Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

’سب کا وشواس‘کیا یہ مودی کا ڈھونگ تھا؟ کانگریس کا بی جے پی لیڈروں سے سوال اقتدار سے محرومی سے اپناتوازن کھوئے ہوئے بی جے پی لیڈران کو دماغی علاج کی ضرورت

ممبئی: بی جے پی ایم ایل اے اتل بھاتکھلکر کی جانب سے مہاراشٹر میں مدارس کو دی جانے والی امداد بندکا کرنے کے مطالبے پر کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے سخت تنقید کی ہے اور سوال کیا ہے کہ کیا مودی کا سب کا وشواس کا نعرہ محض ایک ڈھونگ تھا؟۔ زوم کے ذریعے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ساونت نے اسے بی جے پی کے ریاستی لیڈران کی ذہنی توازن کھودینے سے تعبیر کیا ہے۔

ساونت نے کہا کہ اقتدارسے محرومی کے بعد سے اپنا ذہنی توازن کھوئے ہوئے مہاراشٹر بی جے پی لیڈران کو دماغی علاج کی ضرورت ہے۔ مہاراشٹر کی توہین کرنے والے بی جے پی لیڈران ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش میں اب اپنے ہی سینئرلیڈران کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں اور اس کوشش میں وہ سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کی توہین کرنے تک پہونچ گئے ہیں۔ اس کی تازہ مثال بی جے پی کے ایم ایل اے اتل بھاتکھلکر کا یہ بیان ہے جس میں انہوں نے ریاست کے مدرسوں کی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اتل بھاتکھلکر کے اس مطالبے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مودی کا سب کا وشواس کا نعرہ محض ایک ڈھونگ تھا؟ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا وریاستی صدر چندرکانت پاٹل کو چاہیے کہ وہ اس کے ڈھونگ ہونے کا اعتراف کریں یا پھر اتل بھاتکھلکر کے خلاف کارروائی کریں۔

ساونت نے کہا ہے کہ بی جے پی کے ہرکارکن کے دل میں گولولکر ہیں اوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بی جے پی کا کردار منافقانہ اور دوہرے معیار کا ہے۔ ملک کی آئین پر ان کا اعتمادنہ ہوتا تو جگ ظاہر ہے ہی، اپنی پارٹی کے آئین پر بھی انہیں اعتماد نہیں۔ بی جے پی کے لیڈران کو پارٹی کے آئین سے سیکولرازم کا لفظ انہیں نکال دینا چاہئے۔ مدرسوں کی امداد بندکرنے کے مطالبہ کرنے سے قبل اتل بھاتکھلکر اگراس معاملے میں اپنی پارٹی کے سینئر لیڈران کے موقف کی جانچ کرلیے ہوتے تو بہتر ہوتا۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اٹل بہاری واجپئی کے دورِ حکومت میں 20اگست2011کو اس وقت کے وزیرانسانی فلاح وبہبود مرلی منوہر جوشی نے یہ واضح کیا تھا کہ مدرسوں کے کام کاج میں کسی بھی طرح کی مداخلت کرنے کا کوئی ارداہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مرلی منوہر جوشی نے یہ بھی کہا تھا کہ مدرسوں کو جدید بناتے ہوئے مذہبی تعلیم میں کسی بھی طرح کی دخل نہ دیتے ہوئے سائنس، ریاضی وسوشل وجنرل سائنس جیسے موضوعات کی بھی تعلیم دی جانی چاہیئے۔ فروری 2002میں مرلی منوہر جوشی نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مرکزی حکومت تقریبا ایک ہزار مدرسوں کو امداد فراہم کررہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی لیڈران کو واجپئی کے موقف کے ساتھ نریندرمودی کے نعرے کا بھی کوئی لحاظ نہیں رہ گیا۔

سچن ساونت نے کہا کہ جب نریندرمودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے 2012کے انتخابات میں بی جے پی کے انتخابی منشور میں مدرسوں کے موڈرنائزیشن کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اسی کے ساتھ 2014کے پارلیمانی انتخاب میں بھی بی جے پی کے انتخابی منشور میں مدرسوں کے موڈرنائزیشن کا دوبار تذکرہ کیا گیا ہے۔ 11جون2019 کو مرکزی اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے مدرسوں کے موڈرنائزیشن کے لیے اقدامات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مدرسوں میں تعلیم دینے والے اساتذہ کو دیگر اداروں کی جانب سے ہندی، انگریزی، ریاضی، سائنس وکمپیوٹر کی تربیت دے کر مدرسوں کے طلبہ کو ان موضوعات کو فائدہ پہونچانے کے لیے اسکیم بنائی تھی۔ نریندرمودی نے مسلم نوجوانوں کے لیے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر کا ویژن پیش کیا تھا اور سب کے وشواس کا نعرہ دیا تھا۔ مودی کے قول وعمل کے تضاد کی وجہ سے ان کے اس نعرے کی مکمل ناکامی پہلے ہی واضح ہوچکی تھی، مگر اب اتل بھاتکھلکر نے اپنے بیان سے اس پر مہر لگادی ہے۔

اس آن لائن پریس کانفرنس میں ریاستی کانگریس کے سکریٹری ڈاکٹر ذیشان احمد بھی شریک تھے، انہوں نے بھی اتل بھاتکھلکر کے مذکورہ مطالبے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دراصل بی جے پی کے پاس اب کوئی موضوع نہیں رہ گیا ہے۔ سوشانت سنگھ راجپوت معاملے میں اس کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ ممبئی پولیس ومہاراشٹر کی حکومت کو بدنام کرنے کی اس کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ اس لیے اب وہ ریاست میں مذہبی منافرت کی سیاست پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔ ذیشان احمد نے مزید کہا کہ بھاتکھلکر کا یہ مطالبہ خود یہ واضح کرتا ہے کہ اقتدارسے محرومی نے انہیں بوکھلا دیا ہے اور اس بوکھلاہٹ میں وہ کچھ بھی بکنے لگے ہیں۔