• 425
    Shares

NEETویاپم گھوٹالے کی اگلی کڑی ہے: ناناپٹولے

کیا دیہی علاقوں کے غریب ومتوسط طبقے کے بچوں کو ڈاکٹر بننے سے روکنے روکنے کے لیے NEETلایا گیاہے؟

ممبئی: ملک بھر میں میڈیکل کورسیز میں داخلے کے لیے NEETکا امتحان لیا جاتا ہے لیکن اس امتحان میں بڑھتی بے ضابطگیوں کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا NEETکا یہ امتحان ویاپم گھوٹالے کی اگلی کڑی ہے؟ امتحان کے پرچے کو افشاکرنے سے لے کر ڈمی طالب علم کے ذریعے امتحان دینے تک کے واقعات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں کے غریب ومتوسط طبقے کے بچوں کو ڈاکٹر ہونے سے روکنے کے لیے امتحان کا یہ طریقہ لایا گیا ہے۔ NEETسے متعلق یہ باتیں کہتے ہوئے مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے ریاستی حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح تامل ناڈو میں نیٹ سے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے اسی طرح مہاراشٹر میں بھی لیا جائے۔

کانگریس کے ریاستی دفتر تلک بھون میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پٹولے نے مزید کہا کہ ملک بھر میں 16 لاکھ طلبہ NEETکے امتحان دیتے ہیں لیکن اس میں بے ضابطگی بڑھ گئی ہے اور ناگپور اور جے پور جیسی جگہوں پر پیپر لیک ہونے کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ NEET میں سی بی ایس سی و دیگر مرکزی بورڈ کے طلباء کی تعداد ریاستی بورڈ کے طلباء کی تعداد سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ دونوں بورڈز کے نصاب میں فرق جس طرح نیٹ کا ایک مسئلہ ہے اسی طرح نیٹ کے لیے کوچنگ کلاسز کی بھاری بھرکم فیس بھی غریبوں ومتوسط طبقے کے بچوں کے لیے نہایت سنگین مسئلہ ہے۔

تمل ناڈو میں 2017 سے میڈیکل میں داخلہ لینے والے طلباء کے اعداد و شمارکو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہوتا ہے کہ نیٹ کے امتحان سے قبل 2010-11میں ریاستی بورڈ کے 71.73اور سی بی ایس ای کے 0.13فیصد طالب علموں کو میڈیکل میں داخلہ مل رہا تھا۔جبکہ نیٹ کا امتحان شروع ہونے کے بعد 2017-18میں ریاستی بورڈکے 48.22/اورسی بی ایس ای بورڈ کے 24.91فیصد طالب علموں کو داخلہ ملا۔ اعدادوشمار کا بڑھتا گیا اور2020-21میں ریاستی بورڈکا فیصدکم ہوکر43.13ہوگیا جبکہ سی بی ایس ای کا بڑھ کر26.83فیصد ہوگیا۔ ان اعدادوشمار کے مطابق میڈیکل میں اسٹیٹ بورڈ کے طلباء کی تعداد کم ہو رہی ہے اور سی بی ایس ای بورڈ کے طلباء کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ناانصافی اور عدم مساوات میں اضافہ کرنے والا ہے۔ اس کی وجہ سے دیہی علاقوں نیز عام خاندانوں کے طلباء کا ڈاکٹر بننے کا خواب چکنا چور ہورہا ہے۔اس لئے ہم نے ریاست کے وزیراعلیٰ کو ایک مکتوب کے ذریعے یہ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان سب باتوں پر غور کرتے ہوئے NEETکا امتحان ردکیا جائے اورریاستی بورڈ میں حاصل شدہ مارکس کی بنیاد پر داخلہ دیا جائے۔

ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں خواتین سیکورٹی گارڈز کی بھی تعیناتی کی جائے

خواتین کے خلاف بڑھتے تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ ساکی ناکہ میں ہونے والے حالیہ واقعے کے پیش نظر خواتین کی حفاظت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔شہروں میں ہاؤسنگ سوسائیٹوں میں ہر جگہ مرد سکیورٹی گارڈ تعینات نظر آتے ہیں جبکہ خواتین کے تحفظ بھی ضروری ہے۔اس لیے ہم نے وزیراعلیٰ ووزیرداخلہ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں مردگارڈز کے ساتھ خواتین گارڈز کی بھی تعیناتی کی جائے۔

اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے بارے میں وزیراعلیٰ کا موقف درست ہے

خواتین کے تحفظ کے مسئلے پر دو روزہ خصوصی اجلاس منعقد کرنے کی گورنر کی تجویز اور اس پر وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے جواب کے بارے میں ناناپٹولے نے کہا کہ خواتین کی حفاظت کا مسئلہ صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ملک بھر میں خواتین کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا وزیر اعلیٰ کی طرف سے دیا گیا جواب کہ پارلیمنٹ کا 4 روزہ اجلاس بلایا جائے درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ راج بھون دراصل بی جے پی کا دفتر بن گیا ہے۔ ریاستی حکومت کے کام کاج میں راج بھون اکثر مداخلت کررہا ہے۔ گورنر کا عہدہ ایک اہم اور معزز عہدہ ہے، اس کی کچھ حدود ہیں، اگر ہم ان حدود میں کام کریں گے تو ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی لیکن گورنرز کے ذریعے گزشتہ کچھ سالوں سے حزبِ مخالف کی حکومتوں میں مداخلت کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ہم گورنر سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنے عہدے کا تقدس برقرار رکھیں۔ناناپٹولے نے کہا کہ ساکی ناکہ میں ہونے والے دلدوز سانحے پر وزیراعلیٰ نے فوری طور پرمناسب اقدام کرتے ہوئے کارروائی کی۔ ایسے رجحان کے لوگوں کو روکنے کے لیے اگر مزید سخت قوانین ضرورت ہے، تو وہ بھی بنایا جائے۔لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی بحث کا موضوع بن گیا ہے کہ گورنرکو ریاستی حکومت کے کام کاج میں کتنی مداخلت کرنی چاہیے۔

اتر پردیش میں صدر راج نافذکیا جائے

ناناپٹولے نے کہا کہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں سادھوؤں کومارا جارہا ہے۔ ہمارے پاس ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ بی جے پی کے خلاف بولنے والے سادھو سنت قتل کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے پریاگ راج میں اکھاڑا پریشد کے مہنت نریندر گری کی موت کا معاملہ بہت سنگین ہے۔ نریندر گری کے پیروکاروں نے ان کے قتل کیے جانے کا الزام لگایا ہے۔گزشتہ کچھ سالوں میں اتر پردیش میں سادھوؤں کے قتل کئے جانے کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ ہندوؤں کے مفاد کی خودساختہ محافظ بننے والی اترپردیش کی حکومت میں ہندوسادھو سنتوں کا قتل ہورہا ہے جو انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اترپردیش کی حکومت کوبرخاست کرتے ہوئے وہاں صدرراج نافذ کیا جائے۔ اس پریس کانفرنس میں ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری وترجمان اتل لونڈھے، کسان کانگریس کے نائب صدر شیام پانڈے، سابق ایم ایل اے حسان باون خلیفے اور ناگرالے موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔