہیں۔ شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے خریف کی پوری فصل برباد ہو گئی ہے۔ ریاست کے کسانوں نے اپنے فصل بیمہ کاپریمیم ادا کر دیا ہے، لیکن ابھی تک نہ تو انہیں فصل بیمہ کمپنیوں سے کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے اور نہ ہی ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی مدد ملی ہے۔بیمہ کمپنیاں مودی حکومت کی آشیرواد سے کسانوں کو لوٹ رہی ہیں۔ کانگریس پارٹی اس گورکھ دھندے کو روکنے اور کسانوں کو معاوضہ دلانے کے لیے سڑکوں پر اترکر جدوجہد کرے گی۔ یہ اعلان آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کیا ہے۔

منگل کو شیگاؤں میں ایک پریس کانفرنس میں نانا پٹولے نے کہا کہ جب بھارت جوڑو یاترا مہاراشٹر سے گزر رہی تھی تو ہزاروں کسانوں نے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی اور بتایا کہ انہیں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بھاری نقصان ہوا ہے اورانہیں ابھی تک بیمہ کمپنیوں سے فصل بیمہ کاکوئی فائدہ نہیں ملا ہے۔ کسانوں کے دکھ اورپریشانیوں کو دیکھتے ہوئے ہم نے ان کسانوں کی مدد کے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے ریاست کے تمام ضلع اور تعلقہ کانگریس کمیٹی کے دفاتر میں فصل بیمہ ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔ جن کسانوں نے فصلوں کا بیمہ ادا کردیا ہے لیکن انہیں ابھی تک معاوضہ نہیں ملا ہے، ایسے کسانوں سے فصل بیمہ کی رسید کی کاپی، موبائل نمبر اور دیگر ضروری دستاویزات ضلع کانگریس کمیٹی کے فصل بیمہ ڈیسک میں جمع کیا جائے گا۔ کانگریس پارٹی ریاست کے کسانوں کو فصل بیمہ دلانے کے لیے فیصلہ کن جنگ لڑے گی۔پٹولے نے کہا کہ مرکزی حکومت کے آشیرواد سے فصل بیمہ کمپنیاں موٹا منافع کما رہی ہیں۔ بیمہ کمپنیاں کسانوں کی مدد کرنے کے بجائے غریب کسانوں کو لوٹ رہی ہیں۔ اب ان کی من مانی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کانگریس پارٹی اب ان کمپنیوں کے خلاف میدان میں اترے گی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگربیمہ کمپنیاں کسانوں کو مناسب معاوضہ نہیں دیتی ہیں تو ان بیمہ کمپنیوں کو مہاراشٹر میں کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔

کوشیاری گورنر کے عہدے کے لیے اہل نہیں ہیں

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری مہاراشٹر کی عظیم شخصیات اور سماجی مصلحین کی بار بار توہین کر رہے ہیں۔ بی جے پی کا ایجنڈا عظیم شخصیات کی توہین کرنا ہے۔ بی جے پی ترجمان سدھانشو ترویدی نے بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کی ہے،لیکن اس کی مذمت کرنے کے بجائے نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ فڈنویس کو اب شیواجی مہاراج کا نام تک لینے کا حق نہیں ہے۔ بی جے پی کے لیڈر اوران کے ذریعے مختلف عہدوں پر بٹھائی گئیں سنگھ کے کٹھ پتلیاں چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں بار بار متنازعہ بیان دے کر اور غلط معلومات پھیلا کر ان کی توہین کر کے اپنے فکری دیوالیہ پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے عوام ایسے لیڈروں کو سبق سکھائے بغیر نہیں رہیں گے۔پٹولے نے کہا کہ بھگت سنگھ کوشیاری گورنر کے عہدے کے اہل نہیں ہیں۔