کانگریس کی جانب سے ریاست بھر میں ’کسانوں کی یومِ فتح‘کا پرجوش انعقاد

وزیراعظم نے ملک کی عوام کا اعتماد کھودیا ہے: نسیم خان

ممبئی:کسانوں کوتباہ کرنے اور انہیں صنعتکاروں کا غلام بنانے والے تینوں سیاہ زرعی قوانین کو آخرکار مرکزی حکومت کو واپس لینا ہی پڑا۔ یہ کسانوں کے صبروضبط، ان کی قربانیوں اور سال بھر تک کئے جانے والے احتجاج کا نتیجہ ہے۔ گوکہ وزیراعظم نے ان قوانین کو واپس لینے کا اعلان کردیا ہے لیکن جب تک پارلیمنٹ میں ان قوانین کی واپسی کا فیصلہ نہیں ہوجاتا ہے کسان وزیراعظم کے اعلان پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیراعظم نے کسانوں وعام لوگوں کا اعتماد کھودیا ہے۔ یہ باتیں آج یہاں سابق وزیر ومہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر محمد عارف (نسیم) خان نے کہی ہیں۔

وزیراعظم کے ذریعے تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے فیصلے کے بعد مہاراشٹر کانگریس نے آج ریاست بھر میں ’کسان وجئے دیوس‘ کا انعقاد کیا۔ ممبئی کے تلک بھون میں آتش بازی اور مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے جشن منایا گیا۔اس موقع پر ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان کے علاوہ ریاستی کانگریس کے کارگزر صدر چندرکانت ہنڈورے، سابق ایم پی ڈاکٹر بھال چندر منگیکر، مناف حکیم، ریاستی جنرل سکریٹری راجن بھونسلے، راجیش شرما، پرمود مورے، رمیش شیٹی، سکریٹری راجا رام دیشمکھ اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔

اس موقع پر نسیم خان نے کہا کہ اس احتجاج میں کانگریس پارٹی پہلے دن سے ہی کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہی۔ ممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی نے سڑکوں پر آکر اس احتجاج میں حصہ لیا۔احتجاج کے ابتدائی دنوں میں ہی راہل گاندھی نے یہ بات نہایت یقین کے ساتھ کہہ دیا تھا کہ مرکزی حکومت کو یہ قوانین واپس لینے ہی ہونگے اور مودی حکومت کو بالآخر یہ ظالمانہ قوانین واپس لینے ہی پڑے۔نسیم خان نے کہا کہ اگر راہل گاندھی کی باتوں کو پہلے ہی مان لیا گیا ہوتا تو 700کسانوں کو ناحق اپنے جانوں کی قربانی نہیں دینی پڑتی اور معاشی نقصان بھی نہیں ہوا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی کسانوں کے احتجاج کا کانگریس نے بھرپورساتھ دیا۔ ان قوانین کو رد کرانے کے لئے کسان میلہ و ٹریکٹر ریلی نکالی گئی اور ریاست سے60لاکھ دستخطوں کے ساتھ میمورنڈم صدرجمہوریہ کو روانہ کیا گیا۔

نسیم خان نے مزیدکہا کہ کسان تحریک کو نکسلائٹ، غدار، خالصتانی و آندولن جیوی اورنہ جانے کیا کیا کہا گیا۔ان پر ظلم ڈھائے گئے۔ دہلی میں ان کے داخلے کو روکنے کے لئے راستوں پر بڑی بڑی کیلیں نصب کی گئیں، کنکریٹ کے بیریکٹ لگائے گئے لیکن کسانوں کے اتحاد کے سامنے مرکزی حکومت کو جھکنا ہی پڑا۔کسانوں کے ساتھ جو ظلم وناانصافی کی گئی اور ان کی جس طرح توہین کی گئی وہ ملک کی عوام کی کبھی نہیں بھولے گی۔ نسیم خان نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جو بھی فیصلہ کیا وہ ملک کے تباہ کن ثابت ہوا۔راہل گاندھی نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نوٹ بندی، کورونا پر قابو پانے کے لئے بغیرمنصوبہ بندی کے تھوپا گیا لاک ڈاؤن اور زرعی قوانین ملک اور ملک کی عوام کے لئے تباہ کن ثابت ہونگے لیکن ان پر توجہ دینے کے بجائے راہل گاندھی کا مذاق اڑایا گیا۔بی جے پی کا یہ تکبراور ہٹ دھرمی سے ملک کی عوام کا زبردست نقصان ہوا۔ پونے میں ریاستی نائب صدر موہن جوشی، رمیش باگوے اور الہاس پوار نے کسانوں کی یومِ فتح کے پروگرام میں حصہ لیا جبکہ ناسک، شولاپور، ناگپور، امراؤتی، پنویل، پربھنی، لاتوراورناندیڑ سمیت ریاست کے تمام اضلاع وتعلقہ جات میں بھی کانگریس کے عہدیداران نے جلوس نکال کر جشن منایا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔