پیگاسس جاسوسی معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائے: ناناپٹولے

کانگریس لیڈران کامرکزی حکومت کے خلاف راج بھون کے سامنے احتجاج، گورنر کو میمورنڈم سونپا

ممبئی: ملک کے سیاسی لیڈران، وزراء، صحافیوں، وکلاء وسماجی کارکنان کے فون پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعے ہیک کرکے ان کی جاسوسی کی جارہی ہے۔ کانگریس پارٹی کے ممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی سمیت ان کے دفتر کے معاونین وحزبِ مخالف کے دیگر لیڈران کی بھی جاسوسی کی گئی ہے۔ آئین کے ذریعے دی گئی شخصی آزادی کے حق پر یہ ڈاکہ تو ہے ہی، جمہوری اقدار کی جڑ پربھی یہ حملہ ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر کانگریس پارٹی نے آج ریاست کے گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس کی تحقیق کئے جانے کے مطالبے پر مبنی میمورنڈم سونپا ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدرناناپٹولے کی قیادت میں وقانون سازکونسل کے لیڈر وزیرمحصول بالاصاحب تھورات اور وزیربرائے تعمیرات عامہ اشوک چوہان کی موجودگی میں کانگریس لیڈران نے آج راج بھون کے سامنے مرکز کی مودی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جاسوسی کے اس معاملے کے خلاف شدید مظاہرہ کیا۔ اس وفد میں وزیرتوانائی ڈاکٹر نتن راؤت، ماہی گیری کے وزیر اسلم شیخ، مویشی پالن کے وزیر سنیل کیدار، ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان، چندرکانت ہنڈورے، ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، ریاستی کانگریس کے نائب صدر حسین دلوائی، سنجئے راٹھوڑ، سابق وزیر باباصدیقی، ایم ایل اے امر راجورکر، ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے، ایم ایل اے ابھیجت ونجاری، ایم ایل اے ذیشان صدیقی، ریاستی ترجمان اتل لونڈھے، جنرل سکریٹری راجن بھونسلے،سکریٹری سیدذیشان احمد، پرکاش سوناؤنے، پرمود مورے، ممبئی کانگریس کے کارگزار صدر چرن سنگھ سپرااور دیوانندپواروغیرہ موجود تھے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ فون ہیکنگ کے ذریعے لوگوں کی بات چیت کو سننا لوگوں کے شخصی آزادی پربالراست حملہ ہے۔ مرکز کی مودی حکومت نے اپنی اس حرکت سے جمہوریت کا قتل ہے، جبکہ ہمارا موقف جمہوریت کو بچانا ہے۔ اسی فون ہیکنگ کے ذریعے مرکزی حکومت نے کرناٹک کی کانگریس وجے ڈی ایس حکومت اور مدھیہ پردیش کی کانگریس کی حکومت کو گرایا ہے۔ 2016-17میں بھی دیوندرفڈنویس حکومت کے دوران بھی میرے ودیگر کچھ لوگوں کے فون ٹیپ کئے گئے تھے۔ یہ معاملہ اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا تھا۔ قانون ساز کونسل کے لیڈر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کہا کہ پیگاسس کا استعمال کرتے ہوئے صحافیوں واپوزیشن کے لیڈران کی جاسوسی کی جارہی ہے۔دینک بھاسکر اور بھارت سماچار پرانکم ٹیکس کا چھاپہ دراصل آزاد صحافت کی آواز بند کرنے کی کوشش ہے اور اس ملک کی جمہوریت پر حملہ ہے۔ ایجنسیوں کو غلط استعمال کرتے ہوئے مودی حکومت ملک میں آمریت لانا چاہتی ہے۔ وزیربرائے تعمیرات عامہ اشوک چوہان نے کہا کہ ملک کی صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ عدلیہ، سیاسی پارٹیوں اور میڈیا کی جاسوسی کی جارہی ہے۔ پیگاسس سافٹ ویئر صرف حکومت کو ہی فروخت کیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکار کا کون شخص یہ جاسوسی کررہاہے۔ یہ بہت سنگین معاملہ ہے اس لئے اس کی عدالتی تفتیش ہونی چاہئے۔