بے تکان الزام لگانے والی بی جے پی ہرین معاملے میں اپنا کنکشن واضح کرے: سچن ساونت

دیوندرفڈنویس خاطیوں کی پشت پناہی کیوں کررہے ہیں؟، وہ جرم میں شامل نہ ہوں: کانگریس کی درخواست

ممبئی: انٹالیا کے سامنے دھماکہ خیز اشیاء سے بھری گاڑی اور منسوکھ ہرین موت معاملے میں بی جے پی کے لیڈران بغیر کسی ثبوت کے مہاوکاس اگھاڑی حکومت پر الزامات لگارہے ہیں۔ اب این آئی اے کے ذریعے ضبط شدہ مرسڈیز کار کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ 17فروری کو اس میں منسوکھ ہرین نے سفر کیا تھا۔ اس گاڑی کے ساتھ ایک فوٹو میں تھانے بی جے پی کا ایک عہدیدار نظر آرہا ہے۔ اس کے بارے میں بی جے پی فوری طور پر وضاحت کرے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔ اسی کے ساتھ سی ڈی آر کے بارے میں معلومات تفتیشی ایجنسی کو نہ دے کر اور وہ سی ڈی آر انہیں کس نے دیا؟ اس کے بارے میں نہ بتاکر دیوندرفڈنویس خاطیوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ یہ سخت تنقید کرتے ہوئے سچن ساونت نے فڈنویس کو اس جرم میں شامل نہ ہونے کی گزارش کی ہے۔

اس بارے میں میڈیا کو معلومات دیتے ہوئے سچن ساونت نے کہا ہے کہ منسوکھ ہرین موت معاملے میں حکومت کو متزلزل کرنے کے سیاسی مقصد کے تحت بی جے پی لیڈران بغیر کسی ثبوت کے بے تکان الزام لگانے میں مصروف ہیں۔ اس سے بی جے پی لیڈران کی غیرذمہ دارنہ حرکت واضح طور نظر آنے لگی ہے۔ فڈنویس نے اسمبلی میں کہا تھا کہ اس معاملے کا سی ڈی آر ان کے پاس ہے۔ سی ڈی آر حاصل کرنا خود ہی ایک جرم ہے اور ایک وکیل وریاست کے سابق وزیرداخلہ ہونے کی بناء پر فڈنویس کواس کے بارے میں مکمل معلومات ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے پاس جو سی ڈی آر ہے وہ انہوں نے تفتیشی ایجنسیوں کو نہیں دی ہے۔ منسوکھ ہرین موت معاملے کے مجرمین کو گرفتار کرنے کے لیے مذکورہ سی ڈی آر سے مدد حاصل کی جاسکتی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے ذریعے فڈنویس خاطیوں کی پشت پناہی کررہے ہیں؟

ساونت نے کہا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے 15مارچ2021کو ایک انتہائی اہم فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کسی ملزم کی ذاتی معلومات جس میں سی ڈی آر بھی شامل ہے، بغیر عدالت کی اجازت کے کسی تیسرے شخص کو کسی افسر نے دیا تو اسے خاطی تصور کیا جائے گا۔ فڈنویس نے یہ نہ بتاکر کہ انہیں سی ڈی آر کس افسر نے دی ہے، اس افسر کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ اس لیے ہم ان سے گزار ش کرتے ہیں کہ وہ جرم میں شامل نہ ہوں۔ اسی طرح 17مارچ 21کو منسوکھ ہرین جس مرسڈیز گاڑی سے سفر کیا وہ گاڑی این آئی اے نے ضبط کیا ہے۔ اس گاڑی کے ساتھ تھانے ضلع بی جے پی کے ایک عہدیدار کی فوٹو بھی سامنے آئی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بے تکان الزام لگانے والے بی جے پی لیڈران اس معاملے میں بی جے پی کنکشن کے بارے میں وضاحت کریں۔