پولیس کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے والے فڈنویس، دریکر وپرساد لاڈ کے خلاف کارروائی کی جائے. ناناپٹولے کا وزیراعلیٰ سے تحریری مطالبہ

ممبئی: ممبئی پولیس نے سنیچر کی رات کو ریمیڈیسیور کی ذخیرہ اندوزی کرنے والی ایک کمپنی کے منیجر ومالک کو حراست میں لیا تھا لیکن حزبِ مخالف لیڈر دیوندرفڈنویس وپروین دریکر نے پولیس کی کارروائی میں رخنہ ڈالتے ہوئے رہا کروا لیا۔ اس موقع پر فڈنویس نے دعویٰ کیا کہ ریمیڈیسور کا مذکورہ ذخیرہ بی جے پی کا ہے جس کی مرکزی حکومت نے اجازت دی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ریمیڈیسور کا ذخیرہ کوئی پرائیویٹ شخص نہیں کرسکتا تو پھر فڈنویس کو یہ اجازت کیسے حاصل ہوگئی؟ کیا مرکزی حکومت نے بی جے پی وفڈنویس کو ریمیڈیسیور کی ذخیرہ اندوزی وکالابازاری کرنے کی اجازت دی ہے؟ کورونا کی وبا کے دوران ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر جب پولیس کارروائی کررہی ہے تو ایسے میں پولیس کی کارروائی میں رخنہ ڈالنا نہایت سنگین معاملہ ہے۔ اس معاملے کی تفتیش کرتے ہوئے پولیس پر دباؤ ڈالنے والے دیوندرفڈنویس، پروین دریکر وپرساد لاڈ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے آج وزیراعلیٰ کو تحریر کردہ ایک مکتوب کے ذریعے کیا ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا ہے کہ 50ہزار ریمیڈیسیور انجکشن ممبئی میں آنے کی خبر پولیس کو ملی تھی۔ اس کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بروکس فارما نامی کمپنی کے ایک افسر کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا۔ اس کی گہرائی سے تفتیش کرتے ہوئے وہ انجکشن فوری طور پر عوام کے لیے دستیاب کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت ریاست میں ریمیڈیسیور انجکشن اور آکسیجن کی سخت قلت ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت ریاست اور ریاست کی عوام کے ساتھ جو گھٹیا سیاست کررہی ہے وہ قابلِ مذمت ہے۔ ریمیڈیسیور کی شدید قلت ہونے کے باوجود کروڑوں روپئے کا ریمیڈیسیور کا ذخیرہ کہاں سے آیا؟ اس کی بلیک مارکیٹنگ کرنے والے کون لوگ ہیں؟ ان سوالوں کا جواب عوام کوملنا چاہیے اور فڈنویس نے جو اجازت نامہ دکھایا ہے وہ عام کیا جانا چاہیے۔ اس بات کا خاص خیال رکھتے ہوئے کہ مرکز اور ریاست کے تنازعے میں ریاست کی عوام کو کوئی پریشانی نہ ہو، مصیبت کی اس گھڑی میں عوام کو ہرطرح کی طبی سہولیات فراہم کیا جانا چاہیے اور کورونا کی اس وبا کے دور میں عوام کی زندگیوں کو بچانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔