ٹوویٹ کے لیے مشہور شخصیات پر دباؤ ڈالنے کی بی جے پی کی سازش بے نقاب

بی جے پی آٹی سیل ودیگر12 لوگوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے: سچن ساونت

دیشا روی ومہاراشٹر کے کچھ لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے والی مودی سرکار ارنب کے معاملے میں خاموش کیوں؟

بی جے پی کا ٹول کٹ ملک کے لیے سب سے زیادہ زہریلا اور خطرناک

ممبئی: کانگریس کا یہ الزام کہ بی جے پی نے سلیبریٹیز پر دباؤ ڈال کرانہیں کسان آندولن کے خلاف ٹوئیٹ کرنے پر مجبور کیا تھا، بالآخر سچ ثابت ہوا اور پولیس کی ابتدائی تفتیش میں بی جے پی آئی ٹی سیل و 12 دیگر لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس سے بی جے پی کی ملک مخالف سازش کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس لیے بی جے پی آٹی سیل و 12 لوگوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔

پارٹی دفتر گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ کانگریس نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی نے مشہور شخصیات پر دباؤ ڈال کر کسان آندولن کے خلاف انہیں ٹوویٹ کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اس الزام کے کئی روز گزرنے کے بعد بھی ان مشہور شخصیات میں سے کسی نے بھی آگے آکر یہ نہیں کہا کہ اس نے ٹوئیٹ میں جو باتیں کہی ہیں وہ ان کا اپنا موقف ہے۔ قومی سطح پراتنا بڑا تنازعہ برپا ہونے کے باوجود بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا، مرکزی وزیر پرکاش جاؤڈیکروسابق وزیراعلیٰ دیوندر فڈنویس نے بی جے پی کی سازش پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، مگر ان سلیبریٹیز کی خاموشی بی جے پی کی شازش کے بارے میں بہت کچھ بیان کردیتی ہے۔ اس معاملے پر پردہ ڈالنے کے لیے بی جے پی کے لیڈران نے یہ ہنگامہ برپا کیا تھا کہ مہاراشٹر حکومت نے بھارت رتنوں کی تفتیش کرانے کا فیصلہ کہا ہے جبکہ کانگریس کی جانب سے بھارت رتنوں کی نہیں بلکہ ان کے ٹوئیٹ کے پیچھے بی جے پی کی سازش کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا اور حکومت نے بھی اس معاملے میں بی جے پی کی شمولیت کی تفتیش کا فیصلہ کیا تھا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے اس معاملے کی سچائی سامنے آچکی ہے کہ اور اب آگے کی تفتیش میں بی جے پی کی ملک مخالف سازش بے نقاب ہوئے بغیر نہیں رہے گی۔

سچن ساونت نے کہا کہ ملک کے لیے سب سے خطرناک وزہریلا ٹول کٹ بی جے پی کا ہے۔ اس ٹول کٹ کے ذریعے بی جے پی ملک کی جمہوریت کوختم کررہی ہے۔ مودی کی 56 انچ کی چھاتی کتنی کھوکھلی ہے؟ یہ انہوں نے دیشا روی نامی ۲۲ سالہ ماحولیات کی کارکن کو ملک غداری کے الزام میں گرفتار کرکے ثابت کردیا ہے۔ دیشا روی کے ساتھ ہی مہاراشٹر کے بھی کچھ لوگوں کو ملک سے غداری کے الزام کے تحت گرفتار کرنے کے پس پشت یہی شازش کار فرما ہے کہ نوجوانوں و اوسط طبقے کی آواز کو دبایا جائے اور کسانوں کے ساتھ وہ آواز شامل نہ ہو۔ ملک کے دانشوروں کی آوازکو اسی طرح سے مودی سرکار نے دبارکھا ہے۔ لیکن یہی مودی سرکار بالاکوٹ جیسے قومی سلامتی سے متعلق معلومات ارنب گوسوامی کو کیسے مل گئی؟ اس کی ذرا سی فکر بھی نہیں کرتی ہے۔ یہ معاملہ صریح طور پر آفیشیل سکریٹ ایکٹ کی دفعہ ۵ کی خلاف ورزی پے، اس کے باوجود اس پر مقدمہ کیوں درج نہیں ہوتا ہے؟ یہ سوال ملک کی عوام کے سامنے ہے۔ دہلی کے فساد میں کپل مشرا، مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکور یا ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے اور ایسے معلات کو ملک سے غداری کا روپ دیا جارہا ہے جن کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ یہ جمہوریت کا مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ فلم اداکار و بی جے پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ پریش راول نے ٹول کٹ کے معاملے میں جو ٹوئیٹ کیا ہے، اس پر بی جے پی کا کیا موقف ہے؟ یہ بھی سامنے آنا چاہیے۔ اس موقع پر سچن ساونت نے اپنے اس مطالبے کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ ارنب گوسوامی کے خلاف کارروائی کے معاملے میں مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت پہل کرے۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے کانگریس پارٹی پوری طرح تیار ہے: نانا پٹولے

حلقہئ انتخاب کی تنظیم نو میں غلطیوں کے معاملے میں کمیٹی کا قیام

ممبئی: ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی حکمت عملی طئے کرنے کے لیے آج کانگریس کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں تمام وارڈوں کا جائزہ لیا گیا اور ہروارڈ میں پارٹی کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی طئے کی گئی۔ میونسپل کارپوریشن کی تمام 227 سٹیوں پر کانگریس پارٹی تنہا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اطلاع آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے دی۔

ممبئی کانگریس کے دفتر میں میونسپل کارپوریشن انتخابات کی تیاریوں کے لیے منعقد ہوئی میٹنگ میں ناناپٹولے کی صدارت میں ہوئی جبکہ اس میٹنگ میں ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات، وزیرتعمیرات اشوک چوہان، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، ریاستی کارگزار صدر نسیم خان، چندرکانت ہنڈورے، سابق وزیر شریش شیٹی، ایم ایل اے امین پٹیل، ممبئی کانگریس کے کارگزار صدر چرن سنگھ سپرا، ممبئی کانگریس کے سابق صدر ایکناتھ گائیکواڑ، سنجئے نروپم، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری آشیش دووا، سونل پٹیل ودیگر عہدیداران موجود تھے۔

میٹنگ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ناناپٹولے نے کہا کہ اس میٹنگ میں حلقہ انتخاب کے تنظیم نو سے متعلق بات چیت ہوئی۔ حلقے کی تنظیم نو میں کئی خامیاں رہ گئی ہیں۔ ایس سی، ایس ٹی وخواتین کو اس میں خاطر خواہ نمائندگی نظر نہیں آرہی ہے۔ کانگریس پارٹی سبھی کو ساتھ لے کر چلنے والی پارٹی ہے اس لیے ہمارا موقف ہے کہ تمام طبقات کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں سینئر لیڈر جناردن چاندورکر کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس کمیٹی کی رپورٹ وزیراعلیٰ والیکشن کمیشن کو سونپی جائے گی۔ ممبئی شہر کی ترقی کو پیش نظر کس طرح یہ شہر مزید ترقی یافتہ ہو، اس کے لیے خاکہ تیار کیا جارہا ہے۔