مودی جی! کورونا کی وجہ سے ہزاروں لوگ مررہے ہیں، اب تو لوگوں کی زندگیوں کو سنجیدگی سے لیجیے: ناناپٹولے

اگرراہل گاندھی کی ہدایات کو سنجیدگی سے لیاگیا ہوتا تو لاکھوں زندگیاں بچ سکتی تھیں

ممبئی: ملک میں کورونا کی وبا پھیلنے کے ساتھ ہی کانگریس کی صدر محترمہ سونیاگاندھی وراہل گاندھی نے مودی حکومت کو پیش آمدہ خطرے سے آگاہ کرادیا تھا۔ اس کے بعد کوورنا بحران کے دوران مسلسل حکومت کو حفاظتی واحتیاطی تدابیر سے متعلق سجھاؤ دیا جاتا رہا مگر اقتدار کے اہنکار میں ڈوبے ہوئے نریندرمودی وبی جے پی کے لیڈران راہل گاندھی کو سنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ راہل گاندھی کے وقتا فوقتا کے سجھاؤ اگر مودی حکومت نے سنجیدگی سے لیا ہوتا تو آج ملک میں ہزاروں لوگوں کے موت کا بھیانک منظر سامنے نہیں آتا۔ اب تو مودی حکومت اپنی نیند سے بیدار ہوکر 130کروڑ عوام کی زندگیوں کو سنجیدگی سے لے۔ یہ اپیل آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کی ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر نے قہر برپاکررکھا ہے۔ کورونا کے مریضوں میں روزآنہ لاکھوں کا اضافہ ہورہا ہے جبکہ ہزاروں لوگوں کی موت ہورہی ہے۔ اسپتالوں میں بیڈس دستیاب نہیں ہے، ریمیڈیسیور انجکشن وآکسیجن کی قلت کی وجہ سے مریضوں کی جانیں جارہی ہیں اور آخری رسومات کے لیے بھی قطاریں لگ رہی ہیں۔ یہ دلدوز مناظر آج پورا ملک اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ لیکن مرکزی حکومت کو اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہے۔ ملک کورونا کی آگ میں بری طرح جل رہا ہے مگر ہمارے ملک کے وزیراعظم اور بی جے پی کے لیڈران انتخابات میں مصروف ہیں۔ غیرذمہ داری وبے فکری کا یہ مظاہرہ آج پورا ملک کررہا ہے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ کورونا کا بحران شروع ہوتے ہی ممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی مرکزی حکومت کو ممکنہ معاشی نقصانات وطبی میدان میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے مسلسل آگاہ کررہے ہیں لیکن ملک کے وزیراعظم عوام سے تالیاں، تھالیاں و قندیل جلانے کی تلقین کررہے تھے۔ 12فروری 2020کو راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو سنگین نتائج کا اشارہ دیا تھا۔آج ایک سال گزرنے کے بعد بھی وہی صورت حال جوں کی توں برقرار ہے۔ نوٹ بندی، غلط طریقے سے نافذ کیا گیا جی ایس ٹی اور اس پر عمل درآمد، بغیر کسی منصوبہ بندی وحکمت عملی کے اچانک لگایا گیا لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی معیشت تاریخی مندی کاشکار ہوگئی۔ لاک ڈاؤن میں ملک کی معیشت کو رواں رکھنے کے لیے راہل گاندھی نے غریبوں کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کرانے کی تجویز دی تھی لیکن اپنی عادت وسہولت کے مطابق مرکزی حکومت نے اس تجویز پر کوئی توجہ نہیں دی جس کا خمیازہ ملک کی غریب عوام بھگت رہی ہے۔

کورونا کو روکنے کے لیے فی الوقت ویکسینیشن کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں موجود ویکسین کو منظوری دے کر ملک میں ویکسینیشن کی رفتار بڑھانے کی تجویز راہل گاندھی نے دیا تھا۔ لیکن راہل گاندھی پر فارما کمپنیوں کے لیے لابنگ کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور اس کے چار دن بعد ہی مرکزی حکومت نے بیرونِ ممالک کے ویکسین کو منظوری دیدی۔ کورونا کی ویکسین 18سال سے زائد تمام لوگوں کو دینے کا ہم نے مطالبہ کیا تھا۔ اگر حکومت نے اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے کوئی فیصلہ نہیں کیا تو صورت حال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ملک بھرمیں کورونا تیزی سے بڑھ رہا ہے، ایسی صورت میں ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کے بجائے وزیراعظم نریندرمودی، وزیرداخلہ امیت شاہ و پوری بی جے پی پانچ ریاستوں کے انتخابات میں مصروف ہے۔ ملک کی عوام طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اپنی زندگی گنوارہے ہیں اور مودی کا ’موت کا فیسٹول‘ منانے کی ہوس ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے۔ غریب وبے سہارا عوام کی لاشوں پر کھڑے ہوکر انتخابی مہم چلانے والے کے طور پر وزیراعظم نریندرمودی ملک کی تاریخ میں درج ہوگا۔