دیوندرفڈنویس کے پاس سی ڈی آر کی جو معلومات ہے وہ تفتیشی ایجنسیوں کودیں: سچن ساونت

ممبئی: ریاست کے اپوزیشن لیڈر دیوندرفڈنویس نے اسمبلی میں علانیہ طور پر کہا تھا کہ مکیش امبانی کے گھر کے سامنے دھماکہ خیز اشیاء سے بھری گاڑی اور منسوکھ ہرین معاملے کے سی ڈی آر ان کے پاس ہے، جو ایک اہم ثبوت ہے۔ فڈنویس ریاست کے وزیراعلیٰ ہونے کے ساتھ ہی وزیرداخلہ بھی رہ چکے ہیں۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ سی ڈی آر کی معلومات اپنے پاس رکھنے کے بجائے تفتیشی ایجنسیوں کو حوالے کردیں اور مجرموں کے خلاف مقدمہ چلانے میں مدد کریں۔ یہ اپیل آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کی ہے۔

اس معاملے میں بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ سی ڈی آر حاصل کرنا ایک جرم ہے اور ایک شہری ہونے کے ناطے تفتیشی ایجنسیوں کو اس سی ڈی آر کے حصول کا سورس بتانا ان پر فرض ہے۔ اس لیے ان کے پاس جو ثبوت ہے وہ تفتیشی ایجنسیوں کو دیں۔ ساونت نے کہا کہ کانگریس کا موقف ہے جوبھی خاطی ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔ قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ کچھ دن قبل کرائم برانچ نے سی ڈی آر ریکیٹ بے نقاب کرتے ہوئے اس معاملے کے مجرموں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ عام لوگوں کے ساتھ ایک انصاف اور فڈنویس کے ساتھ دوسرا انصاف یہ کسی طور مناسب نہیں ہے۔ وہ وزیراعلیٰ و وزیرداخلہ رہ چکے ہیں۔ ایک ذمہ دار شخص ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان کے پاس جو معلومات ہوگی وہ تفتیشی ایجنسیوں کو دے کر اس معاملے میں مدد کریں گے۔

سچن ساونت نے کہا کہ آواز کو بلند کرکے چیخ وپکار کرنے سے اہم سوالات نہیں دبائے جاسکتے۔ یہ جمہوریت ہے اور جمہوریت میں آئین اہم ہے۔آئین کا قانونی نظام اور انصاف کا نظام سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ ہر شخص تفتیش کے فریم میں آسکتا ہے۔ فڈنویس بھی اس فریم میں بیٹھتے ہیں، فڈنویس کے پاس جو بھی معلومات ہے وہ تفتیشی ایجنسیوں کو دے کرانہیں عوام کے سامنے ایک مثال پیش کرنا چاہیے۔

مرکز کی مودی حکومت پاکستان نواز ہے: ناناپٹولے

مہاراشٹر کو کورونا ویکسین دینے میں بھی مرکزی حکومت کا دوہرا رویہ،بی جے پی نے مہاراشٹر کو بدنام کرنے کا ٹھیکہ لیا ہے

ممبئی: مہاراشٹر میں کورونا کے مریض روز بہ روز بڑھ رہے ہیں۔ قابو میں آیا ہوا کورونا کا بحران ایک بار پھر سنگین ہوتا جارہا ہے۔ مہاراشٹر میں بڑھتے کورونا کے مریضوں کی تعداد تشویشناک ہوچکی ہے مگر مرکزی حکومت مہاراشٹر کو ضرورت کے مطابق کورونا ویکسین فراہم نہیں کررہی ہے جو افسوسناک ہے۔ دوسری جانب مرکزی حکومت پاکستان کو کورونا ویکسین فراہم کررہی ہے۔ مرکز کی مودی سرکاردراصل پاکستان نواز سرکار ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔

ناناپٹولے نے آج وزیراعلیٰ سے ان کی سرکاری رہائش گاہ ورشا بنگلے پر ملاقات کی، جس کے بعدانہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مسلسل مہاراشٹر حکومت کی راہ میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ جب ریاست میں کورونا کا بحران شدید تھا تو اس وقت بھی ریاست کو پی پی ای کٹ وکورونا کی وبا کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی دیگر ادویات کی فراہمی میں بھی رکاوٹ پیدا کی گئی،مگر مہاراشٹر حکومت نے اس صورت حال میں بھی کورونا پر قابو پانے کی بڑی کامیابی حاصل کی۔ لیکن اب جبکہ ایک بار پھر کورونا کا بحران سر ابھار رہا ہے تو دوسری جانب ویکسی نیشن بھی جاری ہے، مگر ریاست کو درکار ویکسین کی تعداد فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ ویکسین کی فراہمی میں مرکز مہاراشٹر کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہی ہے۔ مرکزی حکومت کس طرح ویکسینشن کررہی ہے؟ یہ ہم جلد ہی اعداد وشمار کے ساتھ بے نقاب کریں گے۔

پٹولے نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران بجلی بل کے بارے میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شکایتیں موصول ہوئی تھیں۔ اس معاملے میں کانگریس کی کوشش ہے کہ لوگوں کو راحت دی جائے۔ گھریلو وکمرشیل استعمال کی بجلی بلوں کے بارے میں وزیراعلیٰ سے ہماری بات چیت ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ توانائی سے رپورٹ طلب کی ہے اورجلد ہی اس کے بارے میں مثبت فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ممبئی ومہاراشٹر کو مسلسل بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے اور گجرات کے اشارے پر مہاراشٹر کے بی جے پی کے لیڈران کام کررہے ہیں۔ سوشانت سنگھ راجپوت معاملے سے لے کر نہایت منصوبہ بند طریقے سے مہاراشٹر کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس دنیا کے بہترین پولیس فورس میں سے ایک ہونے کے باوجود اسے ویلن بنایا جارہا ہے۔ اپوزیشن لیڈرفڈنویس نے ممبئی پولیس کے بارے میں جو بیان دیا اس کی ہرجانب سے مذمت کی گئی۔ بی جے پی کے ذریعے مہاراشٹر پولیس کی جو توہین کی جارہی ہے وہ کانگریس کبھی برداشت نہیں کرے گی۔ ناناپٹولے نے کہا کہ سچن وازے کے معاملے کی آڑ لے کر بی جے پی ممبرپارلیمنٹ موہن ڈیلکر کا معاملہ دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ غیربی جے پی ریاستوں کے لیے ای ڈی، این آئی اے کوئی نیا نہیں ہے۔ کانگریس کا موقف ہے کہ جس نے کچھ کیا نہیں اسے ڈر کس بات کا۔ چاہے وازے ہوں یا کوئی اور کسی کی بھی پشت پناہی نہیں کی جائے گی۔