مرکز نے عوام کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے مگر ریاست نہ چھوڑے: ناناپٹولے

اگر ضرورت ہوتو قرض حاصل کیا جائے اور تمام لوگوں کا ویکسینیشن کرایا جائے

اگر انتخابات سے کورونا ختم ہوتا ہو تو مرکزی حکومت کوبرخاست کرکے انتخابات کروادیں

ممبئی: ایسی صورت میں جبکہ مہاراشٹر کورونا کی سنگین صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، مرکزی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ریاست کو مناسب مدد فراہم کرے۔ لیکن بدقسمتی سے ریمیڈیسیور وآکسیجن کی سخت قلت کے باوجود اس پر سیاست کی جارہی ہے۔ ریاستی حکومت نے ریمیڈیسیور انجکشن خریدنے کے لیے ٹینڈر نکالا تھا لیکن جودو کمپنیاں ریاست کو روزآنہ 50ہزار ریمیڈیسیور انجکشن فراہم کرتی تھیں، انہوں نے افسوسناک طریقے سے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ 31مئی تک مہاراشٹر کوروزآنہ صرف 500انجکشن ہی فراہم کرسکیں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کے موقف میں تبدیلی کے پسِ پشت کیا مرکزی حکومت کا دباؤ ہے؟ کیا مرکزکی یہ کوشش ہے کہ ریاست کو ریمیڈیسیور انجکشن نہ ملے اور ریاست کی صورت حال مزید خراب ہو؟ کورونا کی سنگین صورت حال کی تمام ذمہ داری مرکز پر عائد ہوتی ہے مگر مرکز نے اپنی ذمہ داری ریاستوں کے سر منڈھ کر عوام کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے ریاستی حکومت سے میری اپیل ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر قرض حاصل کرے اور تمام لوگوں کا ویکسی نیشن کرے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔ وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیراعظم نریندرمودی کو خط لکھ کر کورونا سے مقابلہ کے لیے کچھ تجاوزیر دی تھیں۔ توقع کی جارہی تھی کہ سابق وزیراعظم کی تجاویزات پر مثب طریقے سے غور کیا جائے گا لیکن مرکزی وزیرصحت نے یہ کہہ کر ان تجاویز کو رد کردیا کہ کانگریس کے زیراقتدار ریاستوں میں ہی کورونا کی صورت حال سنگین ہے، اس لیے ان ریاستوں کو ہی مشورہ دیں۔ کانگریس نے وبا کے اس دور میں کبھی سیاست نہیں کی اور ہم عوام کے لیے کام کررہے ہیں۔ لیکن مرکزی وزیرصحت کانگریس کو مشورہ دینے کے بجائے گجرات، اترپردیش جیسی بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں کی صورت حال کا بھی بغور جائزہ لے لیں۔ وہاں لاشوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ان ریاستوں کی صورت حال اس قدر تشویشناک ہے کہ ہائی کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے وہاں کی حکومتوں کو طمانچے رسید کیے ہیں۔ مرکزی وزیرصحت کو چاہیے کہ پہلے وہ اس کی معلومات لیں اس کے بعد بولیں۔

ناناپٹولے نے کہا کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں کورونا کی صورت حال میں کچھ بہتری آئی تھی۔ اس وقت مرکزی وزیرصحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے ملک کے کورونا مکت ہونے کا کریڈیٹ لیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اب کورونا کا خوف نہیں رہ گیا ہے۔ مرکزی وزیرصحت نے کورونا سے آزادی کا پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے عوام کو کورونا کی کھائی میں ڈھکیل دیا۔ مرکزی وزیرداخلہ نے بھی کہا کہ جن ریاستوں میں انتخابات ہیں وہاں کورونا نہیں ہے۔ اگر انتخابات کی وجہ سے کورونا ختم ہوتا ہے تو پھر مرکزی حکومت کو برخاست کرکے پورے ملک میں عام انتخابات کرادیا جائے، کورونا خود بخود ختم ہوجائے گا۔راہل گاندھی نے کورونا کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے مغربی بنگال میں اپنے تمام انتخابی جلسوں کو منسوخ کردیا۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی اپنے انتخابی جلسوں کو منسوخ کردیا، لیکن پردھان سیوک آج بھی دن میں چار چار ریلیاں کررہے ہیں۔ راہل گاندھی پر گھٹیا تنقید کرنے والے دیوندرفڈنویس کو جواب دیتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ کس کو پھیکو کہا جاتا ہے، کس کو تڑی پار کہا جاتا ہے، کس کو تربوزہ کہا جاتا ہے اور کس کو چمپا کہا جاتا ہے، یہ دیوندرفڈنویس کو یقیناً معلوم ہوگا۔ لیکن کسی کو ان جیسے ناموں سے پکارنے کی روایت کانگریس اور مہاراشٹر کی نہیں ہے۔ وہ ہمیں چاہے جو کچھ کہیں پھر بھی راہل گاندھی وناناپٹولے عوامی مفاد کے لیے سوال اٹھاتے رہیں گے۔ اس پریس کانفرنس میں کانگریس کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت، اتل لونڈھے، گوپال تیواری، ریاستی کانگریس کے اوبی سی شعبے کے صدر پرمود مورے، ڈاکٹر سنجیے لاکھے پاٹل، دیوانند پوار، راجارام دیشمکھ وغیرہ موجود تھے۔